مہاراشٹر: ووٹوں کی تقسیم اور موقع پَرستی کی سیاست

ووٹوں کے تقسیم سے ریاست میں کانگریس اور این سی پی کو 23 سیٹوں کا نقصان ہوا۔ اگر ان سیٹوں پر سیکولر ووٹ تقسیم نہیں ہوتے تو 106 سیٹیں جیتنے والی کانگریس و این سی پی کی سیٹیں 129 تک پہنچ جاتیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اعظم شہاب

ہندوستانی جمہوری نظام کی ایک سب سے بڑی ’خوبی‘ یہ بھی ہے کہ جو پارٹی اپنے مخالف پارٹیوں کے جس قدر ووٹ تقسیم کرانے میں کامیاب ہوجائے، نتائج کا اس کے حق میں آنے کا امکان اتنا ہی قوی ہوجاتا ہے۔

مہاراشٹر و ہریانہ کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کو ہی دیکھ لیں جہاں بی جے پی کو بالترتیب 25.6 اور36.3 فیصد ووٹ ملے، اس کے باوجود ان دونوں ریاستوں میں آج وہ حکومت سازی کر رہی ہے۔ اس ووٹ شیئرنگ کا صاف مطلب یہ ہوا کہ ان دونوں ریاستوں کی 75 اور 64 فیصد عوام نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا۔ مگر اس ’جمہوری خوبی‘ کا کیا کیا جائے کہ ان دونوں ریاستوں میں بی جے پی 100 فیصد عوام پر حکمرانی کرے گی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ووٹ شیئرنگ کے حساب سے ہر پارٹی کو حکومت سازی کا موقع ملتا۔

لیکن اگر ایسا ہوجائے تو پھر ہمارے پردھان سیوک جی ’دیش کے سوا سو کروڑ لوگوں کے پردھان منتری‘ کیسے کہلائیں گے؟ اس لئے ہمارے ملک عزیز کے اس جمہوری نظام میں موقع پرستی کی سیاست اس قدر در آئی ہے کہ اب اس کے بغیر سیاست کا کوئی تصور ہی نہیں رہ گیا ہے، بلکہ اب یہ ایک خوبی بن گئی ہے۔ اسی خوبی کی بناء پر کچھ لوگ اسے ’چانکیہ نیتی‘ بھی کہتے ہیں، جس کا کاپی رائیٹ گزشتہ پانچ سالوں سے امت شاہ جی کے پاس ہے۔

لیکن اس موقع پرستی کی سیاست میں جتنی اہمیت انتخاب جیت کر حکومت سازی کرنے والی پارٹیوں کی ہوتی ہے، اتنی ہی یا اس سے کہیں زیادہ اہمیت ان پارٹیوں کی بھی ہوتی ہے جو حکمراں جماعتوں سے کنٹریکٹ لے کر ووٹوں کی تقسیم کا کارہائے نمایاں انجام دیتی ہیں۔ مہاراشٹر میں اس کی مثال ایم آئی ایم اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے کردار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے، جس میں اولذکر نے 44 جگہوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرکے دو سیٹیں حاصل کیں اور 40 پر سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرکے بی جے پی و شیوسینا اتحاد کو فائدہ پہونچایا۔ جبکہ ثانی الذکر نے 280 میں سے 274 پر اپنے امیدوار کھڑے کیے اور ایک بھی سیٹ حاصل نہ کرتے ہوئے کانگریس و اس کے اتحادی پارٹیوں کے ووٹوں کو تقسیم کیا۔

ان ووٹوں کے تقسیم سے ریاست میں کانگریس کو 12 اور این سی پی کو 11 یعنی کہ 23 سیٹوں کا نقصان ہوا۔ اگر ان سیٹوں پر سیکولر ووٹ تقسیم نہیں ہوتے تو 106 سیٹیں جیتنے والی کانگریس و اس کی اتحادی پارٹیوں کی سیٹیں 129 تک پہنچ جاتیں اور آج مہاراشٹر کی سیاسی صورت حال کچھ مختلف ہوتی۔ جبکہ 25 آزاد ممبرانِ اسمبلی میں سے 10 نے نتائج آنے کے بعد ہی کانگریس و این سی پی کی حمایت کے لئے تیار ہوگئے تھے۔ پارلیمانی الیکشن میں بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ ونچت بہوجن اگھاڑی نے کانگریس واین سی پی کو 11سیٹوں پر نقصان پہنچایا تھا۔

