مولانا ارشد کو اپنی ملاقات کے اغراض و مقاصد ملت کو تو بتانے ہوں گے...ظفر آغا

ارشد مدنی کا یہ فریضہ ہے کہ وہ محض جمعیۃ کے ارکان کو ہی نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ ہند کو جواب دیں کہ آخر سَنگھ کے ساتھ ملاقات کے کیا اغراض و مقاصد تھے اور ملاقات کا کیا نتیجہ نکلا!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ظفر آغا

لیجیے، جو بچی کھچی کسر تھی وہ حضرت مولانا ارشد مدنی نے پوری کر دی! جی ہاں، آپ خبر سے واقف ہی ہوں گے کہ مولانا ارشد مدنی آر ایس ایس کے دہلی ہیڈ کوارٹر کیشو کنج پر سنگھ سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کے لیے حاضری دے آئے ہیں ۔ مولانا مدنی اور بھاگوت ایک پبلک پلیٹ فارم پر آنے کے بارے میں غور کریں گے۔ ظاہر ہے کہ اس خبر کے آتے ہی چہ می گوئیاں شروع ہو گئیں۔ مسلم حلقوں میں یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ آخر مولانا کو ایسی کیا ضرورت پڑ گئی کہ وہ بہ نفس نفیس خود چل کر سنگھ کے آستانے پر حاضری دیں! اس کی ابھی تک نہ تو مولانا ارشد مدنی اور نہ ہی ان کی تنظیم جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے کوئی خاطر خواہ وضاحت ہوئی ہے اور نہ ہی سنگھ نے کوئی بیان دیا ہے۔ بہر کیف طرح طرح کی اٹکلیں اور قیاس آرائیاں جاری ہیں جن کا کوئی واضح جواب نہیں ہے۔

لیکن جس طرح یہ معاملہ سامنے آیا ہے وہ بات اپنے میں پریشان کن ہے۔ ہوا یوں کہ پچھلے ہفتے مولانا ارشد مدنی اور موہن بھاگوت کی ملاقات گزشتہ جمعہ کے روز سنگھ کے دہلی ہیڈ کوارٹر میں ہوئی۔ جمعہ کے روز اس ملاقات کی کوئی خبر کہیں سے نہیں آئی۔ اس کے دوسرے روز یعنی ہفتہ کے روز ایک ٹی وی چینل جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بی جے پی اور سنگھ سے قربت رکھتا ہے اس نے سب سے پہلے یہ خبر نشر کی۔ جلد ہی اس خبر کا نیوز کلپ خود جمعیۃ کی ویب سائٹ پر بھی نظر آیا۔ بس اس کے بعد یہ خبر پھیل گئی اور مولانا-بھاگوت میٹنگ کا شور مچ گیا۔ یعنی اس سے یہ واضح ہے کہ میٹنگ کے بارے میں جمعیۃ کی طرف سے پہلے کوئی اعلان نہیں ہوا۔ غالباً جمعیۃ اور مولانا اس میٹنگ کو صیغۂ راز میں رکھنا چاہتے ہوں۔ لیکن سنگھ نے جان بوجھ کر اپنے پسندیدہ چینل کے ذریعہ اس میٹنگ کی خبر کو لیک کروا کر بھانڈا پھوڑ دیا۔ اب جمعیۃ کے لیے اس بات سے انکار کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔ لیکن ابھی تک اس سلسلے میں جمعیۃ نے کوئی بڑا بیان اس کالم کے لکھے جانے تک جاری نہیں کیا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ ’دی کونٹ ‘ کو دئے گئے ایک انٹرویو میں مولانا ارشد مدنی نے ایک ناقابل یقین بیان بھی دیا ہے ۔ اس بیان میں مولانا نے کہا کہ آر ایس ایس اپنے نظریہ میں تبدیلی لا سکتی ہے۔جو کام مہاتما گاندھی اور نہرو جیسے قدآور رہنما آر ایس ایس سے نہیں کر وا پائے اس کے بارے میں مولانا ایک ملاقات کے بعد کیسے اتنے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں ! آخر کس مغالطہ میں ہیں مولانا ارشد مدنی !

مگر سوال یہ ہے کہ وہ جمعیۃ جو کل تک عدالت سے لے کر باہر تک سنگھ کی مخالفت کرتی رہی ہے آخر اس کے سربراہ راتوں رات خود سنگھ کے دربار میں حاضری دینے کیسے چلے گئے۔ ہماری خبروں کے مطابق مولانا ارشد مدنی اور سَنگھ کے درمیان کچھ لوگوں کی توسط سے بات چیت پچھلے لوک سبھا الیکشن کے پہلے سے چل رہی تھی جس کا نتیجہ یہ رہا کہ آخر مولانا ارشد مدنی اور بھاگوت کی ملاقات ہوئی اور دونوں حضرات کے درمیان کوئی ڈیڑھ گھنٹے تک بات چیت چلی!

