طنزومزاح: جھوٹ تو جھوٹ ہے اور ہم 18 گھنٹے بول بھی نہیں سکتے... وشنو ناگر

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جھوٹ تو جھوٹ، ہم سچ بھی 18گھنٹے بول نہیں سکتے، کیونکہ ہم نہ یوگا کرکے بھوگا کرتے ہیں، نہ بھوگا کرکے یوگا ! پھر بھی ہم بولیں گے کہ یہ سسرا مودی راج میں اتنا سچ کیسے بول لیتا ہے؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وشنو ناگر

ایک گانا ہے نا، 'ہم بولے گا تو بولوگے کہ بولتا ہے'۔ اس لئے آپ نے د یکھا ہوگا کہ آج کل چپ رہنے کا موسم ہے، لہذا ہم آج کل چپ تو نہیں رہتے مگر بولتے بھی نہیں، آپ کہیں گے، یہ تو متضاد بات ہوئی، 'چپ تو نہیں رہتے مگر بولتے بھی نہیں'! دراصل یہ مودی دور کا تضاد ہے، ہمارا نہیں۔

اب جیسے بی جے پی نے ایک نعرہ ایجاد کیا ہے، 'مودی یا افراتفری' (ہم نعروں کی ایجاد کے معاملے میں سچ مچ 'وشوگرو' ہیں اور گروؤں کی گرو بی جے پی ہے)۔ ایک اور نعرہ ہے '55 سال بنام 55 ماہ'، 'چوکیدار چور ہے'، چل گیا- پھیل گیا تو 'ہم سب چوکیدار' چلا د یا، اب آپ ہی بتاوٗ کہ ان تینوں پر ہم آج تک بولے؟

ہم تو ابھی بھی نہیں بول رہے ہیں اور بولیں گے بھی نہیں کہ مودی مہودیہ آپ 2002 میں اپنی ریاست میں افراتفری پھیلا کر ہی تین بار وزیر اعلی کی کرسی پر بیٹھے تھے اور آپ کے یہ پانچ سال بھی شدید افراتفری کے ہی رہے ہیں، تو مودی جی اب آپ کس منہ سے بول رہے ہیں- 'مودی یا افراتفری'؟

یہ بات سچ ہوتے ہوئے بھی ہم نے ایک بار بھی بولا؟ نہیں بولا، ہم بولیں گے بھی نہیں، ورنہ وہ بولیں گے کہ یہ تو ابھی بھی، یعنی ٹھیک ابھی بھی، بولتا ہے۔ گائے کے نام پر لوگوں کو مار ڈالنے کی کھلی چھوٹ کو اگر آج کل افراتفری نہیں کہتے ہوں تو ہمیں پتہ نہیں، لیکن پہلے تو اسے افراتفری ہی کہتے تھے، اس پر بھی ہم کبھی بولے؟ نہیں بولے۔

نوٹ بندی تو خود مودی جی کے ذریعہ خود کے اعلان کردہ 56 انچی افراتفری تھی، اس پر بھی ہم نہیں بولے، جبکہ ریزرو بینک نے کہا تھا کہ عزتمآب، ایسی غلطی آپ مت کرنا اور کرو گے تو پچھتاوٗ گے۔ آپ نے کہا تھا، 'نہیں میں نہیں پچھتاوٗں گا، میں کچھ بھی کر دوں مگر پچھتانا-معافی مانگنا نہیں جانتا اور پچھتانا پڑا تو پچھتانے سے پہلے پھانسی لگا لوں گا، جان دے دوں گا'، ہم نے کبھی کہا کہ جناب آپ نے اپنا یہ وعدہ پورا نہیں کیا، ہم نے کہا کبھی؟ نہیں کہا۔

آج تک آپ کی اعداد و شمار تیار کرنے والی حکومت نے یہ تک نہیں بتایا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے کتنے لوگوں کی جانیں گئیں، کتنے لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے، کتنے کارخانے بند ہوئے، یہاں تک کہ آپ نے نوٹ بندی کو اپنی 'کامیابی' بتانا تک چھوڑ دیا، تب بھی ہم نے کچھ کہا؟ نہیں کہا۔ کہتے تو آپ کے 'بھکت' کہتے کہ یہ تو چپ ہی نہیں رہتا، مودی جی کی طرح بولتا چلا جاتا ہے۔

