آئین، جمہوریت اور سماجی تانا بانا بچانے کے لئے ممتا کی اپیل پرغورکرنے کی ضرورت

الیکشن کے بعد سبھی پارٹیوں کو اس مسلہ پر سنجیدگی سے غور کر کے کوئی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے یہی وقت کا تقاضہ اور ملک کی ضرورت ہے۔

ممتا بنرجی، تصویر یو این آئی
ممتا بنرجی، تصویر یو این آئی
user

عبیداللہ ناصر

سیاسی مبصرین، ماہرین اور صحافی برادری اس بات پر حیرت زدہ ہے کہ ترنمول کانگریس کی صدر اور بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے عین پولنگ کے درمیان ملک میں آئینی جمہوریت بچانے کے نام پر بی جے پی کے خلاف سبھی پارٹیوں کے درمیان اتحاد کی بات کیوں کہی۔ بی جے پی اور بی جے پی نواز میڈیا خاص کر چینلوں نہ اسے ممتا کی جانب سے بنگال اسمبلی الیکشن میں اعتراف شکست کے طور پر پیش کیا، مباحثہ کروائے کہ دیدی نے دوسرے مرحلہ میں ہی شکست تسلیم کر لی ہے اور بقیہ مرحلوں کے لئے وہ اپنی ڈوبتی ناؤ بچانے کے لئے غیر بی جے پی پارٹیوں کے مابین اتحاد کی بات کر رہی ہیں۔ غیر جانب دار سیاسی مبصرین اور صحافی بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ممتا کی یہ اپیل بہت نا مناسب وقت پر آئی ہے، جس کا نہ صرف بی جے پی نواز میڈیا نا جائز فائدہ اٹھا کر ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرے گا بلکہ خود ان کے ووٹروں میں بھی غلط پیغام گیا ہے اور تذبذب کا شکار ووٹر بی جے پی کی جانب راغب ہو سکتے ہیں۔

یوں تو پانچ ریاستوں میں اسمبلی کے الیکشن ہو رہے ہیں لیکن پورے ملک کی توجہ بنگال اسمبلی کے الیکشن پر مرکوز ہے کیونکہ بی جے پی اپنی پوری طاقت سے یہ الیکشن لڑ رہی ہے اور ہر حال میں بنگال کا قلعہ فتح کرنا چاہتی ہے، اس کے لئے وہ گزشتہ تین برسوں سے پوری طاقت بنگال میں جھونکے ہوئے ہے، مرکزی وزرا، پارٹی کے اعلی ترین قیادت، ریاستی گورنر اور خود وزیر اعظم مودی ممتا بنرجی کو گھیرنے میں لگے ہوۓ ہیں، پارٹی کے ہزاروں نوجوان کارکنوں کو بنگال بھیجا گیا، جنہوں نے وہاں پر ہندوتوا کی جوت جگائی، الیکشن کا اعلان ہوا تو الیکشن کمیشن نے بھی کھلی ہوئی جانب داری دکھائی، 233 رکنی تمل ناڈو اسمبلی کا الیکشن تین مرحلوں میں اور 294 رکنی بنگال اسمبلی کا الیکشن آٹھ مرحلوں میں، الیکشن کمیشن چاہے جو جواز پیش کرے، لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے لیڈروں کو چناوی مہم کا زیادہ سے زیادہ وقت دینے کے لئے یہ شیڈول تیار کیا گیا ہے۔

