’لکھنؤ اسپیکرس کانفرنس‘ نشستند، گُفتند و برخاستند... نواب علی اختر

لکھنؤ کانفرنس نے اسپیکر سے جو بیزاری ظاہر کی ہے اس کا اصل سبب یہی ہے کہ بی جے پی نے جو چال چلی تھی وہ تقریباً ناکام ہوگئی تھی لیکن ہائی کورٹ نے لاج رکھ لی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی حکومت کے پاس موجودہ وقت میں اتنی خطیر رقم ہے جتنی ماضی میں شاید ہی کسی حکومت کے پاس رہی ہو۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے ایک ادارہ کی ایما پر مسلسل تین روز(36 گھنٹے) تک اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوا۔ اس سلسلے میں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کانفرنس میں عوامی اہمیت کی کون سی مثبت پیش رفت ہوئی ہے؟ اس کے بعد بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کی جینتی کے نام پر اسمبلی کا ایک دن کا خصوصی اجلاس بھی بلایا گیا۔ اس کے بعد اب دولت مشترکہ کے ٹھپّے والی پارلیمانی اسمبلی کانفرنس 19جنوری تک لکھنؤ میں ہوئی۔ اس کانفرنس میں اسمبلی اسپیکروں کی فوج موجود تھی اس کے علاوہ بہت سے عہدیدار اور ممبران اسمبلی شریک ہوئے۔

کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن انڈیا (سی پی اے) ریجن کی7 ویں کانفرنس سے فرصت پانے کے بعد بیشتر لوگ ایودھیا گئے ہیں جہاں وہ رام لَلّٰہ کے درشن کریں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اتنی بہت سی اعلیٰ شخصیات ایودھیا گئی ہیں۔ اس کانفرنس کے اجلاس کے اخراجات کا اگر کوئی تخمینہ لگایا جائے تو وہ کروڑوں روپئے میں پہنچے گا۔ لکھنؤ میں جو کانفرنس حال میں ہوئی ان میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا صرف بحث ہوئی یعنی۔ نشستند، گفتند و برخاستند۔

کانفرنس میں زیر بحث آنے والے دو خاص امور کا تذکرہ اس تحریر میں ضروری معلوم ہوتا ہے۔ مجالس قانون ساز سے متعلق جب بھی کوئی کانفرنس ہوئی تو اسپیکر کو ہمیشہ قابل احترام درجہ دیا جاتا تھا لیکن اب ایک انوکھی روایت قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی زد میں اسپیکر بھی آگئے ہیں۔ لکھنؤ کی حالیہ کانفرنس کے روح رواں لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا رہے جن کا اس عہدہ کے لئے بطور خاص وزیراعظم نے نئی لوک سبھا کے واسطے کیا تھا۔ وہ بی جے پی کے بھی نمایاں ترجمان ہیں۔

لکھنؤ کانفرنس کے تعلق سے انہوں نے کانفرنس کے اختتام پر بتایا کہ مختلف ریاستوں کے پریسائیڈنگ افسروں (اسپیکروں) نے اس امر پر تبادلہ خیال کیا اور تقریباً عملاً اس بات پر متفق ہوئے کہ اسپیکروں کو جو لامحدود اختیارات حاصل ہیں ان میں کمی اس وقت کی جائے جب وہ پارٹی تبدیلی روک تھام قانون کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ برلا کے دعوے کے مطابق عدلیہ تک نے کبھی بھی اسپیکروں کے لامحدود اختیارات کے بے جا استعمال کے بارے میں تبصرے نہیں کیے۔ بہرحال اب اسپیکروں میں اس بارے میں اتفاق عام ہے کہ اسپیکروں کے اختیارات میں کتربیونت سے کام لیا جائے۔

حالانکہ اوم برلا نے یہ نہیں بتایا کہ اس کام کو کون انجام دے گا لیکن یہاں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ اسپیکروں کے خلاف اس قسم کی اظہار رائے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ ماضی میں اسپیکر کو مقننہ کا امین سمجھا جاتا رہا تھا اور جب عدلیہ سے کوئی کشا کش نہ ہوتی تھی تو اسپیکر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کے اختیارات سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی۔ جمہوریت میں انتظامیہ اور عدلیہ کے علاوہ مقننہ بھی ایک ستون ہے۔

