کشمیر ترقی کے لحاظ سے مودی کے گجرات و اترپردیش سے کہیں آگے

مودی جی نے اور شاہ جی نے ملک کے دیگر سنگین مسائل خاص طور سے تباہ ہوتی معیشت سے لوگوں کی توجہ ہٹانے اور پولرائزیشن کے لئے ترقی کا جھوٹا خواب دکھا کرعوام کو گمراہ کرنے کی قصداً کوشش کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اعظم شہاب

8 اگست کو پردھان سیوک نے قوم کے نام اپنے خطاب میں کشمیر کی بدحالی و پسماندگی کا جو مرثیہ سنایا ہے اس نے بھکتوں کی اس سوچ کو ایمان میں تبدیل کردیا ہے کہ اگر کشمیر سے آرٹیکل 370 اور 35اے ختم نہیں کیا جاتا اور اس ریاست کو دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جاتا تو آئندہ چند سالوں میں خدا نخواستہ کشمیرتباہ ہوجاتا۔ جبکہ محض صفر اعشاریہ 2 فیصد لوگ ہی اس بات کومانتے ہیں کہ آرٹیکل 370 کے ہٹانے سے کشمیر مسئلے کا حل ہوسکتا ہے۔ ان عقل کے اندھوں کی سمجھ میں یہ حقیقت بھی نہیں آرہی ہے کہ خصوصی درجہ کی وجہ سے کسی ریاست کی ترقی دیگر ریاستوں کی بہ نسبت زیادہ مستحکم اور پائیدار ہوتی ہے اور اس ریاست پر دیگر ریاستوں کی طرح قرضہ جات کے بوجھ نہیں ہوتے۔ اس کے برخلاف اب جبکہ کشمیر کی یہ خصوصی حیثیت ختم ہوچکی ہے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاچکا ہے، تو اس کی ترقی اور ڈیولپمنٹ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ لیکن بھکت لوگ اگر اس حقیقت کو سمجھنے لگیں توبھلا وہ بھکت ہی کیوں کہلائیں۔

پردھان سیوک نے اپنے خطاب میں کشمیر میں جس ڈیولپمنٹ کی بات کی ہے اس کے بارے میں بس اتنا کہا جاسکتا کہ یہ ایک عمدہ تقریر تھی، مگر افسوس کہ اس میں کشمیر کے صرف منفی پہلو کو ہی پیش کیا گیا۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ جی ڈی پی فی کس کے لحاظ سے جموں و کشمیر پورے ملک میں 24 ویں نمبر پر ہے جو مغربی بنگال کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کے بالمقابل بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں میں سے آسام 29 ویں نمبر پر ہے، جھارکھنڈ 30 ویں نمبر پر ہے، اترپردیش 32 ویں نمبر پر ہے، بہار 33 ویں نمبر پر ہے، یہاں تک کہ مدھیہ پردیش و اڈیسہ بھی جموں و کشمیر سے بہت نیچے ہیں۔ مدھیہ پردیش کی شرح بی جے پی دورِ حکومت کی ہے جہاں بی جے پی مسلسل 15سالوں تک حکمراں تھی۔ جی ڈی پی پر کیپیٹل کی بنیاد پر کسی ریاست و ملک کی ترقی کے مجموعی صورت حال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن پردھان سیوک نے اپنی تقریر میں اس پہلو پر کچھ کہنے کے بجائے کشمیر کو ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ترقی یافتہ بنانے کی بات پر پورا زور دیا۔

ملٹی ڈائی مینشل پاورٹی انڈکس یعنی کہ ہمہ جہت غربت کی شرح جو عام لوگوں کی غربت کو ناپنے کا ایک بہترین پیمانہ ہے، اس کے لحاظ سے بھی جموں کشمیر ملک کی 36 ریاستوں بشمول مرکز کے زیرانتظام ریاستوں میں 15ویں نمبر پر ہے۔ جبکہ اترپردیش وگجرات جیسی ریاستیں بھی اس معاملے میں جموں وکشمیر سے بہت نیچے ہیں۔ اسی کے ساتھ جموں وکشمیر ہیومن وہیلتھ کی فلیڈ میں اترپردیش وگجرات وملک کی دیگر ریاستوں سے بہتر نہ سہی تو ان سے کم بھی نہیں ہے۔ آیئے ہم ذرا کشمیر کی ترقی پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں جس کے غم میں بھکتوں کا رو رو کر برا حال ہورہا ہے۔

