مہاراشٹر کی مہابَھارت

قوم پرستی کی مالا جپنے والے ان جعلی دیش بھکتوں پر کنتی کا وہ جملہ صادق آتا ہے کہ ’چھوڑا ہوا تیر واپس کمان میں نہیں آسکتا‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اعظم شہاب

بھارت کی کچھ قدیم پرمپراؤں میں سے ایک پرمپرا یہ بھی ہے کہ یہاں شادی کے لیے سوئمبر رچایا جاتا تھا۔ اس کا اہتمام عام دوشیزاوں کے لیے نہیں بلکہ شہزادیوں کے لیے ہوتا تھا۔ مہابھارت کا سوئمبر بہت زیادہ مشہور ہے کیونکہ اس میں پانڈو وں کی ماں کنتی نے لاعلمی کے سبب دروپدی کو پانچ بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ مہاراشٹر میں اقتدار کے فی الحال پانچ دعویدار ہیں۔ ان میں سب بڑا یدھشٹر بی جے پی کی طرح ہے لیکن وہ اپنے بل بوتے پر اکثریت سے محروم ہے۔ اس کی انانیت اور بغض اسے شیوسینا کا تعاون لینے سے روکتا ہے۔ اس لیے سوئمبر میں کامیابی تقریباً تیر کمان سے لیس شیوسینا کے حصے میں آگئی ہے۔ ان دونوں کے علاوہ کانگریس، این سی پی اور آزاد ارکان اسمبلی بھی اقتدار کے حصے دار بننا چاہتے ہیں۔ ست یگ میں پانچال کے راجا دروپد کی بیٹی دروپدی کی مانند ہی کل یگ میں بھی اقتدار کی ملکہ نہایت حسین و جمیل ہے اور ہر سیاستداں دل و جان سے اس پر فریفتہ ہے۔

مہاراشٹر کے گونر بھگت سنگھ کوشیاری نے انتخاب کے پندرہ دن بعد بیزار ہوکر راجا دروپد کی طرح سوئمبر کا اعلان کردیا اور مختلف سیاسی جماعتوں کو یکے بعد دیگرے حکومت سازی کی دعوت دی۔ کوشیاری کی شرط تو صرف یہ تھی وہ اپنے حامی ارکان اسمبلی کی فہرست مع دستخط ان کے سامنے پیش کریں۔ اس کے برعکس راجا دروپد نے دروپدی سے شادی کرنے کے خواہشمند شہزادوں کو بڑی کٹھن آزمائش میں ڈالا۔ اس نے اعلان کیا کہ اپنی بیٹی کی شادی اس شہزادے سے کرے گا جو اونچے بانس پر لگے گھومتے چکر میں لٹکی مچھلی کی بائیں آنکھ میں، نیچے پانی سے بھرے برتن کے اندر عکس دیکھ کر تیر مارے گا۔ یہ شرط بظاہر بہت مشکل تھی اس لیے باری باری راج کمار اٹھتے اور قسمت آزمائی کے بعد ناکام ہوکر بیٹھ جاتے۔ مہاراشٹر میں حکومت سازی کی شرط بہت آسان تھی اس کے باوجود پہلے بی جے پی کے دیویندر فڈنویس، اس کے بعد شیوسینا کے ادتیہ ٹھاکرے اور پھر این سی پی کے اجیت پوار اپنی اکثریت کا خط پیش کرنے میں ناکام ہوگئے۔ یہ دیکھ کر گورنر کوشیاری بھی راجہ دروپد کی طرح دکھی ہوگئے اور صدر راج کی سفارش کردی۔

