دہلی کے لیے ’مکمل ریاست‘ کا مطالبہ، لیکن کیجریوال کشمیر کے ٹکڑے ہونے پر خوش کیوں؟

اروند کیجریوال نے دفعہ 370 پر مودی حکومت کی حمایت اس لیے کی کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ مخالفت کرنے پر ’راشٹروادی ہندو‘ ناراض ہو جاتا اور اس کا خمیازہ انھیں اسمبلی انتخاب میں بھگتنا پڑتا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آشوتوش

دفعہ 370، ہندوستانی سیاست میں ایک نئے طرح کا ’سرجیکل اسٹرائیک‘ ہے۔ اس نے پوری طرح سے کشمیر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ اس فیصلے نے کئی لیڈروں اور پارٹیوں کو بھی بری طرح سے ایکسپوز کر دیا ہے۔ ایسے تمام لوگ جو دل سے دفعہ 370 ہٹانے کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی اس معاملے میں مودی حکومت کو حمایت دے بیٹھے ہیں۔ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی بھی ایسی ہی ایک پارٹی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کیجریوال ایک طرف تو دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کے لیے تحریک تک چلاتے ہیں، لیکن دوسری طرف کشمیر کو بانٹنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ سوال ہے کہ آخر یہ تبدیلی کیسے آئی؟

مودی اور کیجریوال کا جھگڑا پوری دنیا پر عیاں ہے۔ کیجریوال گزشتہ ساڑھے چار سال سے لگاتار کہتے آ رہے ہیں کہ مودی ان کو کام کرنے نہیں دے رہے ہیں اور ان کی پارٹی کو پیروں تلے کچل دینا چاہتے ہیں۔ دونوں کے رشتوں میں کافی تلخی رہی ہے۔ مودی جی نے اگر انھیں نکسلی اور شر پسند کہا ہے تو کیجریوال نے بھی انھیں بزدل اور تاناشاہ کہنے سے پرہیز نہیں کیا۔ نہایت تلخ رشتوں کے بعد بھی کیا سبب ہے کہ کیجریوال نے آناً فاناً میں دفعہ 370 کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا؟

کسی کو یہ غلط فہمی نہیں پالنی چاہیے کہ یہ دونوں لیڈر پرانی تلخی کو بھول کر ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ دونوں لیڈروں کی بڑی خاصیت ہے کہ وہ بہت تیز دماغ کے لیڈر ہیں، جو دوستوں کو تو بھول سکتے ہیں، دشمنوں کو نہیں۔ دفعہ 370 پر کیجریوال کی حمایت اگلے چھ مہینے میں ہونے والے دہلی اسمبلی کے انتخاب سے گہرائی تک جڑی ہوئی ہے۔ کیجریوال کی اس وقت کی سب سے بڑی فکر ہے کہ کیا وہ 2020 میں دوبارہ دہلی کے اقتدار میں واپس آ پائیں گے یا نہیں؟

کیجریوال کو اس وقت گہرا جھٹکا لگا جب 2019 میں امید سے کہیں زیادہ مودی کو لوک سبھا سیٹیں ملیں۔ ان سیٹوں نے اس بات پر مہر لگا دی کہ مودی پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھرے ہیں۔ جو بھی اندیشے ان کی قیادت کو لے کر ظاہر کیے جا رہے تھے، وہ بے معنی ثابت ہوئے۔ آج کی تاریخ میں نہ صرف وہ سب سے طاقتور لیڈر ہیں بلکہ اپنی پارٹی، پارٹی کے باہر اور حکومت میں کوئی بھی ان کو چیلنج دینے کی حالت میں نہیں ہے۔

کیجریوال کو بھی اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ 2015 سے 2019 تک میں زمین-آسمان کا فرق آ گیا ہے۔ کیجریوال جن میں ملک کبھی ایک متبادل تلاش کر رہا تھا، اب وہ شبیہ کافی حد تک ختم ہو چکی ہے۔ ان کی شخصیت کا ایکس فیکٹر معدوم ہو گیا ہے۔ وہ اب دوسری پارٹی کے لیڈر کی طرح ہی لگتے ہیں۔ ان کی پارٹی بھی بی جے پی-کانگریس جیسی ہی ہو گئی ہے۔ وہ بھی ویسے ہی مذہب کی سیاست کر رہے ہیں جس طرح کے دوسرے لیڈر۔ اب آپ کیجریوال کو کانوڑیوں کا استقبال کرتے دیکھ سکتے ہیں، بزرگوں کے لیے تیرتھ یاترا کا انتظام کرنے اور ان کی گاڑیوں کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ 2013 اور 2015 میں انھیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ’عآپ‘ ذات-پات، مذہب یا علاقائیت پر مبنی سیاست نہیں کرتی۔ وہ سیاست کو بدلنے آئی ہے۔

