مہاراشٹر: پرانی دشمنی، نئے اتحاد اور بڑے داؤ... نوین کمار
دسمبر میں میونسپل کونسل کے نتیجوں میں کانگریس نے تنہا انتخاب لڑ کر اور شیوسینا یو بی ٹی اور این سی پی-ایس پی سے زیادہ پنچایتیں جیت کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

مہاراشٹر میں 15 جنوری کو 29 میونسپل کارپوریشنز کے انتخاب ہونے والے ہیں۔ اس میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہندوستان کے سب سے امیر بلدیہ کے لیے اس لڑائی میں کانگریس نے 1999 کے بعد پہلی بار پرکاش امبیڈکر کی بی وی اے (بہوجن وکاس اگھاڑی) کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے، جبکہ الگ تھلگ پڑے ٹھاکرے بھائی، یعنی ادھو اور راج 20 سال بعد ایک ساتھ آئے ہیں۔
برسراقتدار مہایوتی کے ساتھی بی جے پی، شیوسینا (شندے) اور این سی پی (اجیت پوار) بی ایم سی کے لیے مل کر انتخاب لڑیں گے۔ بی جے پی کئی شہروں میں تنہا انتخاب لڑ رہی ہے۔ اسے بھروسہ ہے کہ وہ جیت سکتی ہے۔ اجیت پوار نے پونے میں این سی پی (شرد پوار) کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے، جہاں ان کا مقابلہ کانگریس-شیوسینا یو بی ٹی اتحاد سے ہوگا۔ دسمبر 2025 میں اعلان کردہ میونسپل کونسل اور نگر پنچایت انتخابات کے نتائج 2024 کے اسمبلی انتخاب کے نتیجوں جیسے ہی تھے، جن میں مہایوتی کا دبدبہ رہا۔ حالانکہ نتائج سے دیہی مہاراشٹر میں مہایوتی کی گرفت کا پتہ چلا، لیکن کانگریس نے تنہا انتخاب لڑ کر شیوسینا یو بی ٹی اور این سی پی-ایس پی سے زیادہ پنچایتیں جیت کر سب کو حیران کر دیا۔ شرد پوار اور صنعت کار گوتم اڈانی کے درمیان نزدیکی اور آنے والے انتخابات پر اس کے ممکنہ اثرات کو لے کر چل رہی قیاس آرائیوں کی وجہ سے ہی کانگریس نے قصداً الگ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔
شیوسینا یو بی ٹی کے سامنے وجود کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے اسے بی ایم سی پر قبضہ بنائے رکھنے کے لیے راج ٹھاکرے کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا، جو 25 سالوں سے اس کے کنٹرول میں تھی گزشتہ 3 سالوں سے بی ایم سی بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کے الگ ہوئے گروپ کے کنٹرول میں ہے۔ اس سے اسے زیادہ تنظیمی اور مالی طاقت ملتی ہے۔ شیوسینا یو بی ٹی کے رکن پارلیمنٹ اور ’سامنا‘ کے مدیر سنجے راؤت تو شکست ہی مان لی تھی، جب انھوں نے کہا کہ کارپوریشن انتخاب کے نتائج الگ ہونے کا امکان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں بی جے پی کس طرح جیتتی ہے، جو ووٹوں میں ہیرا پھیری کی طرف اشارہ تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’جہاں میونسپل کارپوریشن کا بجٹ تقریباً 25 کروڑ روپے ہے، وہیں بی جے پی نے کچھ ہی ہفتوں میں 200 کروڑ روپے خرچ کر دیے۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح بی ایم سی کا تقریباً پورا 1490 کروڑ روپے کا ڈیولپمنٹ بجٹ بی جے پی، شیوسینا (شندے) اور این سی پی (اجیت پوار) کے وارڈوں میں چلا گیا، جبکہ ایم وی اے کے وارڈوں کو صرف 13 کروڑ روپے ملے۔ اس کے باوجود ممبئی میں لوگوں میں غصہ نہیں ہے۔ اس کی جگہ سیاسی مہم ووٹرس کو فرقہ وارانہ اور نسلی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہیں، یعنی مراٹھی بنام غیر مراٹھی، ہندو بنام مسلم، گجرات بنام غیر گجراتی۔
اس درمیان ٹکٹ تقسیم کو لے کر الگ الگ پارٹیوں میں مزید ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ بی جے پی نے اسمبلی اسپیکر اور بی جے پی رکن اسمبلی راہل نارویکر کے 3 رشتہ داروں بھائی مکرند، بھابھی ہرشیتا نارویکر اور چچازاد بہن گوروی کو ٹکٹ دیا ہے۔ پارٹی نے سابق لوک سبھا رکن کریٹ سومیا کے بیٹے اور سابق بی جے پی رکن اسمبلی راج پروہت کے بیٹے کو بھی ٹکٹ دیا ہے، جس سے اقربا پروری کو فروغ دینے کے لیے تنقید ہو رہی ہے۔
اجیت پوار کی این سی پی نے پارٹی لیڈر نواب ملک کے کنبہ کے 4 اراکین کو بھی نامزد کیا ہے، جس میں ان کی بیٹی ثنا ملک بھی ہیں جو موجودہ رکن اسمبلی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مقامات پر ’ممبئی کو ممدانی جیسا میئر چاہیے‘ کی باتیں چل رہی ہیں۔ لندن میں کئی سالوں سے مسلم میئر ہیں۔ بی جے پی نے ممبئی میں مسلم میئر کے امکان سے انکار کر دیا ہے، جبکہ شہر میں 1934 سے 1963 کے درمیان 6 مسلم میئر منتخب ہوئے تھے۔ اس وراثت کو تاریخ داں رام چندر گوہا نے پہلے میئر یوسف مہر علی پر لکھتے وقت یاد کیا تھا۔
جیسے جیسے میونسپل انتخاب قریب آ رہے ہیں، تشہیری مہم تیز ہونے کی امید ہے۔ ممبئی کی جنگ ریاست کی پیچیدہ سیاست کو دکھاتی ہے۔ یعنی نئے اتحاد، پرانی دشمنی پھر سے زندہ ہونا اور شناخت کی بنیاد پر صاف بٹوارا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