کشمیر فلسطین کی رَاہ پر گامزن...ظفر آغا

اس وقت کشمیر میں موت کا سناٹا ہے۔ چپے چپے پر فوج اور سیکورٹی فورس کشمیریوں کی سانس پر بھی نگاہ رکھے ہوئے۔ کرفیو کے خوف سے دم توڑتا مریض بھی ڈاکٹر تو کیا سرکاری اسپتال تک جانے کی جرأت نہیں کر سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ظفر آغا

وادیٔ کشمیر دیکھتے ہی دیکھتے جنت سے جہنم بن گئی۔ یوں تو پاکستان نے پہلے ہی دہشت گردی کی آگ سلگا کر کشمیر کو جہنم کے دروازے تک دھکیل دیا تھا، لیکن جو کچھ بچی کھچی کسر رہ گئی تھی وہ مودی حکومت نے پوری کر دی۔ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کے ذریعہ آئین کی دفعہ 370 ختم کر اور جموں و کشمیر کو دو حصوں میں بانٹ کر، ساتھ ہی اس کا ریاست کا درجہ ختم کر وہاں صدر راج کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مضبوط کر دیا۔ یوں سمجھیے کہ اب کشمیر مستقل طور پر زیر مرکز ہے اور کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ اب سری نگر میں نہیں بلکہ نئی دہلی میں ہوگا۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت کشمیر میں موت کا سناٹا ہے۔ چپے چپے پر فوج اور سیکورٹی فورس کشمیریوں کی سانس پر بھی نگاہ رکھے ہوئے۔ سڑکوں پر ہو کا عالم ہے۔ کرفیو کے خوف سے دم توڑتا مریض بھی ڈاکٹر تو کیا سرکاری اسپتال تک جانے کی جرأت نہیں کر سکتا ہے۔ دوسری جانب سارے ملک میں کشمیریوں کی اس حالت زار پر سارے ملک میں خوشی کی ایک لہر دوڑ رہی ہے۔ نریندر مودی اور امت شاہ کی فاتح کشمیر کی طرح پوجا ہو رہی ہے۔ پاکستان کی شکست اور کشمیری مسلمان کی غلامی سے ہندوستانی اکثریت میں جو خوشی کا عالم ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ اور کیوں نہ ہو! سنگھ اور بی جے پی کا دیرینہ کشمیری خواب آخر پائے تکمیل کو پہنچا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سنگھ کا ہندو راشٹر کا خواب اب تیزی سے شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔ تین طلاق ختم، کشمیر پوری طرح مرکز میں ضم، آئین میں وہ تمام تبدیلیاں ہو چکیں جس کے ذریعہ ہندو راشٹر کی راہ میں آنے والے کو دہشت گرد کہہ کر حکومت جب چاہے جیل بھیج دے۔ ہندوستان یوں تو جمہوری ریاست ابھی بھی ہے لیکن اب اس جمہوری نظام میں دو طرح کے شہری ہوں گے۔ ایک وہ جن کو ہر قسم کے حقوق ملیں گے، بشرطیکہ وہ اکثریتی طبقہ سے ہوں اور سنگھ و بی جے پی کے ہندوتوا نظریہ کو تسلیم کرتے ہوں۔ دوسرے وہ جو اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں ان کو کاغذ پر تو اب بھی شہری حقوق حاصل ہیں لیکن آسام کی طرح این آر سی کی تلوار لٹکا کر ان کو کبھی بھی حق شہریت سے بھی محروم کیا جا سکتا ہے۔ اب سنگھ کی دو ایک خواہش جیسے رام مندر کی تعمیر اور واحد سول کوڈ جیسی چیزیں بھی بی جے پی کا سیاسی مفاد دیکھتے ہوئے پوری کر دی جائیں گی۔

جی ہاں، ہندو راشٹر میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ ایک ایسا ہندو راشٹر کہ جس میں کانگریس کے ایک گروہ اور مٹھی بھر بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ ہندوستان کی تمام سیاسی پارٹیاں بھی اپنا سر تسلیم خم کر چکی ہے۔ وہ مسلمانوں کا دم بھرنے والے ٹی آر ایس ہوں، ملائم سنگھ و مایاوتی سب ہی کشمیر پر اور تین طلاق جیسے سنگھ کے ایشوز پر مودی حکومت کے ساتھ ہیں۔ ملک میں اب ہندوتوا کا راج ہے اور راج رہے گا، خواہ حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو۔ محض ایک کانگریس پارٹی اور اس میں بھی گاندھی-نہرو خاندان ہے جو ابھی تک سنگھ اور ہندو راشٹر کے خلاف ہے۔ باقی تو سب سیدھے طور پر یا پس پردہ سنگھ اور ہندو راشٹر کا ایجنڈا تسلیم کر چکے ہیں۔

