مہاراشٹر: ’نہ نہ کرتے وَار تمہیں پہ کر بیٹھے‘

مہاراشٹر میں اگر ایسا ہوجائے تو ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ دو جماعتوں نے آپس میں اتحاد کر کے انتخاب لڑا، اکثریت حاصل کی اور سرکار بنانے میں ناکام ہوگئیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اعظم شہاب

اعظم شہاب

مہاراشٹر اور ہریانہ میں ایک ساتھ ریاستی انتخابات ہوئے۔ دونوں جگہ بی جے پی اکثریت سے محروم رہی اس کے باوجود ہریانہ میں تین دن بعد حکومت بن گئی اور سارا معاملہ بخیر و خوبی نمٹ گیا۔ پچھلے ایک ہفتہ کے دوران ہریانہ سے کوئی اہم سیاسی خبر قومی اخبار کی زینت نہیں بنی۔ وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کے علاوہ کسی وزیر کا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔ ملائی دار وزارت کس کو ملی اور کون روکھا سوکھا رہ گیا اس پر کوئی بحث و مباحثہ نہیں ہوا۔ اس کے برعکس مہاراشٹر کا یہ حال ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جس روز ہر اخبار کے صفحۂ اول پر مہاراشٹر کے حوالے ایک سے زائد خبریں نہ چھپتی ہوں۔ کوئی نہ کوئی قیاس آرائی نہیں کی جاتی ہو۔ آج گیارہ دن بعد بات یہاں تک پہنچ گئی کہ بی جے پی کے وزیر جنگلات سدھیر منگٹی وار نے یہ دھمکی دے دی کہ اگر 7 نومبر تک ریاستی سرکار نہیں بنتی تو صوبے میں صدر راج نافذ ہوسکتا ہے۔

مہاراشٹر میں اگر ایسا ہوجائے تو ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ دو جماعتوں نے آپس میں اتحاد کر کے انتخاب لڑا، اکثریت حاصل کی اور سرکار بنانے میں ناکام ہوگئیں جبکہ پچھلے چالیس سالوں میں چالیس مخلوط حکومتیں ہندوستان میں بن چکی ہیں اور بی جے پی کو تو اپنے سب سے بڑی مخالف پی ڈی پی کے ساتھ بھی حکومت بنانے کا شرف حاصل ہوچکا ہے جس کی رہنما فی الحال نظر بند ہے۔ مراٹھی زبان میں ایک محاورہ ہے ’تُلا نائے ملا نائے گھال کتریالا‘، اس کے معنیٰ یہ ہوتے ہیں کہ ’نہ تجھے نہ مجھے، کتے کے آگے ڈال دے‘۔ کتوں کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ اپنی گلی میں کسی کو آنے نہیں دیتے اور جب باہر سے کوئی نیا کتا داخل ہوتا ہے سب مل کر اس پر بھونکنے لگتے ہیں۔

بی جے پی شیوسینا تو خیر برسوں سے ایک ہی گلی میں گزر بسر کر رہے ہیں یہ اور بات ہے کہ اپنا گلا صاف کرنے کے لیے بیچ بیچ میں ایک دوسرے پر بھونکتے رہتے ہیں۔ اس بار یہ نوک جھونک بہت بڑھ گئی ہے اس لیے کہ 1995 میں جب ان دونوں کو مشترکہ اقتدار نصیب ہوا تو شیوسینا شیر اور بی جے پی بھیگی بلی تھی۔ اس لیے جو روٹی کے ٹکڑے سینا نے بی جے پی کے آگے پھینک دیئے اس نے انہیں غنیمت جان کر قبول کرلیا۔ 2014 میں پھر ایک بار ان دونوں نے مخلوط حکومت بنانے کا موقع ملا تو اس بار بی جے پی شیر اور شیوسینا چوہا بنی ہوئی تھی۔ ایسے میں بی جے پی نے جو ہڈیاں شیوسینا کے سامنے ڈالیں ان پر قناعت کرلی گئی لیکن اب عوام نے دونوں کو بلی بنا دیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اپنی کھال پر لگے گدلے پانی کو تسلیم کرکے بھیگی بلی بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