ووٹوں کی تقسیم والی موقع پرستی کی اس سیاست سے پرے اگر نتائج کے مجموعی صورت حال پر غور کیا جائے تو مہاراشٹر کے انتخابی سیاست کی تاریخ میں غالباً یہ پہلا انتخاب ہے جس کے نتائج سے الیکشن میں حصہ لینے والی تقریباً تمام پارٹیاں خوش ہیں۔ بی جے پی اس لئے خوش ہے کہ وہ ریاست میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اور شیوسینا کی مدد سے حکومت سازی کر رہی ہے۔ شیوسینا اس لئے خوش ہے کہ بی جے پی کی سیٹیں کم ہوئی ہیں اور حکومت سازی کے لئے اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے نیز وہ بی جے پی سے نئے سرے سے سودے بازی کی پوزیشن میں آگئی ہے۔

کانگریس اس لئے خوش ہے کہ بی جے پی وشیوسینا کے تمام حربوں کے باوجود اس نے اپنی سیٹوں میں اضافہ کرلیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ فڑنویس نے کانگریس کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ انتخاب کے بعد ریاست سے اپوزیشن ختم ہوجائے گا۔ این سی پی اس لئے خوش ہے کہ اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوششوں کے باوجود وہ نہ صرف دوبارہ پوری توانائی کے ساتھ کھڑی ہوئی بلکہ اپنی سیٹوں میں درجن بھر کا اضافہ بھی کرلیا، جبکہ اس کے کئی اہم لیڈران پارٹی چھوڑ کر بی جے پی وشیوسینا میں شامل ہوگئے تھے۔

ایم آئی ایم اس لئے خوش ہے کہ اس کے دو ممبران کی تعداد برقرار رہی۔ ونچت بہوجن اگھاڑی اس لئے خوش ہے کہ وہ سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرکے بی جے پی و شیوسینا کی راہ کو ہموار کرنے کی اپنی کوشش میں کامیاب رہی۔ مہاراشٹرنونرمان سینا اس لئے خوش ہے کہ اس کا ایک ممبر اسمبلی پہنچ گیا جو صفر پرتھی۔ اور ان تمام پارٹیوں کی خوشیوں کے نتیجے میں الیکشن کمیشن بھی خوش ہے کہ اس بار کسی بھی پارٹی نے ای وی ایم کی ہیکنگ کا الزام نہیں لگایا۔ گویا مہاراشٹر اسمبلی کا یہ الیکشن سبھی کے لئے خوشیاں لے کر آیا اور سبھی اپنے اپنے طور پر اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

مہاراشٹر میں فی الوقت حکومت سازی میں تقریباً دو ہفتے کا وقت ہے۔ بی جے پی نے جہاں شیوسینا کو اپنا اتحادی بتاتے ہوئے حکومت بنانے کا دعویٰ کیا ہے تو وہیں شیوسینا نے معاہدے کے مطابق ڈھائی سال بعد اپنا وزیراعلیٰ بنانے کی امت شاہ سے تحریری مطالبہ کیا ہے۔ دیگرصورت میں اس نے اپنے لئے مزید امکانات کھلے ہونے کی بات بھی کہی ہے جو اس جانب اشارہ ہے کہ وہ این سی پی و شیوسینا کے ساتھ مل کر ریاست میں حکومت بناسکتی ہے۔ جبکہ قاعدے کے مطابق ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شیوسینا پری الیکشن معاہدے کے تحت فیصلہ کرتی، لیکن اگر ایسا ہوجائے تو پھر یہ سیاست ہی کیوں کہلائے؟

لیکن مہاراشٹر کے اس انتخاب سے یہ بات تو ضرور قابلِ تسلیم ہوگئی کہ بی جے پی ناقابلِ شکت نہیں ہے۔ اس کی کامیابی ایم آئی ایم و ونچت بہوجن اگھاڑی جیسی پارٹیوں کی مرہونِ منت ہے جو سیکولر ووٹوں کے تقسیم سے اس کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ مہاراشٹر میں اس بار بی جے پی کے خلاف ناراضگی خوب تھی۔ یہ ناراضگی ای ڈی و سی بی آئی کے سیاسی استعمال اور عوام کے بنیادی مسائل سے چشم پوشی کرنے کا نتیجہ تھی۔ عوام کو بی جے پی کی آمریت بالکل پسند نہیں آئی اور ووٹوں کی تقسیم کے تمام حربوں کے باوجوود اس کی سیٹیں کم ہوگئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 2024 میں کانگریس و این سی پی دوبارہ اقتدار میں آسکتی ہیں۔ لیکن اس وقت تک کانگریس و این سی پی کو سیکولر ووٹوں کی تقسیم روکنے کا فارمولہ تیار کرنا ہوگا۔

Published: 27 Oct 2019, 7:11 PM