ادھر کانگریس اور بائیں محاذ نے انتخابی اتحاد کر کے ممتا بنرجی کی مشکلات بڑھا دی ہیں، سونے پر سہاگہ انتخابی میدان میں فرفرا شریف درگاہ کے سجادہ نشیں پیرزادہ عباس صدیقی نے انڈین سیکولر فرنٹ بنا کے اور بائیں محاذ و کانگریس والے اتحاد میں شامل ہو کر ممتا بنرجی کی مشکلات میں اور اضافہ کر دیا ہے۔ اس وقت بنگال کی یہ شیرنی سہ رکھی مقابلہ میں اپنی کرسی بچانے کی اپنی سیاسی زندگی کی سخت ترین سیاسی لڑائی لڑ رہی ہے۔ بی جے پی نے اقتدار دولت، میڈیا، نفری قوت کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے غیر اخلاقی، غیر مہذب، غیر آئینی ہتھکنڈے پوری بے شرمی کے ساتھ استعمال کر ر ہی ہے اور الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ جس الیکشن کمیشن نے مذھب کے نام پر ووٹ مانگنے کے جرم میں بال ٹھاکرے جیسے لیڈر سے الیکشن لڑنے کا حق چھین لیا تھا اور جس عدالت نے ایک معمولی تکنیکی خامی کی بنا پر آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا الیکشن کالعدم قرار دے دیا تھا وہی سب بنگال میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی بے شرمی سے دھجنیاں اڑتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

بنگال سے موصول اطلاعات کے مطابق سہ رخی مقابلہ میں ممتا بنرجی کی پوزیشن خاصی مستحکم ہے، مگر سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے جس طرح بہار میں آخری وقت میں بی جے پی نے کھیل کر دیا اور تیجسوی یادو جیتی ہوئی بازی ہر گئے، ویسا ہی کچھ بنگال میں بھی ممکن ہے کیونکہ بی جے پی بنگال کسی بھی قیمت پر نہیں ہارنا چا ہے گی، چاہے اس کے لئے اسے ای وی ایم میں ڈاکہ ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔ بی جے پی جانتی ہے کہ تمل ناڈو میں اور کیرالہ میں اس کی دال نہیں گلنی۔ آسام میں بھی اسے کوئی امکان نہیں دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ وہاں کانگریس اجمل کی پارٹی اور بوڈو پارٹی کے اتحاد نے شروع سے ہی بڑھت بنا رکھی ہے، پدوچیری میں ضرور اسے امکان دکھائی دے رہا ہے، لے دے کے اس کی ساری امیدیں بنگال سے ہی وابستہ ہیں اور اس نے وہاں محنت بھی بہت کی ہے، سماج میں مذہب کے نام پر زبردست تفریق بھی پیدا کر دی ہے۔ بی جے پی جیتے یا ہارے لیکن اس نے بنگالی سماج میں وہ زہر بھر دیا ہے جس سے وہ سماج اب تک پاک تھا۔

میڈیا میں بھلے ہی ایک حکمت عملی کے تحت بنگال میں مقابلہ ممتا بنرجی اور بی جے پی کے درمیان دکھایا جا رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہاں کانگریس، بایاں محاذ اور انڈین سیکولر فرنٹ کا اتحاد بھی پوری طاقت سے میدان میں ہے، بریگیڈ میدان میں اس کی تاریخی ریلی کا ریکارڈ نہ ممتا توڑ پائی ہیں اور نہ ہی بی جے پی۔ اس محاذ نے اس بار نوجوانوں کو طاقت دینے میں ترجیح دی ہے، جس کا خاصہ اثر نوجوان طبقہ پر پڑا ہے، بی جے پی کا پورا فوکس چناؤ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے پر ہے، یوگی جی کو اسٹار پرچارک بنانے کا مقصد کٹر ہںدتوا وادی ماحول بنانا ہے جبکہ دیگر پارٹیاں فلاحی اسکیموں پر ووٹ مانگ رہی ہیں اور کانگریس کا محاذ روزگار، مہنگائی اور کارپوریٹ لوٹ وغیرہ کو انتخابی موضوع بنائے ہوئے ہے۔

