وزیر اعظم بننے کا کے سی آر کا خواب چکناچور... سہیل انجم

راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کو تلنگانہ میں زبردست حمایت ملی تھی، عوام نے پورے جوش و خروش کے ساتھ یاترا کا ساتھ دیا تھا، اسی وقت یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ کانگریس اس ریاست میں اقتدار میں آ سکتی ہے۔

چندرشیکھر راؤ، تصویر آئی اے این ایس
چندرشیکھر راؤ، تصویر آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ اگر چہ کانگریس کو ہندی بھاشی ریاستوں میں شکست ہوئی ہے لیکن اس کا سورج جنوب میں طلوع ہو گیا ہے۔ اس سے قبل غیر منقسم آندھرا پردیش کانگریس کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ تقسیم کے بعد دو ریاستیں وجود میں آگئیں۔ ایک آندھرا پردیش اور دوسری تلنگانہ۔ آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس برسراقتدار ہے اور سابق وزیر اعلیٰ وائی ایس آر ریڈی کے فرزند جگن موہن ریڈی وزیر اعلیٰ ہیں۔ جبکہ تلنگانہ میں بی ایس آر برسرقتدار ہے اور اس کے رہنما کے چندر شیکھر راؤ عرف کے سی آر وزیر اعلیٰ ہیں۔ اسمبلی الیکشن تلنگانہ میں ہوا ہے اور وہاں کے سی آر کی پارٹی کی بری طرح شکست ہوئی ہے۔

کے سی آر کی پارٹی کا نام پہلے ٹی آر ایس تھا۔ یعنی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی۔ لیکن کے سی آر نے اس کا نام بی آر ایس کر دیا۔ یعنی بھارتیہ راشٹریہ سمیتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی کہ کے سی آر خود کو ایک مقبول رہنما سمجھنے لگے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ تلنگانہ میں تو حکومت کر ہی رہے ہیں وہ مرکز کی سیاست میں بھی دخیل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے اپنی پارٹی کا علاقائی نام تبدیل کرکے ایک آل انڈیا نام رکھ دیا۔ بہت سے لیڈروں کی طرح ان کی نظریں بھی وزیر اعظم کی کرسی پر مرکوز ہیں۔ یعنی وہ بھی اپنے دل میں وزیر اعظم بننے کا خواب پالے ہوئے ہیں۔


یہی وجہ ہے کہ جب کانگریس اور دیگر پارٹیوں کی جانب سے بی جے پی کے خلاف ایک اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو کے سی آر نے اس اتحاد کے خلاف بیانات دینے شروع کر دیے۔ انھوں نے اپنے بیانات یا اقدامات سے کبھی بھی یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ بھی اپوزیشن اتحاد میں یقین رکھتے ہیں یا وہ بھی اس اتحاد کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ بلکہ انھوں نے اس کی راہ میں رکاؤٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ دراصل وہ یہ چاہتے رہے ہیں کہ انھیں ایک قومی لیڈر کی حیثیت سے سمجھا جائے۔ وہ اپنی پارٹی کو دوسری بڑی پارٹیوں کی طرح ہی مقبول سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو یہ خوش گمانی ہو گئی ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔

ویسے تلنگانہ کے الیکشن میں بی جے پی اور بی ایس آر کے درمیان اندر اندر سمجھوتہ ہو گیا تھا۔ دکھانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور دوسرے لیڈروں نے وہاں انتخابی مہم چلائی اور وزیر اعظم نے کے سی آر اور بی آر ایس کے خلاف بیانات دیے لیکن دراصل وہ سب ایک حکمت عملی کا حصہ تھا۔ وزیر اعظم کے بیانات محض رسم ادائیگی تھی ان میں کوئی دم نہیں تھا۔ بی جے پی کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ تلنگانہ میں اس کی زمین بہت کمزور اور کانگریس کی مضبوط ہے۔ اس کو اس بات کا احساس تھا کہ وہاں اس کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔ اس لیے اس نے اندر خانے کانگریس کے خلاف سازباز کر لی۔ 


