کیوں نہ کہوں: دوسروں کی تنقید سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت

مسلم پرسنل لاء بورڈ نے عدالت سے کہا کہ وہ اس تعلق سے ماڈل نکاح نامہ لا رہے ہیں، لیکن زمین پر انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ نتیجہ میں مسلم پرسنل لاء نے مسلم عوام میں اپنی مقبولیت اور افادیت دونوں کھو دیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

سید خرم رضا

گزشتہ ہفتہ طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا سے بھی منظور ہو گیا اور اس مرتبہ مودی حکومت کو اس کے لئے زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑی، بس راجیہ سبھا میں تھوڑا سا فلور مینجمنٹ کرنا پڑا اور بر سراقتدار پارٹی کے لئے فلور مینجمنٹ کوئی بڑا کام نہیں ہے۔ مودی حکومت کے لئے فلور مینجمنٹ اب زیادہ مسئلہ اس لئے نہیں رہا ہے کیونکہ دوسری مرتبہ جس اکثریت سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے اس کے بعد حزب اختلاف کی تمام پارٹیوں نے ایک طرح سے ان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، ہتھیار ڈالنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں بچا ہے کیونکہ ان کے اپنے ارکان بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے بیتاب نظر آ رہے ہیں۔

ایک نشست میں تین طلاق دینے کے عمل کو غیر قانونی قرار دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہندوستانی مسلم خواتین کے لئے اور مسلم سماج کے لئے ایک قابل ستائش فیصلہ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسلمان اس عمل کو بدعت سے تعبیر کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ مسلم علماء اس پر کوئی فیصلہ لیں لیکن علماء آپسی اختلافات اور ایک انجان خوف کی وجہ سے اس اصلاحی عمل کو اٹھانے سے گریز کرتے رہے۔ مسلمانوں کے اس رویہ کو دیکھ تے ہوئے سیاسی پارٹیاں بھی اس تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہتی تھیں کیونکہ سب کے ذہنوں میں یہ بات ہمیشہ تازہ رہی کہ کس طرح مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی پر دباؤ بنا کر سپریم کورٹ کا فیصلہ واپس کروایا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ راجیو گاندھی کو اس فیصلہ کا زبردست سیاسی نقصان ہوا تھا۔

بہر حال اس تعلق سے جیسے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو مودی حکومت نے اس سلسلہ میں بغیر کسی سے مشورہ کیے اس کو قانون بنانے کا عمل شروع کر دیا اور اس عمل کو مجرمانہ عمل قرار دینے کے لئے بل لے آئی۔ مودی حکومت کے پاس چونکہ راجیہ سبھا میں اکثریت نہیں تھی اس لئے راجیہ سبھا میں یہ بل پاس نہیں ہو سکا، پھر اس نے اس کے لئے آرڈیننس کا راستہ اختیار کیا۔ اب دوسری مرتبہ اس بل کو قانونی شکل دینے کے لئے لوک سبھا سے منظور کروا کر راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا اور حزب اختلاف میں موجود اختلاف رائے اور دراڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے راجیہ سبھا سے بھی اس کو منظور کرا لیا۔ اس بل کے پاس ہونے کے بعد اب کوئی بھی بیوی اگر اپنے شوہر کے خلاف یہ شکایت کر دے کہ اس کے شوہر نے اس کو ایک نشست میں تین مرتبہ طلاق دی ہے تو اس شوہر کا جیل جانا طے ہے جیسے پہلے جہیز مانگنے کی شکایت پر لڑکے والے کے گھر والوں کا جیل جانا طے ہوتا ہے۔ اب وقت کے ساتھ ساتھ اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے کہ جہیز کے قانون کا لڑکی والوں نے غلط استعمال کیا ہے جس کے بعد ایسے واقعات میں کمی آگئی ہے۔

طلاق ثلاثہ بل میں اس عمل کے لئے سزا کا قانون بنایا ہے جس کو سپریم کورٹ نے پہلے ہی ختم کر دیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ ایک نشست میں تین طلاق دینے سے طلاق ہوگی ہی نہیں، جب طلاق ہوگی ہی نہیں تو پھر اس کی سزا کیسے؟ حزب اختلاف نے اس بل کی اس لئے مخالفت کی تھی کیونکہ اس بل میں طلاق ثلاثہ کو مجرمانہ عمل قراردیا گیا ہے، حزب اختلاف کا یہ مطالبہ تھا کہ اگر لڑکی کی شکایت پر شوہر جیل چلا جاتا ہے تو پھر اس کے بچوں کی پرورش کون کرے گا۔ بہرحال اس شق کے ساتھ بل پاس کرانے کے بعد بی جے پی کو مسلم خواتین سے جو ہمدردیاں ملنی چاہیے تھیں وہ اس سے محروم رہ گئی۔

اس سارے معاملہ میں بی جے پی، حزب اختلاف اور مسلم خواتین کے علاوہ ایک فریق اور بھی ہے جس کا ذکر ضرور کیا جانا چاہیے اور وہ فریق آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے۔ پرسنل لاء بورڈ جس نے عدالت سے کہا کہ وہ اس تعلق سے اصلاح کرنے جا رہیں، ماڈل نکاح نامہ لا رہے ہیں اور طلاق ثلاثہ کو غلط بھی تسلیم کیا، لیکن زمین پر کچھ نہیں کیا۔ نتیجہ میں مسلم پرسنل لاء نے مسلم عوام میں اپنی مقبولیت اور افادیت دونوں کھو دیں۔ میں ’یہ کیوں نہ کہوں‘ کہ طلاق ثلاثہ بل پر مودی حکومت کی تنقید کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ پہلے ہم خود ہی ایک نشست میں تین طلاق دینے جیسے غلط عمل کو فروغ دے رہے تھے اور اس پر سے ہمارے علماء اور ہماری تنظیموں نے بھی وقت رہتے کوئی اصلاحی قدم نہیں اٹھائے اور ضروری اصلاحات کو غیر ضروری ٹالا گیا۔ دوسروں کی تنقید سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

Published: 11 Aug 2019, 9:10 AM