یہ حسنِ اتفاق ہے کہ ہریانہ میں زعفرانیوں کا سرسبز و شاداب جاٹوں کے ساتھ نظریاتی و انتخابی مخالفت کے باوجود الحاق ہوگیا جبکہ مہاراشٹر میں ان بھگوا دھاریوں نے ساتھ مل کر انتخاب لڑا اور اب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔ اس لڑائی جھگڑے نے نوبت یہاں تک پہنچا دی ہے کہ شیوسینا رہنما سنجے راوت نے بی جے پی کو یاد دلاتے ہوئے کہا ہے ’رام چندر جی نے اپنے والد کے دیئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کے لیے اقتدار کو قربان کردیا تھا جبکہ کل یگ کی رام بھکت بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے لیے عہد کو توڑ رہی ہے۔ ان کے دل میں کرسی کی حرص و ہوس بیٹھ گئی ہے اور دماغ میں گھمنڈ کا غبار بھر گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیوسینا کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کرنے کے بجائے پہلے تو آزاد امیدواروں کو جوڑنے کی کوشش کی گئی اور اب شیوینا کو توڑنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ اس جوڑ توڑ کے کھیل کومنطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پارٹی کے صدر امت شاہ 30 اکتوبر کو ممبئی آنے والے تھے لیکن چونکہ بات نہیں بنی اس لیے انہیں اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ اس انتخاب سے قبل شیوسینا کا نعرہ تھا ’ہیچ تی ویل‘ یعنی ’یہی وہ موقع ہے‘۔ جب یہ نعرہ لگایا گیا تھا اس وقت کسی کے خواب و خیال میں نہیں تھا کہ انتخاب کے بعد اس میں ایک نیا مطلب پیدا ہوجائے گا۔ فی الحال حزب اختلاف کی ساری جماعتیں شیوسینا سے کہہ رہی ہیں کہ یہی وہ سنہری موقع ہے کہ جب ادتیہ ٹھاکرے کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال لینا چاہیے۔ ادھو ٹھاکرے سے یہ کہنے والوں میں سب سے پیش پیش تو شرد پوار ہیں۔ شرد پوار کا مقام فی الحال مہاراشٹر کی سیاست میں بہت اونچا ہوگیا اس لیے کہ ان کی پارٹی کے جملہ 52 میںسے 25 نے انتخاب سے قبل غداری کردی تھی اور باقی ماندہ 27 کے ساتھ وہ اب 54 پر پہنچ گئے ہیں۔

شیوسینا کو یہی مشورہ سابق نائب وزیر اعلیٰ چھگن بھجبل نے بھی دیا کہ وہ اپنی ضد پر اڑی رہے۔ سابق کانگریسی وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان پہلے ہی شیوسینا کی گزارش پر غور کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں اور اب تو سماجوادی پارٹی کے ابو عاصم اعظمی نے بھی ادھو ٹھاکرے کو اپنے والد کے وقار کا خیال کرتے ہوئے بی جے پی کی مرکزی حکومت کے آگے نہ جھکنے کی صلاح دی ہے۔ انہوں نے ادتیہ کے وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی حمایت کر تے ہوئے کہا ہے کہ مودی کو سبق سکھانا چاہیے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے حزب اختلاف متحد ہو رہا ہے اور وہ اس معاملے میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ اس حمایت نے شیوسینا کے حوصلے بلند کردیئے ہیں اور وہ جب جب پھول کھلے کا یہ نغمہ (معمولی ترمیم کے ساتھ) گنگنا رہی ہے؎

نہ نہ کرتے وار تمہیں پر کربیٹھے

کرنا تھا اقرار مگر انکار تمہیں سے کر بیٹھے

Published: 3 Nov 2019, 9:11 PM