اب سوال اٹھتا ہے کہ ممتا نے انتخابی مہم کے دوران اپوزیشن کے اتحاد کی بات کیوں کہی۔ اس بے وقت کی راگنی کا کوئی ٹھوس جواب ممتا کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ہے۔ مگر اس سوال کا جواب ممتا کے سیاسی سفر کو سمجھنا ضروری ہے۔ ممتا بنرجی کانگریس کی تیز طرار لیڈر تھیں۔ جب بنگال کمیونسٹ پارٹی کی طوطی بولتی تھی اور کمیونسٹ پارٹی کے کارکن کانگریس کے کارکنوں پر زیادتیاں کرتے تھے، انھیں تشدّد کا نشانہ بناتے تھے، تب ممتا بنرجی ان سے کھل کر ٹکر لیتی تھیں۔ انھیں کانگریس کی ریاستی قیادت سے یہ شکایت رہی کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کا کھل کر مقابلہ کرنے میں آنا کانی کرتی ہے۔ ریاستی صدر روبن مترا سے انھیں خاص شکایت رہی اور آخر کر انہوں نے کانگریس سے علاحدگی اختیار کرکے ترنمول کانگریس کی تشکیل کی اور اپنی جوجھارو شخصیت اور سادگی بھری زندگی سے عوام کے ایک بڑے طبقہ کو متاثر کیا، کانگریس کے ریاستی لیڈران کو ترنمول کانگریس میں مستقبل دکھائی دیا اور وہ سب ممتا کے ساتھ چلے گئے۔ ترنمول کانگریس بنانے کے بعد ممتا کی سیاسی حکمت عملی کانگریس اور لیفٹ کو درکنار کرکے رہی اور اس کے لئے انہوں نے بی جے پی سے کھلی اور خفیہ دونوں طرح کی دوستی کی، وہ اٹل جی کی کابینہ میں ریلوے کی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ آر ایس ایس کو بنگال میں قدم جمانے میں ممتا نے خاصی مدد کی اور آج وہ انہیں کو نگلنے کے لئے بیتاب ہے۔

ممتا بنرجی کے ماضی کے سیاسی ہتھکنڈوں سے قطع نظر ان کی اپیل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، یہ درست ہے کہ اس وقت ہندوستان کی آئینی جمہوریت ہی نہیں، ہندوستان کی اقتصادی آزادی، ہماری سرحدیں اور سماجی تانا بانا شدید خطرے سے دو چار ہے۔ نہ صرف اندروں ملک اس خطرہ کو محسوس کیا جا رہا ہے، بلکہ اب تو عالمی ادارہ بھی کھل کر ہندوستان میں جمہوریت، شخصی آزادی وغیرہ کو لاحق خطروں سے کھل کر دو چار کر رہے ہیں۔عالمی پیمانہ پر ہندوستان کو کبھی اتنے برے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، جتنا ان دنوں کرنا پڑ رہا ہے اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سنگھ پریور اپنے خوابوں کا ہندوستان بنانے کے لئے ہر اس حد کو پار کر رہا ہے، جو ہندوستان کو ہندوستان بنائے ہوئے تھیں اور جس کی وجہ سے ہم نہ صرف عالمی برادری میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، بلکہ قائدانہ کردار بھی ادا کرتے تھے۔ جس طرح سے سبھی آئینی اداروں کو ازکار رفتہ کر کے جمہوریت کو محض سروں کی گنتی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور جس طرح عدلیہ کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی گئی، میڈیا کو خرید لیا گیا، اپوزیشن کو ملک اور مذہب کا دشمن بنا کے پیش کیا گیا۔ جس طرح فرقہ پرستی کو سرکاری سرپرستی فراہم کی جا رہی ہے وہ سب ایک خطرناک مستقبل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، ہندوستان کو شری لنکا، میانمار کے راہ پر لے جایا جا رہا ہے، ان سب کے خلاف متحدہ کوشش وقت کا تقاضہ ہے اور ممتا نے اسی طرف حزب اختلاف کی توجہ مبذول کرائی ہے، الیکشن بعد سبھی پارٹیوں کو اس مسلہ پر سنجیدگی سے غور کر کے کوئی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے، یہی وقت کا تقاضہ اور عوام کی مانگ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