یہ اعداد و شمار ’دی پرنٹ‘ و ’سب رنگ‘ نیز دیگر کئی پورٹل نے شائع کیے ہے۔ سب سے پہلے ہم پردھان سیوک و شاہ جی کی ریاست گجرات پر نظر ڈالتے ہیں۔ موت کی بہ نسبت پیدائش کی شرح گجرات میں 69 ہے تو جموں و کشمیر میں 74 ہے۔ پانچ سال کی عمر کے بچوں کی اموت کی شرح گجرات میں 33 ہے تو جموں و کشمیر میں یہ 26 ہے۔ فی عورت بچے بالیدگی کی شرح جموں و کشمیر میں 1 اعشاریہ7 ہے تو وہیں گجرات میں یہ شرح 2 اعشاریہ 2 ہے۔ اسی طرح 15سال سے 19 سال کے درمیان کی بچیاں جو8 سال تک اسکول میں پڑھ چکی ہیں ان کی شرح گجرات میں 75 ہے جبکہ جموں وکشمیر میں 87 ہے۔ بچوں میں غذائی قلت کے سبب کم وزن کی شرح گجرات میں 39 ہے جبکہ جموں وکشمیر میں 17ہے۔ عورتوں میں کم بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) کی شرح گجرات میں 27 ہے جبکہ جموں وکشمیر میں یہ محض 12ہے۔ بچوں کا مکمل ٹیکہ لگانے کی شرح گجرات میں 50 ہے جبکہ جموں وکشمیر میں 75 ہے۔ دیہی علاقوں کے لوگوں کی غربت کی شرح گجرات میں 22 ہے جبکہ جموں و کشمیر میں 12 ہے۔ دیہی علاقوں کے لوگوں کو مزدوری ملنے کی شرح گجرات میں 116ہے جبکہ جموں وکشمیر میں 209 ہے۔

اب ذرا ہم ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی صورت حال پر غور کرتے ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس) کے تحت جموں وکشمیر میں بچوں میں غذائی قلت سے کم وزن کی شرح 16اعشاریہ 6 ہے تو اترپردیش میں یہ شرح 39اعشاریہ 5 فیصد ہے۔ جبکہ ملکی سطح پر یہ شرح 35اعشاریہ 8 ہے۔ بچوں کی اموات کی شرح جموں کشمیر میں ایک ہزار بچوں پر 32 ہے تو اترپردیش میں یہ شرح 64 ہے اور ملک میں یہ شرح 41 ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموت کی شرح جموں وکشمیر میں ایک ہزار پر 83 ہے تو اترپردیش میں یہ 78 ہے اور ملکی سطح پر یہ شرح 50 ہے۔ فیملی پلاننگ کے بارے میں بیداری کی شرح جموں وکشمیر میں 57 فیصد ہے تو اترپردیش میں 45 فیصد اور پورے ملک میں 53 فیصد۔ کم عمر (15 سے 19سال کے درمیان) میں مائیں بننے کی شرح جموں وکشمیر میں 2 اعشاریہ 9 فیصد ہے تو اترپردیش میں یہ 3 اعشاریہ 8 فیصد ہے اور ملک میں یہ 9 اعشاریہ 7 فیصد ہے۔ ایامِ حمل میں عورتوں کی دیکھ بھال کی شرح جموں وکشمیر میں 81/اعشاریہ4 فیصد ہے تو اترپردیش میں یہ فیصد 26 اعشاریہ 4 فیصد ہے اور ملک میں 51 اعشاریہ 2 فیصد ہے۔ بچوں کومکمل ٹیکے لگانے کی شرح جموں وکشمیر میں 75فیصد ہے، اترپردیش میں 51 فیصد جبکہ پورے ملک میں 62 فیصد۔ عورتوں پر جنسی تشدد کی شرح جموں وکشمیر میں 9 اعشاریہ 4 فیصد ہے، وہیں اترپردیش میں یہ شرح 36 اعشاریہ 7 فیصد ہے اور پورے ملک میں 31 فیصد ہے۔ عورتوں پرعام تشدد جموں کشمیر میں 14 فیصد ہے، اترپردیش میں 38 فیصد ہے اور پورے ملک میں 33 فیصد۔ اسی شرح کے لحاظ سے دیگر معاملات کا بھی موازنہ کیا جاسکتا ہے۔

ان حقائق و اعداد و شمار کے باوجود ملک کو پردھان سیوک وشاہ جی کی جانب سے یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جموں وکشمیر کی فلاح وبہبود نیز ترقی وڈیولپمنٹ آرٹیکل 370 کی وجہ سے رکا ہوا تھا۔ جبکہ یہ تمام اعدا وشمار حکومت کی ہی ویب سائیٹوں پر موجود ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انہیں یہ جھوٹ بولنے کی کیوں ضرورت پڑ رہی ہے؟ تو اس کا جواب ان کے ووٹ بینک میں پوشیدہ ہے۔ جیسا کہ ابتداء میں عرض کیا گیا کہ پردھان سیوک کے خطاب نے عقل کے اندھے بھکتوں کو آنکھ سے بھی اندھا کردیا ہے۔ اگریہ حقیقی صورت حال ملک کے عوام کے سامنے آجائے گی تو اس سیاسی غبارے کی ہوا نکل جائے گی۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مودی جی نے اور شاہ جی نے ملک کے دیگر سنگین مسائل خاص طور سے تباہ ہوتی معیشت سے لوگوں کی توجہ ہٹانے اورسماج میں پولرائزیشن کے لئے جموں وکشمیر کے ساتھ سخت ناانصافی کی ہے اور ملک کی ترقی کا جھوٹا خواب دکھا کرعوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قصداً کی ہے۔

Published: 11 Aug 2019, 6:10 PM