2015 کے اسمبلی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد عآپ فتح کے لیے ترس گئی ہے۔ پنجاب، جہاں انھیں حکومت بنانے کی امید تھی، وہ بری طرح سے شکست کھا گئی۔ اس کے بعد دہلی میں ایم سی ڈی انتخاب میں عآپ کا سوپڑا صاف ہو گیا۔ ان کا ووٹ فیصد جو اسمبلی الیکشن میں 50 فیصد سے اوپر تھا، وہ سمٹ کر 26 فیصد رہ گیا۔ رہی سہی کسر لوک سبھا کے انتخاب میں نکل گئی۔ ’عآپ‘ نہ صرف ساتوں لوک سبھا کی سیٹ ہار گئی بلکہ پانچ سیٹوں پر وہ کانگریس سے پیچھے رہی۔ کانگریس کا ووٹ فیصد عآپ سے کہیں آگے رہا۔ یہ وہی کانگریس تھی جس کو 2015 کے اسمبلی انتخاب میں ایک بھی سیٹ حاصل نہیں ہوئی تھی۔ بی جے پی بھی اس انتخاب میں محض تین سیٹوں پر محدود ہو گئی تھی۔

عآپ کی چمک پوری طرح سے ختم ہو چکی ہے۔ اس کے تمام بڑے لیڈر یا تو پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا پھر پارٹی سے نکال دیئے گئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب ملک بھر کے تمام معروف لوگ عام آدمی پارٹی سے جڑنا چاہتے تھے۔ یہاں تک کہ پرشانت کشور، چیتن بھگت، نوجوت سنگھ سدھو، منپریت بادل جیسے لوگ عآپ میں داخل ہونے کا راستہ تلاش کر رہے تھے۔ لیکن عآپ ان کو اپنے ساتھ لانے میں ناکام رہی یا ان کو لے کر خود غیر محفوظ ہو گئی۔ آج کوئی بھی بڑا آدمی عآپ سے جڑنے کو بے صبر نہیں ہے۔

ظاہر ہے عآپ کا ڈی این اے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں بدل چکا ہے۔ اس کی قیادت کی اخلاقی چمک کمزور ہو چکی ہے۔ اس کے انقلابی تیور مدھم پڑ چکے ہیں۔ پارٹی قیادت میں اپنے اراکین اسمبلی کو سنبھال کر رکھنے کا ہنر ختم ہو چکا ہے۔ ان کے کم از کم نصف درجن اراکین اسمبلی یا تو پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا چھوڑنے کو تیار ہیں۔ الکا لامبا جیسے مشہور چہرے کو بھی پارٹی سنبھال نہیں پائی اور وہ اب آزادانہ انتخاب لڑنے کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں۔

کیجریوال کو معلوم ہے کہ آج مودی نہ صرف ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں بلکہ ہندوؤں کا ایک طبقہ انھیں اپنا ’دیوتا‘ بھی مانتا ہے۔ پھر نیشنلزم کا بخار بھی لوگوں پر چھایا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ صرف دفعہ 370 کا مسئلہ ہوتا تو سمجھا جا سکتا تھا۔ امت شاہ نے 370 کے سوال کو ملک کے وقار اور حب الوطنی سے جوڑ دیا ہے۔ اس لیے کشمیر میں بھلے ہی عوام صدمے میں ہوں لیکن کشمیر کے باہر لوگوں میں خوشی کی لہر ہے۔

ایسے میں کیجریوال کو لگتا ہے کہ دفعہ 370 کی حمایت اگر نہیں کی تو دہلی کا ’نیشنلسٹ‘ ہندو ناراض ہو جائے گا اور اس کا خمیازہ پارٹی کو اسمبلی انتخاب میں بھگتنا پڑے گا۔ یہ وہی پارٹی ہے جس نے 2015 میں عآپ کو ووٹ دینے کے لیے جامع مسجد کے امام کے فتوے کو نہ صرف درکنار کر دیا تھا بلکہ ان کی لعنت ملامت بھی کی تھی۔

سال 2013 اور 2015 میں کیجریوال یہ سمجھ سکتے تھے کہ دفعہ 370 کا سوال ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھ سکتے تھے کہ جو پارٹی دہلی میں مکمل ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہے، وہ کسی دوسری مکمل ریاست کے ہاتھ پیر کاٹ کر اسے مرکز کے ماتحت ریاست بنانے کو کس طرح سپورٹ دے سکتی ہے؟ لیکن یہ سوال پرانے اور اصول پسند کیجریوال کی روح کو تو کچوٹ سکتے تھے، وزیر اعلیٰ کیجریوال کی روح کو نہیں۔ کیونکہ یہ کیجریوال اپنی اخلاقی سیاسی پونجی گنوا چکے ہیں۔ لہٰذا وہ جیتنے کے لیے وہی ہتھکنڈے اختیار کریں گے جو دوسری پارٹیاں کرتی ہیں۔ اب ان سے اخلاقی سیاست کی امید کرنا بے کار ہے۔

Published: 8 Aug 2019, 1:10 PM