جانیے کس طرح نام نہاد مسلم لیڈروں کے چہرے سے ’کشمیر‘ نے ہٹا دیا نقاب!

بنیادی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی رہنما ہے ہی نہیں۔ یعنی ملک کے 18 کروڑ سے زیادہ مسلمان صرف ایک ووٹ بینک ہے، جن کا استعمال مذہبی اور سیاسی لیڈران کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

عباس مظفر

سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری کو جب کشمیر بندی کے دوران سری نگر جانے سے روک دیا گیا تو سپریم کورٹ پہنچے اور اپیل کی کہ عدالت کشمیر حکومت کو حکم جاری کرے کہ وہ اپنے بیمار دوست اور وادی میں سی پی ایم کے واحد رکن اسمبلی یوسف تاریگامی سے ملاقات کر سکیں۔ عدالت نے کچھ شرائط کے ساتھ انھیں وہاں جانے اور تاریگامی سے ملنے کی اجازت دے دی۔ ان شرطوں میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ وہاں کوئی سیاسی تقریر نہیں دیں گے، گویا کہ یہ کوئی جرم ہو۔

لیکن یچوری تو صرف ایک پارٹی کے لیڈر تھے اور انھیں اپنی پارٹی کے ساتھی اور رکن اسمبلی کی فکر تھی۔ انھوں نے اس کے لیے سپریم کورٹ تک کا دروازہ کھٹکھٹا دیا، اور عدالت کو ماننا پڑا کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔

سوچیے کہ کیا ہوتا اگر ہزاروں مسلمانوں نے اس طرح کی عرضیاں سپریم کورٹ میں لگائی ہوتیں۔ کشمیر وادی میں 80 لاکھ مسلمان ہیں جو گزشتہ 60 دنوں سے گھروں میں قید ہیں۔ پھر بھی ایک بھی مسلم مذہبی لیڈر یا سیاسی-مذہبی لیڈر نے کشمیر جانے کی کوشش نہیں کی۔

اویسی صاحب، جواب تو دیں، آخر کیوں؟

آئیے، سب سے پہلے بات بات پر مسلمانوں کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے اسدالدین اویسی کی ہی بات کر لیں۔ وہ اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ شیروانی اور ٹوپی پہنتے ہیں، سینہ ٹھونک کر کہتے ہیں کہ ہم یہیں کے ہیں، سب مسلمان بھائی ہیں۔ ان کی آبائی ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے آگے، اویسی کی پارٹی اتر پردیش، بہار اور مہاراشٹر میں بھی کچھ حصوں میں زمین تلاشنے کی کوشش میں ہے۔

لیکن کشمیری مسلمانوں پر کیا گزر رہی ہے، اسے لے کر ان کے ذہن میں کچھ نہیں آیا۔ پارلیمنٹ میں تو انھوں نے 370 اور 35 اے کے خلاف کھل کر مخالفت کی، لیکن پارلیمنٹ کے باہر انھیں کیا ہو گیا؟ آخر اس انسانی بحران سے وہ کیوں منھ پھیرے ہوئے ہیں؟ کیا اویسی ان 80 لاکھ کشمیریوں کے نمائندہ نہیں ہیں۔ آخر وہ کیا ہے جو اویسی کو کشمیر جا کر وہاں کے لوگوں کی مشکل حالت سمجھنے، ان کی مدد کرنے سے روک رہی ہے؟ اور، اویسی تو ایک بیرسٹر ہیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا کہ وہ بھی کشمیر جانا چاہتے ہیں، لوگوں سے مل کر ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں؟

سیتا رام یچوری کے مقابلے تو ان کا کیس زیادہ مضبوط مانا جاتا! اگر یچوری اپنے ایک ساتھی کے لیے عدالت جا سکتے ہیں تو اویسی اپنے لاکھوں مسلم بھائیوں کے لیے کیوں نہیں؟

اعظم خان بھی خاموش ہیں، کیوں؟

صرف اویسی ہی نہیں، اتر پردیش میں رام پور کے مضبوط تصور کیے جانے والے رکن پارلیمنٹ اعظم خان بھی تو وکیل ہیں، لیکن وہ بھی کشمیر پر خاموش ہیں۔ 2017 میں بی جے پی سے شکست کھانے کے پہلے کئی بار حکومت بنانے والی سماجوادی پارٹی میں اعظم خان کو مسلموں کا بڑا چہرہ مانا جاتا تھا۔ ان کے پاس تو وکیلوں کی ایک فوج بھی ہے جو ان کے خلاف درج 80 سے زیادہ معاملوں کو نمٹانے میں لگے ہیں۔ آخر انہی وکیلوں سے سپریم کورٹ میں عرضی ڈلوا دی ہوتی!

