مودی حکومت کا آخری بجٹ: وعدہ ترا وعدہ!

وزیر مالیات ارون جیٹلی اور وزیر اعظم نریندر مودی

ہوائی چپل پہننے والا شخص ہوائی جہاز سے کیسے چلے گا، اور اگر اس کے اندر ہوائی جہاز سے چلنے کی استطاعت ہوگی تو پھر وہ ہوائی چپل کیوں پہنے گا؟ گویا کہ یہ بھی ایک جملہ ہی ہے۔

1972 میں ایک فلم آئی تھی جس کا نام تھا ’’دشمن‘‘۔ اس میں کشور کمار کی گائی ہوئی یہ قوالی بہت مقبول ہوئی تھی: جھوٹا ہے ترا وعدہ، وعدہ ترا وعدہ، وعدے پہ تیرے مارا گیا،بندہ میں سیدھا سادا۔ وزیر مالیات ارون جیٹلی جب پارلیمنٹ میں مودی حکومت کا آخری بجٹ پیش کر رہے تھے اور اس سے اسکیموں، اعلانوں اور رعایتوں کی موسلا دھار بارش ہو رہی تھی تو بے ساختہ یہ قوالی یاد آگئی۔ یہ پوری قوالی مودی حکومت پر صادق آتی ہے۔ آنند بخشی آج اگر زندہ ہوتے تو وہ اس قوالی کو مودی حکومت کے نام منسوب کر دیتے۔

اس حکومت نے اپنا آغاز ہی وعدوں کی بنیاد پر کیا تھا۔ جن میں دو وعدے تو ایسے تھے جن پر پورا ملک لٹو ہو گیا تھا۔ ایک وعدہ یہ کہ ہر سال دو کروڑ افراد کو نوکریاں دیں گے اور دوسرا یہ کہ 100دن کے اندر کالا دھن واپس لائیں گے اور ہر شہری کے کھاتے میں پندرہ پندرہ لاکھ روپے جمع ہو جائیں گے۔ وہ اب نہ تو عوام کو یاد رہ گئے ہیں اور نہ ہی حکومت کو۔ ابھی نوٹ بندی کے فیصلے کو زیادہ دن نہیں گزرے ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے بہت ہی لجاجت آمیز انداز میں عوام سے بھیک مانگی تھی اور کہا تھا کہ بھائیو اور بہنو مجھے صرف پچاس دن دے دو، صرف پچاس دن۔ اگر میرا فیصلہ غلط ثابت ہو جائے تو جس چوراہے پر کہو گے میں آکر کھڑا ہو جاؤں گا۔ لیکن اب وہ معشوق کی مانند وہ وعدہ بھی بھول چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ میری حکومت کو نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے فیصلوں سے ہی مت جانچئے۔ اس کے علاوہ وعدہ دو کروڑ لوگوں کو نوکری دینے کا تھا مگر اس میں بری طرح فیل ہو گئے اور اب وعدہ کیا ہے کہ 70 ہزار نوکریاں دیں گے۔

ارون جیٹلی نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہوائی چپل پہننے والا شخص بھی ہوائی جہاز پر چلے تو دل نے کہا کہ اب جیٹلی بھی جملہ بازی سیکھ گئے ہیں۔ ابھی تک تو مودی ہی جملے اچھالتے تھے۔ مگر اب یہ بھی اچھالنے لگے ہیں۔ ارے بھائی ہوائی چپل پہننے والا شخص ہوائی جہاز سے کیسے چلے گا۔ اور اگر اس کے اندر ہوائی جہاز سے چلنے کی استطاعت ہوگی تو پھر وہ ہوائی چپل ہی کیوں پہنے گا۔ گویا یہ بھی ایک جملہ ہی ہے۔ اگر اس حکومت کے جملوں کو یکجا کرکے مرتب کر دیا جائے تو ایک کتابچہ تیار ہو جائے گا۔

