راجیہ سبھا انتخاب، اراکین اسمبلی کی نظر بندی، ریسورٹ سیاست اور پیسہ... سجاتا آنندن

مہاراشٹر نے اس ریسورٹ یا نظر بندی والی سیاست کو بہت جوش کے ساتھ قبول کیا ہے، 200 کی بات ہے جب ولاس راؤ دیشمکھ ریاست میں اقلیتی حکومت کی قیادت کر رہے تھے تب کچھ ایسا ہی دیکھا گیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سجاتا آنندن

جب میں نے سیاسی نامہ نگار کے طور پر اپنا کیریر شروع کیا، میں دیکھی تھی کہ ریاستی انتخاب کے لیے نامزدگی واپسی کے فوراً بعد سبھی سیاسی پارٹیوں کے منتخب اراکین اسمبلی غائب ہو جاتے تھے۔ ان دنوں کانگریس واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میں تھی اور تب بھی اسے کسی وجہ سے اپنے اراکین اسمبلی کے ذریعہ کراس ووٹنگ کا خوف رہتا تھا۔

یہ وجہ ایسے بزنس مین یا یہاں تک کہ میڈیا سے جڑے طاقتور صنعت کار کی طرف سے آئے تجاویز ہوتے تھے جو سیاست داں بننے کی خواہش رکھنے والے ہوتے تھے۔ ان دنوں وہ سفاری سوٹ پہنتے تھے، نہ صرف اراکین اسمبلی بلکہ اس خواہش سے صحافیوں کو کھلاتے پلاتے تھے تاکہ وہ اخبار میں خود کو لے کر، پوری طرح زیادہ اندازہ کرنے والا ہی سہی، جانبداری والی خبر چھپوا سکیں۔ اور زیادہ سے زیادہ وہ برسراقتدار پارٹی کے اراکین اسمبلی کے کچھ اضافی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔


جلد ہی پارٹیاں اپنے ہی اراکین اسمبلی کو کھانا کھلانے، شراب پلانے لگیں، انھیں ریسورٹ بھیجنے لگیں اور اس درمیان انھین ہر قسم کی سہولیات سے نوازنے لگیں۔ یہ اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ کے دوران بھی عام بات ہو گئی۔ یاد کریں، کس طرح بی جے پی نے اپنے شروعاتی دنوں میں اپنے اراکین اسمبلی کو گوا بھیجا تھا اور چڈیوں میں سوئمنگ پول میں فٹ بال کھیلتے ان کی تصویر کھینچی گئی تھی۔ تب تک یہ مشہور اراکین اسمبلی عوامی طور پر دھوتیوں یا پائجامے میں ہی دیکھے جاتے تھے۔ اس تصویر پر وبال تو ہوا لیکن بعد میں بالآخر بی جے پی اس اعتماد کے ووٹ میں کامیاب ہوئی تھی۔

مہاراشٹر نے اس ریسورٹ یا باڑا بندی (نظر بندی) والی سیاست کو جوش کے ساتھ قبول کیا۔ 2000 کی بات ہے، تب ولاس راؤ دیشمکھ ریاست میں اقلیتی حکومت کی قیادت کر رہے تھے۔ انھوں نے پایا کہ ان کے کچھ قابل اعتماد اراکین اسمبلی تقریباً راتوں رات غائب ہو گئے۔ لیکن تب کانگریس این سی پی کے ساتھ اتحاد میں تھی اور حکومت بچانے کی ذمہ داری ان پر آن پڑی۔ اس لیے وہ لوگ ان جگہوں کی تلاشی لینے لگے جہاں مغوی کیے گئے اراکین اسمبلی رکھے جا سکتے ہیں۔ ابھی شیوسینا کی قیادت والی حکومت میں جتندر اوہد این سی پی سے وزیر ہیں۔ انھیں پتہ چلا کہ رکن اسمبلی کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں نہیں بلکہ بمبئی کے باہری علاقے میں راج ٹھاکرے کے ماتوشری کلب میں ہیں۔ وہ بغیر ہتھیار کلب میں گھس گئے اور تقریباً اکیلے ہی اراکین اسمبلی کو لے آئے۔ دیشمکھ شکرگزار تھے لیکن شرد پوار آگ بگولہ۔ پوار نے اوہد سے کہا بھی کہ وہ بغیر کسی سیکورٹی وہاں گئے تھے، کیا ہوتا اگر راج ٹھاکرے کے لوگوں نے گولی وغیرہ چلا دی ہوتی!