ظاہر ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ کوئی چھوٹا-موٹا واقعہ نہیں ہے۔ کیونکہ جمعیۃ علماء ہند کوئی معمولی جماعت نہیں ہے۔ اس کا تعلق مدرسہ دارالعلوم دیوبند سے بھی ہے اور دارالعلوم دیوبند مغلوں کے زوال کے بعد سے مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مرکزی حیثیت کا اس حد تک حامل ہے کہ اس سے عقیدت رکھنے والے عموماً دیوبندی مسلمان کہلاتے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند اس کی ایک نیم سیاسی و سماجی تنظیم ہے جو جنگ آزادی کے دور سے سرگرم ہے۔ یہ وہ تنظیم ہے کہ جس نے جنگ آزادی کے خلاف کھل کر قیام پاکستان اور محمد علی جناح کی مخالفت کی تھی۔ مدرسہ دارالعلوم اور جمعیۃ سے تعلق رکھنے والے علماء نے انگریزوں کی اس حد تک مخالفت کی کہ قید و بند کی صعوبتیں اٹھائیں لیکن کبھی انگریزوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔

خود مولانا ارشد جس خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، اس کا بھی جنگ آزادی سے گہرا تعلق ہے۔ خود مولانا ارشد صاحب کے والد مولانا حسین احمد مدنی جنگ آزادی میں نہ صرف پیش پیش تھے بلکہ انھوں نے گاندھی جی کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر جنگ آزادی میں شرکت کی۔ ملک کی آزادی اور خلافت تحریک میں مولانا حسین احمد پیش پیش رہے ۔ مولانا ارشد مدنی ایسی عظیم المرتبت والد کے بیٹے ہیں جو آج سنگھ کے دربار میں حاضری دینے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ پر ایسا کون سا وقت آن پڑا ہے کہ الیکشن کے بعد سے ان کے دلوں میں آر ایس ایس کے لئے یکایک نرم گوشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مولانا ارشد مدنی کوئی پہلی شخصیت نہیں ہیں جن کا رابطہ حال میں سَنگھ یا مودی سے ہوا ہے۔ اس سے قبل جب نریندر مودی دوسری بار ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تو ان کی پہلی تقریر، جس میں انھوں نے مسلمانوں کے سلسلے میں بھی کچھ باتیں کہی تھیں، اس کا استقبال مولانا ارشد مدنی کے بھتیجے اور جمعیۃ کے دوسرے سربراہ مولانا محمود مدنی نے مودی کو ایک خط لکھ کر کیا تھا۔ پھر اس کے بعد یہ خبر آئی تھی کہ سنگھ کے ایک سربراہ عید کے بعد یکایک دارالعلوم دیوبند پہنچ گئے تھے جہاں ان سے دارالعلوم کے علماء کی گفتگو ہوئی۔ یعنی یہ واضح ہے کہ نریندر مودی اور سنگھ و دارالعلوم اور جمعیۃ علماء ہند کے درمیان کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ اس کا سلسلہ اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ مولانا ارشد مدنی اور موہن بھاگوت نے اب کھل کر ایک دوسرے سے ملنا بھی شروع کر دیا ہے۔ بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یہ دونوں حضرات اکٹھا مل کر ایک پلیٹ فارم سے ہندو و مسلمان کے درمیان ’امن و آشتی‘ کا پیغام دینے پر غور و خوض کر رہے ہیں۔ کم از کم اخباروں میں ان دونوں کی میٹنگ کے تعلق سے جو خبریں چھپی ہیں وہ یہی کہتی ہیں۔

اب ذرا غور فرمائیے وہ سَنگھ جو مسلمانوں کی شریعت سے متعلق پرسنل لاء ختم کرنے کو کوشاں ہے، جس سنگھ نے ایودھیا میں بابری مسجد کی مخالفت کی اور جس کی ایک تنظیم وشو ہندو پریشد نے ایودھیا سے بابری مسجد ہٹانے کی تحریک چلائی، جس کے نتیجے میں بابری مسجد ڈھا دی گئی، اور ہزاروں مسلمان مارے گئے، وہ سنگھ جس کی ایما پر مسلمانوں سے تین طلاق کا شرعی حق ختم کر دیا گیا، وہ سنگھ جس نے گجرات فسادات کی مذمت میں آج تک ایک لفظ نہیں کہا، اور وہ سنگھ جو مسلمانوں کو اس ملک میں دوسرے درجے کا شہری گردانتی ہو، اسی سنگھ کو اب ہندو-مسلم امن و آشتی کی اتنی فکر ہو گئی ہے کہ وہ مولانا ارشد مدنی کے ساتھ مل کر ایک پلیٹ فارم سے کام کرنے کو کوشاں ہے۔ یہ بات مولانا ارشد مدنی کے گلے سے تو اتر سکتی ہے لیکن عام مسلمان کی سمجھ سے باہر ہے۔ مولانا ارشد مدنی جمعیۃ کے سربراہ ہیں جس حیثیت میں انھوں نے موہن بھاگوت سے ملاقات کی تھی۔ ان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس سلسلے میں محض جمعیۃ کے ارکان کو ہی نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ ہند کو جواب دیں کہ آخر سَنگھ کے ساتھ ملاقات کے کیا اغراض و مقاصد تھے اور ان کی سَنگھ کے ساتھ ملاقات کا کیا نتیجہ رہا۔

Published: 5 Sep 2019, 8:10 PM