بی جے پی والے اسپیکر نے جس بات کا ذکر کیا ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی عرصہ سے یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ وہ وہاں اقتدار پر قبضہ کرلے۔ وجہ یہ ہے کہ جنوب کی کسی ریاست پر اس پارٹی کا قبضہ عام طور پر نہیں ہوتا تھا، اس لئے ضروری ہے کہ جائز یا ناجائز ذریعہ سے ریاست کے اقتدار پر قبضہ حاصل کیا جائے۔ کرناٹک اسمبلی کے گزشتہ انتخابات میں جب کانگریس اور جنتادل (سیکولر) نے متحدہ محاذ بنایا تو بی جے پی کے لئے خطرہ کی گھنٹی بج اٹھی۔

ایسی صورت میں ایک ایسا فارمولا تیار کیا گیا جس کی نظیر ہندوستان کے کسی علاقہ کی پارلیمانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مخلوط پارٹی کے15ممبران اسمبلی کو خریدا گیا کہ وہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیں تاکہ محاذ اقلیت میں آجائے۔ ظاہر ہے اسمبلی کی رکنیت بہت قیمتی چیز ہے اور ان کو استعفیٰ دینے کے لئے خطیر رقم خرچ کی گئی لیکن اسپیکر نے ان تمام ممبران کو پارٹی تبدیلی قانون کے تحت نا اہل قرار دے دیا۔ اس طرح وزیراعلیٰ یدی یورپا بہت پریشان ہوئے اور معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ کے پاس گیا۔ ہائی کورٹ نے ان تمام ممبروں کی نااہلی ختم کردی اور ان کو ضمنی انتخابات لڑنے کا اختیار دے دیا۔ یہی نہیں ہائی کورٹ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وہ جیت جاتے ہیں تو وزیر بن سکتے ہیں۔

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اسپیکر نے نااہلی پانچ سال کے لئے کی تھی جو بالکل واجب بات تھی لیکن عدالت عالیہ نے نااہلی کی مدت کم کردی۔ لکھنؤ کانفرنس نے اسپیکر سے جو بیزاری ظاہر کی ہے اس کا اصل سبب یہی ہے کہ بی جے پی نے جو چال چلی تھی وہ تقریباً ناکام ہوگئی تھی لیکن ہائی کورٹ نے لاج رکھ لی۔ ضمنی انتخابات میں یہ لوگ دوبارہ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور وزیر بھی بنائے گئے۔

لکھنؤ کانفرنس نے یہ طے کیا ہے کہ مجالس قانون ساز میں جو ہنگامے ہوتے ہیں اور ایوان کی کارروائی میں جو خلل پڑتا رہتا ہے اسے روکنے کے لئے باقاعدہ ضابطے بنائے جائیں۔ بی جے پی کو 2014 میں جب سے اقتدار حاصل ہوا ہے، اس وقت سے اس کی کوشش یہی رہی ہے کہ پارلیمنٹ کا کام خوش اسلوبی سے چلے اور کوئی ہنگامہ نہ ہو لیکن اگر 2014 کے پہلے کی پارلیمنٹ کی طرف توجہ کی جائے کہ منموہن سنگھ حکومت کے دوسرے دور میں اسی بی جے پی نے ایسے ہنگامے برپا کیے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ ہم ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دیں گے اور اس کے بعد رخنہ اندازی کی تمام کارروائیوں کی باگ ڈور سشماسوراج کے سپرد ہوئی تھی اس تحریر میں جن ہنگاموں اور ہڑدنگ کا ذکر کیا گیا ہے، اس کی تصدیق پرانے ریکارڈ نکلواکر کی جاسکتی ہے۔

کل کو جب بی جے پی اقتدار سے باہر ہوگی تو دونوں مذکورہ بالا امور پر اس کی رائے بالکل بدل جائے گی۔ وہ اسپیکر کے اختیارات پر اصرار کرے گی اور مزید یہ کہ پارلیمنٹ میں ہڑدنگ کو جائز جمہوری حق بھی بتائے گی۔ حکومت بدلے گی تو پیمانے بھی بدلیں گے۔

Published: 19 Jan 2020, 8:11 PM