خیر بات ہو رہی تھی بجٹ میں کیے گئے وعدوں کی۔ اس میں بھی کچھ ایسے ہمالیائی وعدے ہیں جو کبھی پورے نہیں ہو سکتے۔ جیسے یہ کہ دس کروڑ خاندانوں کے لیے مفت صحت بیمہ اسکیم۔ جیٹلی نے کہا کہ اس سے پچاس کروڑ لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ معاشی ماہرین اگر چہ اس کا خیر مقدم کر رہے ہیں لیکن وہ فکر مند بھی ہیں کہ جیٹلی اس کے لیے پیسے کہاں سے لائیں گے۔ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کا کہنا ہے کہ یہ تو بہت بڑا جملہ ہے۔ اس کے تحت دس کروڑ خاندانوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے لیے کوئی اسکیم نہیں ہے۔ فرض کریں کہ ہر خاندان نے اگر پانچ لاکھ کے دسویں حصے یعنی پچاس ہزار کا بھی کلیم کیا تو اس کے لیے پانچ لاکھ کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی۔ وہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اقتصادی سروے میں شرح نمو کو ساڑھے سات فیصد پر رکھا گیا ہے لیکن اس بجٹ میں یہ ناممکن ہے۔ یہ حکومت گزشتہ تین برسوں میں تین اہم مسائل یعنی روزگار، تعلیم اور زراعت میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ بھی جو کہ ایک ماہر معاشیات بھی ہیں اس بجٹ سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں مالیاتی خسارے کی فکر ہے کہ یہ حکومت اسے کیسے پورا کرے گی۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کے مطابق 2022 تک کسانوں کو کم سے کم سہارا قیمت پر پچاس فیصد کا اضافہ ہو گا۔ یہ کیسے ہوگا اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ اقتصادی سروے میں زراعت اور روزگار کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسے کیسے حکومت حل کرے گی۔ یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔ انھوں نے کہا کہ زراعت، روزگار او رتعلیم کے سلسلے میں بہت سے سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں۔

یہ تو محض چند مثالیں تھیں ورنہ حکومت نے ایسے ایسے ہمالیائی وعدے کیے ہیں کہ ہنسی آتی ہے۔ اس بجٹ سے یہ اندازہ ہوا کہ حکومت نے اسے اسی سال آٹھ ریاستوں اور اگلے سال کے اوائل میں چار ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور پھر اس کے بعد ہونے والے عام انتخابات کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا ہے۔ جب نوٹ بندی ہوئی تھی تو جہاں بہت سے شعبے بری طرح متاثر ہوئے تھے وہیں کسانوں کی بھی کمر ٹوٹ گئی تھی۔ اب جبکہ اگلے سال پارلیمانی انتخابات کا سامنا ہے اور انھیں عوام کے سامنے جانا ہے جن کو وعدو ں کے لالی پاپ تھمائے گئے تھے تو حکومت کو اس کی فکر ستا رہی ہے کہ انھیں کیسے مطمئن کیا جائے ۔ لہٰذا کسانوں پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ لیکن جو تجاویز پیش کی گئی ہیں ان کو کیسے عملی جامہ پہنایا جائے گا اس کا کوئی طریقہ سجھایا نہیں گیا ہے۔

جن طبقات پر جی ایس ٹی کی مار پڑی تھی ان کو بھی مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن کیا وہ واقعی عوام کو اس بجٹ سے مطمئن کر پائے گی کہنا مشکل ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ سوا سو کروڑ لوگوں کے سپنوں کو پورا کرنے والا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سپنے پورے کرنے والا بجٹ نہیں بلکہ سپنے دکھانے والا بجٹ ہے۔ ایسے سپنے جن کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔ مودی ایسے جادوگر ہیں جن کی جھولی میں لا تعداد سپنے ہیں۔ کچھ سپنے گزشتہ پارلیمانی انتخابات کے موقع پر دکھائے گئے تھے، کچھ اس بجٹ میں دکھائے گئے ہیں اور کچھ اگلے الیکشن میں دکھائے جائیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عوام ان سپنوں کے سنہرےجال میں پھنستے ہیں یا ’’تو نہیں اور سہی، اور نہیں اور سہی‘‘ کہتے ہوئے اسے مسترد کر دیتے ہیں۔ فی الحال ہمیں تو وہی قوالی یاد آرہی ہے کہ وعدے پہ تیرے مارا گیا، بندہ میں سیدھا سادا، وعدہ ترا وعدہ۔

سب سے زیادہ مقبول