بھگوان کے بھکتوں سے تو کوئی نہیں ڈرتا، مگر ان بھکتوں سے تو ہوسکتا ہے کہ ان کے اپنے بھگوان بھی ڈرتے ہوں، حالانکہ ان کے بھگوان کا اعلانیہ طور پر سینہ 56 انچ کا ہے، لیکن مگر وہ سینہ بھکتوں کے سامنے سکڑ کر 4 انچ کا ہو جاتا ہے اور ان بھکتوں کے خلاف اگر کوئی چوں بھی کرے تو ان کے سامنے پھیل کر 56 انچ کا ہو جاتا ہے، چپ رہنا ہے، ان 4 انچی سینے کو دیکھنا ہے تو ٹام ڈ كن بن جاؤ ورنہ56 انچی پیش ہے!

دراصل بولنا اور اٹھارہ-اٹھارہ گھنٹے جھوٹ بولنا اور بلوانا ویسے ہندوستانی ثقافت میں اچھی بات نہیں مانی جاتی، لیکن ہم نے تو آج تک یہ بھی نہیں کہا کہ یہ اچھی نہیں، بری بات ہے! انہوں نے اور ان کے بھکتوں نے نہرو جی کے بارے میں کیا کیا جھوٹ نہیں بولا، یہاں تک کہ نہرو جی صبح 9 بجے سے شراب پینا شروع کر دیتے تھے، ان کے دادا مسلمان تھے اور مغلوں کے درباری تھے، ایک کیتھولک راہبہ سے انہیں ایک اولاد ہوئی تھی وغیرہ .. وغیرہ، تب بھی ہم بولے؟ نہیں بولے۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جھوٹ تو جھوٹ، ہم سچ بھی اٹھارہ گھنٹے بول نہیں سکتے، کیونکہ ہم نہ یوگا کرتے ہیں، نہ بھوگا، نہ یوگا کرکے بھوگا کرتے ہیں، نہ بھوگا کرکے یوگا ! اور پھر بھی ہم بولیں گے تو یہ بولیں گے کہ یہ سسرا مودی راج میں اتنا سچ کیسے بول لیتا ہے؟ اور صاحب ویسے بھی اٹھارہ گھنٹے بولنا اور وہ بھی سچ بولنا بہت تھكانے والا ہی نہیں، ڈرانے والا کام ہے، اس لئے ہم نہیں بولتے ورنہ بولو گے کہ یہ کیسا بندہ ہے، کل کی اسے ذرا بھی پرواہ نہیں۔

ویسے آج کل لوگ بہت سمجھدار ہو گئے ہیں، سب سمجھ جاتے ہیں کہ اس نے کیا بولا، اس وجہ سے بھی ہم نہیں بولتے، ... لگایا اور چھٹی۔ ہم اس لئے بھی نہیں بولتے کہ سوا سو کروڑ کی جانب سے بولنے والا ایک وزیر اعظم فی الحال ملک میں ہے! ویسے وہ کبھی ملک میں، کبھی بیرون ملک، کبھی کسی نیشنل پارک میں شوٹنگ میں بھی بولتا ہے۔

وہ جو بولتے ہیں، وہی گودی میڈیا بھی بولتا ہے تو ہم کیا بولیں اور کہاں بولیں؟ اور پھر بھی بولیں تو یہ بولیں گے کہ یہ بولتا ہے، ممکن ہے، ان سوا سو کروڑ میں شاید ہم بھی شامل هوں- کیونکہ یہ ووٹر لسٹ تو ہے نہیں کہ ہمارا نام کٹ جائے، اس لئے بھی ہم نہیں بولتے۔

اور یہاں جو بھی لکھا ہے ہم نے، اس کو لکھا ہوا سمجھنا، بولا ہوا نہیں، ورنہ وہ کہیں گے کہ یہ تو بول ہی رہا ہے! اور کیسا گدھا ہے کہ بھکتوں کی طرح رینگتا نہیں، بولتا ہے!