سیاسی

مرادآباد پارلیمانی حلقہ میں مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے!

جمیل احمد نے بتایا ’’یہاں سے کانگریس اور ایس پی۔بی ایس پی اتحاد نے مسلمان امیدوار کھڑے کر دیئے ہیں، اگر کسی وجہ سے مسلمان ووٹ تقسیم ہو گئے تو پھر بی جے پی کے سرویش سنگھ جیت جائیں گے‘‘۔

قومی آواز گرافکس

سید خرم رضا

اتر پردیش کے ضلع مرادآباد میں ایک چھوٹا سا قصبہ ’عمری کلاں‘ ہے اور اس قصبہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ یہاں کے لوگوں کا مرکزی مشغلہ کھیتی ہے لیکن اب اکثر خاندان کے بچے دہلی، ممبئی، احمدآباد اور حیدرآباد جیسے شہروں میں الگ الگ طرح کے کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے گھروں میں خوشحالی صاف نظر آتی ہے۔ امروہہ سے 16 کلومیٹر پر واقع یہ قصبہ 32 کلومیٹر دور مرادآباد کے پارلیمانی حلقہ میں آتا ہے۔ ویسے تو اس قصبہ میں داخلے کے تین راستے ہیں لیکن قصبہ کے مرکزی داخلہ پر ایک بہت بڑا گیٹ ہے جو مغربی اترپردیش کے اکثر قصبوں میں نظر آتے ہیں۔ اس قصبہ کو گنجوں کی عمری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کو گنجوں کی عمری اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ اس بستی کو بسانے والے گنج شکھر بابا فرید الدین تھے اور ان کے سر پر کوئی بال نہیں تھا۔ کسی زمانہ میں یہ بہت پچھڑا قصبہ مانا جاتا تھا لیکن اب یہاں کی شاندار عمارتوں کے بیچ کہیں کوئی بھی چھپر نہیں دکھائی دیتا۔

اس قصبہ میں جب میں شام کو پہنچا تو 5 بیگھے کے کھیت کے مالک کھیتی مزدور مختار کی سب سے چھوٹی بیٹی کی اگلے دن شادی تھی۔ یہاں کے رواج کے مطابق شادی سے ایک دن پہلے کی رات کو ’منڈھے‘ نام کی ایک تقریب ہوتی ہے جس میں بستی کے لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے، کھانا کسی جگہ بٹھا کر نہیں کھلایا جاتا بلکہ لوگ اپنے گھروں سے کوئی برتن لاتے ہیں اور اس میں وہ کھانا لے جاتے ہیں اور پھر اپنے گھر جاکر کھانا کھاتے ہیں۔ کھانے میں ثابُت اڑد کی دال گوشت اور چاول ہوتے ہیں۔ مختار صاحب نے بھی تقریبا 1400 لوگوں کو منڈھے کی دعوت دی تھی۔ یہ سارا عمل شام چھ بجے تک ختم ہو گیا۔ اس کے بعد اس گھر میں بڑے بڑ ے اسپیکر آ گئے یعنی ڈی جے کا سامان آ گیا۔ مجھے بہت حیرت ہوئی یہ سب دیکھ کر کہ اس چھوٹے سے قصبہ میں یہ سب چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ جب تک ڈی جے کی تیاری ہو رہی تھی میں نے وہاں موجود لوگوں سے بات چیت شروع کر دی۔ پارلیمانی انتخابات کے تعلق سے جب بات شروع ہوئی تو میں ان غریب گاؤں والوں کی سیاسی معلومات اور سمجھ پر بہت حیرت ہوئی۔ ان کو نہ صرف قومی سیاسی حالات سے پوری طرح واقفیت تھی بلکہ وہ سیاسی جوڑ گھٹا سے بھی پوری طرح واقف تھے۔ مرادآباد پارلیمانی حلقہ میں مسلمانوں کی آبادی 47 فیصد ہے۔ یہاں سے کانگریس کے امیدوار معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی ہیں، ایس پی-بی ایس پی اتحاد کے امیداوار مرادآباد کے سابق مئیر ڈاکٹر ایس ٹی حسن ہیں اور بی جے پی کے امیدوار سرویش کمار سنگھ ہیں جو ٹھاکر ہیں۔ اس سیٹ پر مقابلہ بہت دلچسپ ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

ایک مقامی کسان جمیل احمد نے گفتگو کے دوران بتایا ’’یہاں سے کانگریس اور ایس پی۔بی ایس پی اتحاد دونوں نے مسلمان امیدوار کھڑے کر دیئے ہیں، اگر کسی وجہ سے مسلمان ووٹ تقسیم ہو گئے تو پھر بی جے پی کے سرویش سنگھ جیت جائیں گے‘‘۔ جب میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے کیا سوچا ہے تو جمیل کے قریب بیٹھے حامد نے فوراً کہا ’’ہم نے ابھی تو اتحاد کے ڈاکٹر ایس ٹی حسن کو ووٹ دینے کا ذہن بنایا ہے لیکن آخر میں دیکھیں گے کہ کانگریس کے امیدوار کے حق میں لہر ہے یا اتحاد کے حق میں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہمارا ووٹ بٹے نہیں‘‘۔ میں نے پوچھا بی جے پی کو ووٹ کیوں نہیں دیتے تو وہاں کھڑے ایک شخص نے کہا ’’ان کے آنے کے بعد ملک میں نفرت بہت ہو گئی ہے، بہت زیادہ مذہبی باتیں ہونے لگی ہیں‘‘۔ ان ساری گفتگو سے ایک بات تو صاف ہے کہ مسلمانوں میں ایک بے چینی ہے اور یہ بے چینی اس حد تک ہے کہ وہ علاقہ کی ترقی اور فلاحی کاموں کے بارے میں نہیں سوچ رہے بلکہ ایک سیاسی پارٹی کو ہرانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ یہ کسی بھی جمہوریت کے لئے اچھے اشارے نہیں ہیں۔

اتنے میں وہاں ڈی جے شروع ہوگیا اور لڑکوں کا ڈانس دیکھ کر میں تو حیران رہ گیا۔ خواتین یہاں ڈانس نہیں کرتیں لیکن سب کے ساتھ ڈانس کے مزے پورے لیتی ہیں۔ ہم وہاں سے چلے گئے لیکن بعد میں پتہ لگا کہ صبح چار بجے تک ناچ گانا ہوتا رہا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنے شور کے با وجود کسی نے بھی اس کو بند کرانے کا مطالبہ نہیں کیا جو ہم شہر والے سوچ بھی نہیں سکتے۔ وہاں کے لوگ آج بھی پورے گاؤں کو ایک خاندان کی طرح مانتے ہیں، ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ دراصل ہندوستان کی روح بھی یہی ہے کہ نفرت نہیں بلکہ بھائی چارہ ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے اور غم میں ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