اس مرحلے میں مہاراشٹر کی سیاست کے بھیشم پتامہ آگے آئے۔ انہوں شیوسینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے کو اپنا نشان تیر کمان اٹھانے کا حوصلہ دیا۔ کانگریس کے درونا چاریہ احمد پٹیل سے رابطہ کیا اور حکومت سازی کی راہ ہموار کردی۔ ارجن کی مانند جب ادھو ٹھاکرے نے مچھلی کی آنکھ میں نشانہ باندھا تو سب سمجھ گئے کہ یہ تیر بہ ہدف ہرگز رائیگاں نہیں جائے۔ اب ہر کوئی اس بات کا منتظر تھا کہ جلد ہی ارجن اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے گا اور اقتدار کی دروپدی اپنی ورمالا اس کے گلے میں ڈال دے گی۔ مہابھارت کا ارجن چونکہ اس وقت براہمن کے بھیس میں تھا اور دروپد کسی راجپوت سے اپنی بیٹی کا بیاہ کرنا چاہتا تھا اس لیے بے چین ہوگیا۔ کوشیاری کی حالت دروپد سے مختلف نہیں تھی لیکن فرق یہ تھا کہ وہ دیویندر فڑنویس جیسے براہمن کو ہی سوئمبر میں کامیاب کرنا چاہتے تھے۔ ادھو ٹھاکرے جیسے کایستھ یا اجیت پوار جیسے مراٹھا کو اس عہدے پر فائز کرنا انہیں گوارہ نہیں تھا۔ اس لیے سوئمبر میں دھوکہ کیا گیا اور ادھو کے ذریعہ نشانہ لگانے سے قبل راتوں رات اجیت کی مدد سے مچھلی غائب کردی گئی۔

یہ فریب کاری چونکہ کوشیاری کو اعتماد میں لے کر بڑی ہوشیاری سے کی گئی تھی اس لیے ادھو کا نشانہ خطا ہوگیا۔ اس طرح گو یا مہاراشٹر کے اندر اقتدار کی ملکہ کا ہی اغواء ہوگیا۔ اسی کے ساتھ بارات میں شامل ارکان اسمبلی کی بھی کھینچا تانی شروع ہوگئی۔ ان میں سے ایک رکن اسمبلی انل پاٹل ہیں جن کے اہل خانہ نے پولس تھانے میں جاکر گمشدگی کی شکایت درج کرادی۔ اس کے بعد انل پاٹل نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ انہیں شری نواس پوار کے گھر پر یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر ان بیٹا گاڑی لے کرشری نواس پاٹل کی کوٹھی پر پہنچ گیا اور وہاں اپنے والد کی رہائی کے لیے گہار لگانے لگا۔ یہ ہے اقتدار کی خاطر جاری کل یگ کا ’لو جہاد‘ جس میں دلہن کے علاوہ باراتیوں کو بھی اغواء کرکے یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔

دروپدی کو اس بات کی مطلق پرواہ نہیں تھی کہ تیرانداز راجپوت ہے یا براہمن۔ مچھلی پر نشانہ لگتے ہی وہ خوشی سے پھولی نہیں سمائی اور آگے بڑھ کر ارجن کے گلے میں جے مالا ڈال دی۔ یہ دیکھ کر سوئمبر میں موجود راج کمار وںنے غصے سے لال پیلا ہو کر اعتراض کیا کہ ’دروپدی کی شادی راجپوت کے بجائے برہمن سے نہیں ہوسکتی‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منڈل اور کمنڈل کا یہ سنگھرش بہت پراچین ہے۔ ست یگ سے جاری و ساری یہ سلسلہ کل یگ میں رکنے کا نام نہیں لیتا۔ لڑنے مرنے پر آمادہ شہزادوں کو اس وقت کے بزرگوں نے سمجھایا کہ ’دیکھو کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ برہمن نوجوان نے چونکہ سوئمبر کی شرط کو پورا کیا ہے، اس لیے وہی دروپدی سے شادی کرنے کا حق دار ہے‘۔