17ویں لوک سبھا میں جب اراکین پارلیمنٹ کی حلف برداری ہوئی تو اس بات پر خوب شور شرابہ ہوا کہ اراکین پارلیمنٹ نے مذہبی نعرے لگائے۔ نئی لوک سبھا کے کل 27 مسلم اراکین پارلیمنٹ میں سے کئی نے تو مذہبی نعرے لگا کر خود کی مسلم پہچان زور و شور سے قائم کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان میں سے ایک بھی کشمیر جانے کی اجازت مانگنے سپریم کورٹ کے دروازے تک نہیں پہنچا۔ کیوں؟

کیوں مجبور ہیں مدنی، دیوبند اور کلب جواد؟

کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد ایک استثنیٰ ہیں۔ ایک کشمیر ہونے کے ناطے وادی جا کر وہاں کی حالت دیکھنے کی ان کی خواہش آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ اب مسلمانوں کے سب سے بڑے حصے سنیوں کے سب سے اہم مذہبی لیڈر مولانا محمود مدنی اور ان کے چچا ارشد مدنی کی بات کرتے ہیں۔ دیوبند میں سب سے بڑے مسلم مذہبی ادارہ جمعیۃ علماء ہند میں محمود مدنی جنرل سکریٹری ہیں اور ارشد مدنی صدر۔

دیوبند مدرسہ کئی بار فتویٰ جاری کرتا ہے اور اپنے لاکھوں حامیوں سے انھیں لفظ بہ لفظ ماننے کی امید بھی رکھتا ہے۔ اس کے باوجود 12 ستمبر 2019 کو ہوئی سالانہ میٹنگ میں ادارہ نے کشمیر کے خصوصی درجہ کے خاتمہ کی حمایت میں قرارداد پاس کر دی۔ ادارہ نے 35اے کو خارج کیے جانے کی بھی حمایت کی، جب کہ یہ کشمیری آبادی میں حکومت کے ذریعہ اسپانسرڈ نسلی اور مذہبی تبدیلیوں کی شروعاتی پیش قدمی ہے۔

آخر دیوبند اور مدنی کو کیوں کشمیر کے مسلمانوں کی فکر ہوئی؟

اتنا ہی نہیں، اس کے بدلے ارشد مدنی نے ستمبر کے شروع میں دہلی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کی۔ میٹنگ کے بعد انھوں نے مبینہ طور پر کہا کہ آر ایس ایس ہندو راشٹر کی سوچ چھوڑ سکتا ہے۔

ایک وقت سَنگھ یعنی آر ایس ایس کے کٹر مخالف رہے دیوبند کو اب آر ایس ایس سے دقت نہیں ہے۔ ایک سنگین اور نازک ایشو پر ادارہ کے تازہ رخ سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ تبھی تو کشمیر پر حکومت کی کارروائی کے ایک ہفتے کے اندر ادارہ نے حمایت پر مبنی قرارداد پاس کر دی۔ صرف اتنا ہی نہیں، ادارہ نے حکومت کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کو مجرمانہ بنائے جانے والے قانون اور آسام کی طرز پر ملک میں قومی رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) بنائے جانے والے پلان کی حمایت کی ہے۔ حالانکہ طلاق ثلاثہ پر سرکاری قانون کی پہلے ادارہ نے مخالفت کی تھی۔

سرگوشیاں تو یہ بھی ہیں کہ دیوبند اور جمعیۃ کو بیرون ملکی فنڈ، خاص طور سے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ ممالک سے آنے والی مدد پر حکومت نے شکنجہ کسا ہے۔ پہلے ان دعووں پر یقین نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن اب بیرون ملکی فنڈنگ سمیت مدنی کی غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات سے جڑی باتیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

ایک اور سنی مذہبی لیڈر دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری اور بریلی مدرسہ سے جڑے مذہبی لیڈر نے کشمیر جانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ سب سے اہم یہ ہے کہ شیعہ لیڈر کلب جواد نے دفعہ 370 کو ہٹائے جانے کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اسے درست بھی ٹھہرایا۔ 6 اگست 2019 کو کارروائی کے ایک دن بعد ہی جواد کی ویب سائٹ سیاست ڈاٹ کام پر یہ بیان چھپا۔ اس قدم کے بعد کشمیر کو دوسری ریاستوں کے جیسا درجہ مل گیا ہے۔ جواد نے کشمیریوں سے کہا کہ اگر وہ خود کو ہندوستان کا حصہ سمجھتے ہیں، تو انھیں دوسرے شہریوں کی طرح سبھی حقوق مل جائیں گے۔