غالباً بی جے پی کا یہ خیال تھا کہ اگر وہ طاقت کے ساتھ انتخابی مہم چلائے گی تو کانگریس مخالف ووٹ بٹ جائے گا جس سے بی آر ایس کو نقصان اور کانگریس کو فائدہ ہوگا۔ اس لیے اس نے انتخابی مہم میں جان ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ریاست کے عوام نے نہ صرف اس بات کو محسوس کیا بلکہ یہ بھی محسوس کیا کہ اگر کانگریس برسراقتدار آجائے تو ان کے لیے بہتر فلاحی پروگرام چلائے جا سکتے ہیں۔ وہاں کے عوام نے سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی کے اعلانات پر یقین کیا اور ان کی بھرپور حمایت کی۔

دراصل راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کو تلنگانہ میں زبردست حمایت ملی تھی۔ وہاں عوام نے پورے جوش و خروش کے ساتھ یاترا کا ساتھ دیا تھا۔ اسی وقت یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ کانگریس اس ریاست میں اقتدار میں آسکتی ہے۔ یاد رہے کہ تلنگانہ ریاست کا قیام 2014 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد پہلی بار کانگریس وہاں حکومت بنانے جا رہی ہے۔ بھارت جوڑو یاترا کی زبردست پذیرائی کے پیش نظر کانگریس پارٹی نے ریاست میں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانا شروع کر دیا تھا۔ کانگریس نے اسی وقت یہ طے کر لیا تھا کہ وہ اسمبلی انتخابات میں کسی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کے بجائے تنہا لڑے گی۔


اسی درمیان پارٹی کے کچھ ناراض لوگوں نے ریاستی صدر اے ریونتھ ریڈی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ لیکن کانگریس اعلیٰ کمان نے اس مطالبے کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا۔ البتہ ریاست کے انچارج منیکم ٹیگور کو ہٹا دیا جو کہ ریاستی صدر کے بڑے حامی تھے۔ اسی درمیان کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو زبردست جیت حاصل ہوئی جس نے ریاست میں بھی اس کی شاخ کو حوصلہ دے دیا۔ کرناٹک میں کانگریس حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا کرنا شروع کیا تو تلنگانہ میں یہ پیغام گیا کہ کانگریس جو وعدے کرتی ہے انھیں پورا بھی کرتی ہے اور اگر تلنگانہ میں بھی کانگریس آجائے تو عوام کا بھلا ہی ہوگا۔

اپنے خلاف ماحول کا احساس کرتے ہوئے کے سی آر نے سینئر رہنماؤں کے ایک وفد کو کرناٹک بھیجا جس نے کسانوں، نوجوانوں اور عورتوں سے ملاقات کی اور انھیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ عوام نے جو ذہن بنانا شروع کیا تھا وہ قائم رہا۔ ادھر پارٹی اعلیٰ کمان نے ریاستی صدر کو بھی ایک دائرے میں رکھا۔ وہ زبردست مقرر ہیں لیکن ان کے مزاج میں سختی بھی ہے۔ اعلیٰ کمان نے ان کو اس بات کے لیے قائل کیا کہ وہ اپنے مزاج کی سختی کو بدلیں اور عوام کے درمیان پارٹی کی فلاحی پالیسیوں کے بارے میں تقریر کریں۔ ان کی تقریروں نے بھی رنگ دکھایا اور اسی کے ساتھ راہل گاندھی کی باتوں پر بھی ریاست کے عوام نے اعتبار کیا۔


پارٹی اعلیٰ کمان نے کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کو تلنگانہ کا انچارج بنایا۔ انھوں نے ایسی زبردست حکمت عملی اختیار کی کہ کے سی آر کی حکومت کا تختہ پلٹ کر رکھ دیا۔ ریاست میں کانگریس کی جیت کا سہرا جہاں راہل گاندھی کے سر جاتا ہے وہیں ڈی کے شیو کمار کے سر بھی جاتا ہے۔ بہرحال کے سی آر نے ریاست سے نکل کر مرکزی سیاست میں آنے اور بالخصوص وزیر اعظم بننے کا جو خواب دیکھا تھا وہ چکناچور ہو گیا۔ ان کی شکست کا اثر ان کی پارٹی کے پارلیمانی انتخابات پر بھی پڑے گا۔ مجموعی طور پر اس الیکشن میں سب سے زیادہ نقصان اگر کسی کا ہوا ہے تو کے سی آر کا ہوا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