لالو نے خود اپنے پیر پر کلہاڑی ماری

آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو

لالو پرساد کا گناہ یہ نہیں تھا کہ وہ بدعنوان ہیں، ان کا گناہ یہ تھا کہ انھوں نے صدیوں پرانے ہندو اعلیٰ ذات نظام کو چیلنج کر بہار میں پسماندہ ذاتوں کو اقتدار سونپ دیا۔

آخر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ لالو پرساد یادو کو ایک بار پھر جیل کا سفر کرنا پڑا۔ اس بار ان کو چارا گھوٹالے میں ساڑھے تین سال کی سزا دی گئی۔ الغرض لالو کی سیاست اب قید و بند کا شکار ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ لالو کو سزا اس وجہ سے ہوئی کہ وہ بدعنوان ہیں۔ سیاسی حمام میں کون ایسا ہے جو ننگا نہیں ہے۔ کچھ کی بدعنوانی پر پردہ رہتا ہے اور لالو جیسوں کی بدعنوانی کا شور مچ جاتا ہے اور سزا ہو جاتی ہے۔ دراصل بدعنوانی ہندوستانی نظام کے ہاتھوں کا ایک ہتھیار ہے جو نظام اس سیاستدان کے خلاف استعمال کرتا ہے جس سے نظام کو خطرہ ہو جاتا ہے۔ لالو پرساد کا گناہ یہ نہیں تھا کہ وہ بدعنوان ہیں، ان کا گناہ یہ تھا کہ انھوں نے صدیوں پرانے ہندو اعلیٰ ذات نظام کو چیلنج کر بہار میں پسماندہ ذاتوں کو اقتدار سونپ دیا۔ لالو کو سزا اسی بات کی مل رہی ہے کہ انھوں نے ہزاروں سال پرانے نظام کی کایا پلٹ کرنے کی جرأت کی۔ وہ لالو ہوں یا آج کے دلت لیڈر جگنیش میوانی، ایسے تمام لیڈروں کو کسی نہ کسی بہانے جیل بھیجا جاتا رہا ہے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ میں جب جب کسی نے نظام میں تبدیلی کی کوشش کی ہے تب تب اس کو خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ گاندھی جی، جواہر لال نہرو اور مولانا آزاد جیسے سینکڑوں ہندوستانی جنگ آزادی میں جیل اس لیے گئے کہ وہ انگریزی نظام کو بدلنا چاہتے تھے۔ انگریز ان لیڈروں کو جیل تو بھیجتے رہے لیکن ان کے خلاف کبھی کیچڑ نہیں اچھال سکے، کیونکہ یہ تمام لیڈر قربانی کے جذبہ سے کام کر رہے تھے۔

سماجی تبدیلی اور نظام کی کایا پلٹ میں کامیابی کے لیے لیڈر کا محض دامن پاک و صاف ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کو ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ لالو پرساد یادو، ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی جیسے لیڈروں نے ووٹ کے ذریعہ سماجی تبدیلی کی جرأت تو کی لیکن ان تمام لیڈران میں وہ قربانی کا جذبہ نہیں تھا جیسا کہ جنگ آزادی کے دوران لیڈروں میں قربانی کا جذبہ پایا جاتا تھا۔ لالو سمیت تمام سماجی انصاف کے نعرے کے ساتھ اٹھنے والے لیڈر تبدیلی کے ساتھ ساتھ اقتدار کی سیاست کرتے رہے۔ صرف یہی نہیں، انھوں نے اس سیاست کو سماجی انصاف سے ایک خاص ذات کی ووٹ بینک میں تبدیل کر اس ذات کے ساتھ چناؤ جیتنے کے لیے ایک نیا سماجی اتحاد بنا کر اپنی تبدیلی کی سیاست کو چناؤ جیتنے کا فارمولہ بنا لیا۔ مثلاً لالو اور ملائم نے یادو ووٹ بینک کو مسلم ووٹ بینک سے جوڑ کر چناؤ جیتنے کی حکمت عملی بنا لی جب کہ ان گروہوں کی زندگی میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آئی۔ ظاہر ہے کہ وہ لالو جو کبھی پورے پسماندہ ذاتوں اور مسلمانوں کے ہیرو تھے وہ آخر یادو نیتا ہو کر رہ گئے۔ نظام سمجھ گیا کہ لالو پرساد اب کمزور ہو چکے ہیں اور بس اس نے ان کو بدعنوانی کے معاملے میں گھیر کر ان کی سیاست کمزور کر دی۔

پھر لالو اور ملائم دونوں نے سیاست کا استعمال اپنے اہل خانہ کو سیاست میں جمانے کے لیے کیا۔ آج ملائم اور لالو دونوں کا پورا کا پورا کنبہ سیاست میں اہم مقام پر ہے۔ وہ یادو جو کل تک لالو سے امید رکھتا تھا کہ اس کو لالو سے کچھ ملے گا وہ بھی یہ دیکھ رہا ہے کہ یادو کے نام پر بس گھر والوں کا بھلا ہو رہا ہے۔ اس لیے یادو بھی اب اس شدت سے لالو پرساد کے لیے جان نہیں چھڑکے گا جس طرح ان کے پہلی بار جیل جانے پر وہ کھڑا ہو گیا تھا۔

لالو پرساد یادو نے سنہ 1990 کی دہائی میں اپنی سیاست کی شروعات سماجی انصاف کے نعرہ سے کی اور وہ ملک میں ایک بڑے پسماندہ ذات کے لیڈر کی شکل میں ابھرے۔ ان کا ’سماجی نیائے‘ دھیرے دھیرے ’یادو نیائے‘ بن گیا، اور اب وہ لالو خاندان کے نیائے تک سمٹ گیا ہے۔ اس لیے لالو کا قد گھٹ چکا ہے اور نظام بخوبی سمجھ چکا ہے۔ نظام کو یہ احساس ہے کہ اب لالو کو جیل بھیجنے میں ایسا کوئی انقلاب نہیں بپا ہونے والا ہے اس لیے لالو کو جیل بھیج دیا گیا۔

لالو پرساد یادو اب وہ لالو پرساد نہیں رہے جو سنہ 1990 کی دہائی میں تھے اس لیے لالو کی کہانی کا اب کوئی بڑی کروٹ لینا مشکل ہے۔

سب سے زیادہ مقبول