کوئی نہیں جانتا پوار وہ واقعہ یاد کرنا چاہیں گے یا نہیں جب اکتوبر 2019 میں بی جے پی نے ان کے چار اراکین اسمبلی کو پکڑ لیا تھا اور اسمبلی میں زیادہ تعداد حاصل کرنے کی امید میں انھیں طیارہ سے گڑگاؤں کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں لے گئے تھے۔ لیکن اس بار انھیں آزاد کرنے کا ذمہ خود پوار نے سونپا تھا اور یہ بہادری والا فیصلہ تھا۔ ہریانہ کی ایک یوتھ طالبہ سونیا دوہن نے اپنی ہریانوی بول چال اور روابط کی طاقت پر پتہ لگا لیا کہ رکن اسمبلی کس کمرے میں ہیں۔ چار میں سے دو کو سوئمنگ پول علاقے میں محفوظ ڈھنگ سے لے آیا گیا لیکن دیگر کو آزاد کرایا جاتا، اس سے پہلے ہی بی جے پی کو کسی سازش کی بو آئی۔ اتفاق سے کسی اسلحہ کا استعمال نہیں کیا گیا لیکن گھونسے تو چلے ہی اور دونوں این سی پی اراکین اسمبلی زخمی ہو گئے اور انھیں خون نکلنے لگا۔ لیکن سونیا نے آخر کار انھیں کار میں لاد دیا اور دہلی کی طرف بھگا لے گئیں۔ یقیناً اس کی جان کو خطرہ تھا کیونکہ ہریانہ پولیس نے پیچھا کیا۔ وہ کچھ ہی دیر میں دہلی سرحد پر پہنچ گئی اور ہریانہ پولیس مایوس ہو کر لوٹ گئی۔ اراکین اسمبلی کو فوراً طیارہ میں سوار کر دیا گیا اور انھیں ممبئی میں پوار کے پاس لایا گیا۔

تب سے ہارس ٹریڈنگ کو لے کر مہاراشٹر مستحکم ہے، لیکن ریاست سے راجیہ سبھا کی چھ سیٹوں کے لیے سات امیدوار کھڑا ہونے کے بعد اس مہینے پھر ویسے ہی اندیشے پیدا ہو گئے ہیں۔ راجیہ سبھا کے لیے گزشتہ کچھ انتخابات میں اضافی امیدواروں کو دوڑ سے باہر ہو جانے کے لیے ترغیب کر مہاراشٹر نے اس حالت کو ٹالا ہے۔ 2007 میں جب پوار نے اپنی بیٹی سپریا سولے کو راجیہ سبھا انتخاب کے لیے امیدوار بنایا، تو شیو سینا سپریمو بال ٹھاکرے نے بی جے پی کو سپریا کے حق میں اپنا اضافی امیدوار واپس لینے کو مجبور کر دیا اور وہ بلامقابلہ منتخب ہو گئیں۔


ابھی کے حالات سے بی جے پی دو سیٹیں جیت سکتی ہے جب کہ ایم وی اے اتحاد کے تینوں امیدوار فتحیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن بی جے پی اور شیوسینا دونوں ہی چھٹی سیٹ کے لیے لڑ رہی ہیں۔ دونوں نے پورا زور لگا دیا ہے۔ بی جے پی نے راج ٹھاکرے کی پارٹی کے واحد رکن اسمبلی سمیت پارٹی کے سبھی اراکین اسمبلی کو محفوظ کیا ہوا ہے۔ این سی پی کا ہدف اپنے اس باغی کو ہرانا ہے جو دوڑ میں بی جے پی کا اضافی امیدوار ہے۔

انتخاب 10 جون کو ہے، اور بی جے پی کے دیویندر فڑنویس کووڈ کی وجہ سے کوارنٹائن میں ہیں، تو کیا ریزلٹ گیم چینجر ہونے جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