ست یگ کے راج کمار تو اس دلیل کو مان گئے لیکن کل یگ کے شہزادے دیویندر اور ادھو نہیں مانے۔ سنگھ کے رہنماؤں نے بیچ بچاو کی بہت کوشش کی مگر بی جے پی اور سینا کے آگے ان کی ایک نہ چلی اور بالآخر وہ بیچارے دل مسوس کے رہ گئے۔ موہن بھاگوت کو دونوں کی زبانی تنقید پر اکتفاء کرنا پڑا۔ مہابھارت کے اس حصے کا انٹرویل یہ ہے کہ جب ارجن نے ماں کو بتایا ’ماں، ماں، دیکھو! آج میں نے کیسا عمدہ انعام جیتا ہے’تو کنتی نے کہا ’خوشی کی بات ہے بیٹا۔ جو ملا ہے، اپنے بھائیوں کے ساتھ مل بانٹ لو‘۔ پانڈووں نے حیران پریشان ہوکر بتایا یہ تو دروپدی ہے۔ اس پرکنتی نے کہا ’جو بات زبان سے نکل گئی ہے پوری ہوگی۔ دروپدی تم پانچوں کی دھرم پتنی ہوگی اور اس کی رکھشا اب تم پانچوں پر فرض ہے‘۔

ست یگ کے مہابھارت میں سارے کنفیوژن کی وجہ وہ افواہ تھی کہ وارناوت کے محل میں آگ لگنے سے سارے پانڈو اس میں جل کر مرگئے۔ حالانکہ وہ زندہ بچ گئے تھے۔ ارجن کے سوئمبر جیتنے کے بعد یہ راز کھل گیا اور رفتہ رفتہ خبر ہستنا پور بھی پہنچ گئی کہ پانڈو زندہ ہیں۔ اس سے کورو سمیت سب لوگوں نے خوشی منائی حالانکہ اگر وہ کل یگ کے ہندوتواوادی ہوتے تو اپنے سیاسی حریف کو زندہ پاکر دکھی ہوجاتے۔ کورو کے محل میں موجود وودر، بھیشم اور درونا آچاریہ نے دھرت راشٹر کو صلاح دی کہ پانڈووں کو گھر واپس بلا لیا جائے۔ پانڈووں کے گھر لوٹنے پر کورووں اور پانڈووں میں سمجھوتہ کرا دیا گیا۔ راج کو دو حصوں میں بانٹا گیا۔ ایک حصہ کورووں کو اور دوسرا پانڈووں کو دیا گیا۔

اس تقسیم کے نتیجے میں کورووں کی راجدھانی ہستنا پور قرار پائی اور پانڈووں کی اندر پرستھ۔ یعنی آج کی دہلی کو اپنا دارالخلافہ بنانا پڑا۔ اس طرح ایک نزاع کا تصفیہ ہوگیا۔ کاش کے بی جے پی اور شیوسینا بھی مہاراشٹر کو دوحصوں میں تقسیم کر لیتے۔ ودربھ کو الگ کر کے بی جے پی کے حوالے کردیا جاتا اور بقیہ حصے پر شیوسینا حکومت کرتی۔ لیکن کل یگ کے کورو اور پانڈو اقتدار کی لالچ میں باولے ہوگئے ہیں۔ وہ بلا تقسیم و شرکت غیرے اقتدار سے محظوظ ہونا چاہتے ہیں اور اس کوشش میں کوئی بدعنوان اجیت پوار کے گلے میں ور مالا ڈالتا ہے تو کوئی این سی پی اور کانگریس دونوں کے ساتھ پھیرے لگا نے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد وہ چوسر کھیلتے ہیں اور وستر ہرن کرکے ایک دوسرے کو برہنہ کردیتے ہیں۔ قوم پرستی کی مالا جپنے والے ان جعلی دیش بھکتوں پر کنتی کا وہ جملہ صادق آتا ہے کہ ’چھوڑا ہوا تیر واپس کمان میں نہیں آسکتا‘۔

(اعظم شہاب)

Published: 24 Nov 2019, 9:11 PM