انتخابات 2019، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں مستقبل کی فکر کرنے کی ضرورت ہے

مسلمان اپنی پارٹی کی بات نہیں کرتا، اپنے امیدوار کی بات نہیں کرتا پھر بھی اس کے نام پر اکثریتی طبقہ اپنے مسائل کو دفن کرنے کے لئے تیار ہے اور ہر طرح کی پریشانی برداشت کرنے کو راضی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

نتائج کے دن جیسا ہوتا ہے ویسا ہی پورے ملک میں ماحول نظر آیا۔ جیتنے والی پارٹی اور امیدواروں کے دفاتر اور گھروں میں جشن تو شکست سے رو برو ہونے والی پارٹی اور امیدواروں کے دفاتر اور گھروں میں زبردست مایوسی۔ نتائج نے ایک دم سب کو حیران اس لئے نہیں کیا کیونکہ ایگزٹ پول کے نتائج نے پہلے سے ہی سب کو کسی حد تک ذہنی طور پر تیار کر دیا تھا، لیکن پھر بھی حقیقی نتائج پر رد عمل تو آنا ہی تھا۔ بی جے پی مخالف پارٹیوں کے دفاتر میں جیسے مایوسی تھی ویسا ہی کچھ حال مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی تھا۔ لوگوں کے منہ پر یہ سوال عام تھے کہ کیا یہ ممکن ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟ زمین پر تو ایسا نظر نہیں آ رہا تھا ؟ کیا یہ ای وی ایم کا کھیل ہے؟

مسلمانوں نے جہاں بہت سمجھداری سے اپنی رائے کا اظہار کیا وہیں سیاسی پارٹیوں نے بھی مودی کی قیادت والی بی جے پی کو ہرانے کے لئے اپنے سیاسی اختلافات کو بھول کر اتحاد کیا اور بہت جارحانہ طریقہ سے چناؤ لڑا۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ ذہن بنا لیا تھا اور ان کو یہ امید بھی تھی کہ مودی کے لئے راہ اتنی آسان نہیں ہو گی۔ لیکن نتائج نے ان کو پوری طرح چونکا دیا۔مندرجہ بالا وجوہات کی بنیاد پر مسلمان ایگزٹ پول پر یقین کرنے کے لئے تیا ر نہیں تھے لیکن کہیں نہ کہیں ایک خوف تھا، اس لیے انہوں نے دعائیں بھی بہت کیں۔ سوشل میڈیا پر اس طرح کے پیغامات خوب گردش کر رہے تھے کہ رمضان المبارک میں اگر یہ دعا مانگیں گے تو نتائج ایسے نہیں آئیں گے جیسے آپ ایگزٹ پول میں دیکھ رہے ہیں۔

بہر حال، مسلمانوں نے ووٹنگ بہت دانشمندی سے کی اور کسی بھی صورت میں بی جے پی کے خلاف اپنا ووٹ تقسیم نہیں ہونے دیا اور دعائیں بھی بہت مانگیں یعنی مسلمانوں نے اپنا کام پوری دانشمندی اور ایمانداری سے کیا، لیکن پھر بھی نتائج ایسے آئے جو اس کی امید اور توقع کے پوری طرح خلاف تھے۔ نتائج کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکتا ہے،کیا جا رہا ہے اور ہر شخص اپنی رائے بھی دے رہا ہے۔ مودی کاجادو، مودی حکومت کے منصوبے، حزب اختلاف کی ناکام انتخابی حکمت عملی، مودی کے سامنے کسی ایک چہرے کو پیش نہ کرنے سے لے کر گھر میں گھس کر مارنے تک ہر موضوع پر مبصرین اور عوام اپنی رائے دے رہے ہیں۔

ان نتائج کے پیچھے یہ تمام وجوہات بھی ہیں لیکن اقلیتوں کی حکمت عملی اور اتحاد کو شکست دینے کے لئے شمالی ہندوستان کا اکثریتی طبقہ اپنی پریشانیاں، عوام مخالف سرکاری فیصلہ اور ذات پات کے اپنے اختلافات کو نظر انداز کر کے متحد ہو گیا۔ یعنی اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مسلمان چاہے جس پارٹی کی حمایت کریں، چاہے کتنی بھی دانشمندی سے ووٹنگ کر لیں لیکن ملک کا ماحول یہ ہو گیا ہے کہ ملک کے اکثریتی طبقہ کو ایک چھتری کے نیچے کھڑا کر کے باقی تمام پارٹیوں اور طبقوں کی حیثیت کو ختم کرنا ہے۔ اسی سوچ کی وجہ سے ملک کا ایک بڑا طبقہ ملک کی مین اسٹریم سے خود کو الگ محسوس کر رہا ہے۔

جب اللہ تعالی کی بارگاہ میں بھی مسلمانوں کی دعائیں قبول نہ ہوں اور سیاسی طور پر بھی اس کی ہر کوشش ناکام ہو رہی ہو تو ایسی صورتحال میں بیچارہ مسلمان کیا کرے۔مسلمان اپنی پارٹی کی بات نہیں کرتا، اپنے امیدوار کی بات نہیں کرتا پھر بھی اس کے نام پر اکثریتی طبقہ اپنے مسائل کو دفن کرنے کے لئے تیار ہے اور ہر طرح کی پریشانی برداشت کرنے کو تیار ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ اس کو ووٹنگ کیسی کرنی ہوگی اور فرقہ پرست قوتوں کو کیسے شکست دینی ہوگی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلم دانشور آگے آئیں اور مستقبل کے لئے حکمت عملی تیار کریں تاکہ سماج میں ان کی حیثیت برقرا ر رہے۔ مایوسی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پچھلی بار کے مقابلہ لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے اور اتر پردیش جہاں سے پچھلی لوک سبھا میں ایک بھی مسلم امیدوار نہیں تھا، وہاں سے اس مرتبہ چھ مسلم امیدوار ہیں۔