سیاسی

دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے

ہمارے ملک اور اس کے جمہوری نظام کی جو پوری دنیا میں تعریف ہوتی ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے دونوں بڑے پڑوسی ممالک سے جدا ہیں۔ ہمارے پڑوسیوں میں فوج اور حکومت میں تفریق کرنا بہت مشکل ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

ہر سیاسی پارٹی کا واحد اور آخری ہدف اقتدار کی حصولی ہے اور اس کے لئے اکثر سیاسی پارٹیاں وہ لکشمن ریکھا پار کر جاتی ہیں جو سیاست کے ذریعہ حاصل کیے جانے والے آخری ہدف کے مقصد کو فوت کر دیتی ہیں۔ اقتدار کا بنیادی مقصد عوام اور ملک کے لئے اچھی حکومت دے کر عوام کی فلاح کے لئے کام کرنا ہوتا ہے لیکن اگر اقتدار حاصل کرنے کی مہم میں ملک کی روح کو تار تار کرنے میں صلاحیتیں ذائع ہوتی ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انتخابی مہم کے دوران جو ریل پٹری سے اتری ہے اس کو اقتدار میں آنے کے بعد منتخب نمائندے واپس پٹری پر لے آئیں گے۔

عام انتخابات میں چناؤ جیتنے کے لئے امیدوار جس طرح کی بدزبانی کر رہے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے سیاسی مخالف نہیں بلکہ ذاتی دشمن ہوں۔ اعظم خان نے اپنی سیاسی حریف کے لئے جس زبان کا استعمال کیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مایاوتی اگر ملک کے ایک طبقہ کا نام لے کر ووٹ مانگنے کی بات کرتی ہیں تو پھر بی جے پی اور اس کے رہنما کو آپ کس منھ سے غلط کہہ سکتے ہیں۔ اس دوران دو لوگوں کے بیان ایسے ہیں جس پر سماج کے ہر ذی شعور شخص کو تشویش ہونی چاہیے۔ اگر ملک کے وزیر اعظم ملک کے پہلی مرتبہ ووٹ دینے والے رائے دہندگان سے یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنا پہلا ووٹ پلوامہ کے شہیدوں کو دیں تو وہ جیتنے کے لئے ایسی لکشمن ریکھا پار کر رہے ہیں جو ملک کے لئے مستقبل میں تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

ہمارے ملک اور اس کے جمہوری نظام کی جو پوری دنیا میں تعریف ہوتی ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے دونوں بڑے پڑوسی ممالک سے جدا ہیں۔ ہمارے پڑوسیوں میں فوج اور حکومت میں تفریق کرنا بہت مشکل ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں سامنے یا پیچھے سے فوج ہی کے ہاتھوں میں اقتدار کی باگ ڈور رہتی ہے۔ ہمارے ملک میں فوج اپنے کام کے علاوہ کسی معاملہ میں دخل نہیں دیتی لیکن جس طرح فوجی کارروائی کو شہیدوں کے نام کو انتخابات جیتنے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے وہ مستقبل کے لئے بہت نقصاندہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اگر فوج کو کبھی بھی ایسا لگا کہ اس کی سیاست میں اہمیت ہے تو اس کے سربراہ بھی کچھ سیاسی اقدام اٹھا سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اگر حزب اختلاف کے ذہن میں بات گھر کر گئی کہ فوج کے سیاسی استعمال سے انتخابات جیتے جا سکتے ہیں تو وہ بھی اس کا استعمال کر سکتی ہے اور دونوں صورتیں ملک کے لئے اچھی نہیں ہیں۔

ایک دوسرخراب پہلو مینکا گاندھی کے بیان سے سامنے آیا جب انہوں نے ایک چھوٹے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلمانوں کا کام کرتے وقت سوچنا پڑتا ہے کیونکہ وہ طبقہ ان کو ووٹ نہیں دیتا۔ اگر سیاسی رہنما اس نہج پر سوچنے لگے تو یہ ایسا رجحان ہے جو پورے ملک کو نفرت اور بٹوارے کی کھائی میں ڈھکیل سکتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو اس ملک کی روح کو تار تار کرتی ہیں۔

اسی دوران ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتارمن اپنے سیاسی مخالف کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور کی عیادت کے لئے اسپتال پہنچیں۔ ششی تھرور انتخابی مہم کے دوران چوٹ لگنے کی وجہ سے اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو لیکن اس قدم کی جتنی بھی ستائش کی جائے وہ کم ہے۔ ندا فاضلی نے بہت صحیح بات کہی ہے کہ

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ

دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے

انتخابی مہم کے دوران ہو رہی بدزبانی کے سبب ریل پٹری سے اتر گئی ہے اور کسی بھی طرح اس کو پٹری پر واپس لانے کی ضرورت ہے نہیں تو نقصان اتنا ہو جائے گا کہ ملک کو ترقی یافتہ ملک بنانے اور دنیا کو بہترین تہذیب دینے کا ہمارا خواب نفرتوں کی نذر ہو جائے گا۔ ملک کو محبت اور بھائی چارے کی ضرورت ہے اور اگر ہم نے اس وقت نفرت کے سیلاب کو نہ روکا اور اپنی زبان پر قابو نہ پایا تو کل ہمارے پاس پچھتانے کے لئے بھی کچھ نہیں بچے گا۔