یا تو جواد بہت چالاک ہیں یا وہ اپنے حامی شیعہ لوگوں کی سمجھ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ان کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کو چھینے جانے کو کشمیریوں کے لیے بہتر مانتے ہیں۔ وہ مان کر چلتے ہیں کہ شیعہ مسلم، جو بہتر تعلیم حاصل کرتے ہیں اور سمجھدار ہیں، انھیں پتہ نہیں کہ دفعہ 370 اور 35 اے سے کشمیری لوگوں کو دوسرے ہندوستانی لوگوں سے زیادہ حقوق ملے ہوئے تھے۔ انھوں نے بھی کشمیر جانے کی کوئی کوشش نہیں کی، جب کہ کشمیر کے 80 لاکھ مسلمانوں میں سے 25 سے 30 فیصد تو شیعہ ہی ہیں۔

یہاں پھر سے یاد دلا دیں کہ یچوری نے صرف ایک ساتھی کا ذکر کیا تھا اور ان کے لیے کشمیر جانے کی اجازت لینے کے لیے کافی تھا۔ اعظم خان کی طرح کلب جواد کے خلاف پولس نے کئی مقدمے درج کر رکھے ہیں۔ اس میں شیعہ طبقہ کے لیے چندے کے طور پر غیر اعلانیہ بیرون ملکی فنڈ اکٹھا کرنے کا بھی الزام شامل ہے۔ یہ الزام جواد کے ہی ایک معاون رہے وسیم رضوی نے لگائےہیں۔ رضوی فی الحال شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین ہیں۔

رضوی کو جواد کی سفارش پر ہی وقف بورڈ کا چیئرمین بنایا گیا تھا۔ لیکن آج دونوں دشمن ہیں۔ دونوں ہی ایک دوسرے پر سنگین الزام لگاتے رہتے ہیں۔ لیکن کسی کے پاس اس مشکل وقت میں کشمیریوں کا ساتھ دینے کا وقت نہیں ہے۔ جواد نے رضوی کے خلاف وقف بورڈ کی زمین غلط طریقے سے فروخت کرنے اور زمین پر قبضہ کرنے کے الزام لگائے ہیں۔ رضوی نے بھی جواد پر اسی قسم کے الزام لگائے ہیں۔ رضوی بھی سماجوادی پارٹی کے قریبی ہوا کرتے تھے۔ لیکن بدلتے سیاسی ماحول میں انھوں نے اپنی وفاداری بدل دی۔ اسی کے سبب وہ جواد کے حلقہ اثر میں دخل بنانے میں کامیاب رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جواد خود بھی کئی بی جے پی لیڈروں کے دوست ہیں۔ ان میں راج ناتھ سنگھ بھی شامل ہیں۔

حالانکہ رضوی کی جواد کی طرح شیعہ طبقہ پر کوئی بہت بڑی گرفت نہیں ہے، نہ ہی وہ مذہبی لیڈر ہیں۔ جواد کے پاس عدالت جانے کے وسائل موجود ہیں، لیکن بی جے پی لیڈروں سے دوستی کے سبب وہ بھی خاموش بیٹھے ہیں۔

سیکولر لیڈروں کا کیا ہوا؟

اب بات کرتے ہیں جاوید اختر، سعید نقوی، عارف محمد خان، شبانہ اعظمی جیسے نام نہاد سیکولر مسلم دانشوروں کی۔ یاد کریں کہ شبانہ اعظمی اور جاوید اختر اپنی خواہش سے کنہیا کمار کے لیے تشہیر کرنے گئے تھے۔ وہاں انھوں نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ کنہیا کو ووٹ دیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بھی کوئی لیڈر سپریم کورٹ تک نہیں پہنچ پایا۔

تو مجموعی طور پر بنیادی سوال اب یہی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی رہنما یا لیڈر یا قائد ہے ہی نہیں۔ کم از کم ایسا جسے مسلمان صحیح معنوں میں اپنا لیڈر کہہ سکیں۔ یعنی ملک کے 18 کروڑ سے زیادہ مسلمان صرف ایک ووٹ بینک ہے، جن کا استعمال مذہبی اور سیاسی لیڈر کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ کیا مسلمان کبھی ان لیڈروں کے چہروں پر لگے نقاب کے پیچھے دیکھ پائیں گے؟

ملک کی مسلم آبادی کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ اپنی قیادت کو پہچان سکتے۔ لیکن اس نام نہاد قیادت نے ایک انسانی بحران سے ہی منھ پھیر لیا، اور کشمیریوں کی مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آیا۔

(مضمون نگار الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے ہیں۔ ڈاکیومنٹری فلمیں بناتے ہیں، نیشنل جیوگرافک چینل اور بی بی سی سمیت کئی قومی-بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ کام کر چکے ٹی وی پروڈیوسر ہیں۔)

Published: 7 Oct 2019, 4:12 PM