خیر، فی الحال سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اب کشمیریوں کا کیا ہوگا! وہی ہوگا جو تاریخ میں کسی بھی محکوم قوم کا ہوتا ہے۔ دراصل کشمیری آزادی کے بعد سے ہی بدقسمت رہے اور خود بھی انھوں نے جذبات میں بہہ کر اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار لی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے تو پاکستان اس مغالطے میں رہا کہ جنگ کے ذریعہ وہ کشمیر کو ہندوستان سے چھین لے گا۔ لیکن جب اندرا گاندھی نے سنہ 1971 میں پاکستان کے دو ٹکڑے کر دئیے تو پاکستانی فوج ہندوستان سے ڈر گئی۔ جنرل ضیا الحق نے سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد یہ حکمت عملی بنائی کہ کشمیر میں دہشت گردی پیدا کر ہندوستانی فوج کو کشمیر میں انگیج کر دو۔ چونکہ افغانستان میں سوویت مداخلت کی وجہ سے اس وقت امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی اس لیے امریکہ نے بھی پاکستان کی کشمیر کے تئیں دہشت گردانہ پالیسی پر خاموشی اختیار کی۔ ادھر سنہ 1980 کی دہائی کے آخری دور سے اب تک پاکستان کشمیریوں کو ہتھیار دیتا رہا اور خود بھی دہشت گرد بھیجتا رہا۔ کشمیر میں ہماری فوج پھنس کر رہ گئی۔ ادھر کشمیریوں کو جذبات میں یہ محسوس ہونے لگا کہ ان کو اب آزادی ملی اور تب آزادی ملی۔ جب کہ پاکستان کو کشمیریوں کی آزادی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ تو بس کشمیر میں دہشت گردی کے زور پر ہندوستانی فوج کو پھانسے رکھنا چاہتے تھے تاکہ ہندوستان کو پاکستان کے خالف جنگ کا کوئی موقع ہی نصیب نہ ہو سکے۔

بے چارا کشمیری ہندوستانی فوج اور پاکستانی فوج کے بیچ عالمی بساط سیاست کا لقمہ اجل بنتا رہا۔ آخر مودی جیسا حکمراں جب برسراقتدار آیا تو اس نے پوری طاقت کا استعمال کر کشمیر میں پاکستان کا کھیل ختم کر دیا۔ آخر کشمیری جذباتی سیاست کر اب غلامی کی منزل کو پہنچ گیا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد عالمی صورت حال بدل چکی ہے۔ اب ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے اور دنیا کا ایک بڑا اہم مارکیٹ بھی ہے۔ ادھر مسئلہ افغانستان اب ختم ہونے کو ہے اور جلد ہی وہاں طالبان کی حکومت ہوگی۔ امریکہ کو اب پاکستان کی وہ ضرورت نہیں جو پہلے کبھی تھی۔ اس لیے کشمیر پر ہندوستان نے جو قدم اٹھایا ہے اس کی عالمی سطح پر کوئی خاطرخواہ مخالفت نہیں ہوگی۔ کچھ ایک دو بیان کے سوا کچھ اور نہیں ہونے والا ہے۔ پاکستان بھی سمجھ چکا ہے کہ عالمی سیاست کے بدلتے رخ میں وہ اب دہشت گردی کی حکمت عملی زیادہ اور نہیں چلا سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان بھی کشمیریوں کے لیے زبانی جمع خرچ تو کرے گا لیکن ہتھیار وغیرہ دینا بند کر دے گا۔

لیکن جذباتی کشمیری اگر ابھی فوراً نہیں تو کچھ عرصے کے بعد فلسطینیوں کی طرح پتھروں سے لڑنے کی کوشش کرے گا۔ ادھر سنگھ اور حکومت وادیٔ کشمیر میں تیزی سے باہر سے لا کر نئی ہندو آبادی بنا کر وادی میں مسلم آبادی کو اقلیت میں پہنچا دے گی۔ بغیر عالمی اور پاکستانی مدد کے کشمیریوں کا وہی حشر ہوگا جو فی الحال فلسطین میں فلسطینیوں کا ہے۔

Published: 11 Aug 2019, 11:10 AM