کشمیر کی کہانی، کشمیریوں کی زبانی: وادی میں کیا ہوا، یہ کسی کو کبھی پتہ نہیں لگ پائے گا!

4 اگست کو اچانک وادیٔ کشمیر مین حالات کشیدہ ہو گئے۔ اس وقت سے اب تک وہاں کے لوگ کس مصیبت، پابندیوں اور عدم اعتماد کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں اس کا اندازہ بھی لگانا مشکل ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ایشلن میتھیو

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے کافی دنوں بعد تک نہ ہی وہاں سے کوئی نکل سکا اور نہ ہی دوسری ریاست سے کوئی وہاں حالات کا جائزہ لینے پہنچ سکا۔ لیکن اب کئی کشمیری عوام وہاں سے نکل کر ملک کی راجدھانی دہلی یا کسی دوسری ریاست میں پہنچ چکے ہیں اور دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد کا ماحول لوگوں سے بیان کر رہے ہیں۔ دہلی پہنچنے والے کچھ کشمیری عوام نے جو کچھ بتایا وہ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

وادیٔ کشمیر کے لوگوں کے لیے کرفیو، بند، فوجیوں کی موجودگی اور ہفتوں تک گھر میں دُبکے رہنا کوئی نئی بات نہیں۔ ایسے حالات میں زندہ رہنے کا طریقہ انھوں نے سیکھ لیا ہے۔ تقریباً ہر گلی میں راشن، اناج، ہری سبزیاں سمیت ضروری سامان مل جاتے ہیں۔ اس وجہ سے اگر شاہراہوں تک پہنچ نہ بھی ہو تو بھی عام لوگوں کی زندگی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ کشمیر کے لوگوں نے مشکل حالات میں ایک دوسرے کے کام آنا بھی سیکھ لیا ہے اور اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ کوئی بھوکا نہ رہ جائے۔

افواہ ہماری زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ لیکن اگست کے پہلے ہفتے میں افواہوں کا بازار اچانک گرم ہو گیا۔ فوج نے یہ بتانے کے لیے پریس بریفنگ کی کہ پاکستانی دہشت گرد دراندازی کر چکے ہیں اور وہ امرناتھ یاتریوں پر حملے کی فراق میں ہیں۔ امرناتھ یاترا کو اچانک روکنے اور وادی میں بڑی تعداد میں اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کو واجب ٹھہرانے کے لیے ایسا کیا گیا۔ لیکن جب سیاحوں اور باہری طلبا کو ریاست سے چلے جانے کو کہہ دیا گیا تو فضا میں طرح طرح کی افواہیں تیر گئیں۔

4 اگست کی شام سے لینڈ لائن فون خاموش ہو گئے۔ پھر ہمیں احساس ہوا کہ انٹرنیٹ خدمات بھی بند تھیں۔ یہاں تک تو ہمارے لیے عام سی بات تھی، لیکن پھر بجلی بھی چلی گئی اور اب ہم انجانے خوف کی گرفت میں تھے۔ چاروں طرف تاریکی۔ بغیر بجلی ٹی وی کے بے کار۔ ایسے میں ایک افواہ اڑتی ہے کہ ایل او سی پر ایک بڑے دھماکے کی تیاری کی جا رہی ہے اور اس کا ٹھیکرا پاکستان پر پھوڑتے ہوئے کوئی بڑی کارروائی کی جانی ہے۔ اگلے دن جیسے ہی امت شاہ نے پارلیمنٹ میں دفعہ 370 کو ختم کرنے کا اعلان کیا، بجلی بحال کر دی گئی۔ اس دن وادی میں موت کا سناٹا تھا۔ لوگ متفکر اور مایوس نظر آ رہے تھے، وہ عدم اعتماد سے بھرے تھے۔ کچھ بھی کھایا پیا نہیں جا رہا تھا۔ کچھ سنبھلے تو گزشتہ واقعات پر نظر دوڑانی شروع کی۔ یعنی کوئی دہشت گردانہ خطرہ نہیں تھا! سیکورٹی فورسز کی زبردست تعیناتی ہمیں قابو میں کرنے کے لیے تھی؟ ہم اچانک ملک کے لیے خطرہ ہو گئے تھے۔

عید پر بھی راحت نہیں

عید ابھی ایک ہفتہ دور تھی۔ اعلان کیا گیا تھا کہ عید کے موقع پر کرفیو میں نرمی کی جائے گی، لیکن ہوا الٹا۔ اس دن پابندیاں بڑھا دی گئیں۔ جامع مسجد سمیت سبھی اہم مساجد پر تالا جڑ دیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ ہم آس پاس کی مسجدوں میں نماز پڑھ لیں۔ عید سے ایک دو دن پہلے کچھ دکانیں ضرور کھلیں، لیکن لوگوں کے پاس پیسے ہی نہیں تھے۔ بینک اور اے ٹی ایم کام نہیں کر رہے تھے اور پبلک ٹرانسپورٹ بند۔ زیادہ تر لوگ قربانی کے لیے جانور بھی نہیں خرید سکے۔

ائیر پورٹ کا حال

ائیر پورٹ کھلا تھا اور مودی حکومت کی ہدایت کے بعد کرایہ معمول سے بھی کم تھا، لیکن ائیر پورٹ تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ 5 اگست کے بعد تین ہفتوں تک انٹرنیٹ نہ ہونے سے آن لائن بکنگ نہیں ہو پا رہی تھی اور کرفیو کی وجہ سے ٹریول ایجنٹ وغیرہ کے دفتر بند تھے۔ پبلک ٹرانسپورٹ تو بند تھی ہی اور حکومت میں اچھی پہنچ رکھنے والوں کو بھی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ جگہ جگہ چیک پوائنٹس بنے تھے۔ عام لوگوں کو اپنے سامان کے ساتھ پیدل چلتے، چیک پوائنٹ پر رک کر اپنے سامان کی جانچ کراتے اور پھر پیدل ہی آگے بڑھتے دیکھنا عام نظارہ تھا۔ عام طور پر کار سے ائیر پورٹ پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے، لیکن راستے میں 10 چیک پوائنٹس ہونے کی وجہ سے مجھے چار گھنٹے لگ گئے۔ میرے ایک رشتہ دار پولس میں ہیں، اس کے بعد بھی ہمیں یہ سب برداشت کرنا پڑا۔

پولس کی ہمت توڑ ڈالی

پولس کی خود ہمت ٹوٹی ہوئی ہے۔ کشمیر پولس سے اسلحے رکھوا لیے گئے تھے۔ حکومت کو اسلحوں سے لیس اپنی پولس پر یقین نہیں تھا۔ اس سلسلے میں پولس اہلکاروں میں اس بات کی زبردست مایوسی ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ وہ حکومت کے تئیں لوگوں کے غصے کا شکار تو ہوتے ہی تھے، دہشت گردوں کے بھی نشانے پر رہتے تھے۔ اور اب وہ اسلحہ رکھوا لیے جانے سے بے عزت محسوس کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ سینئر پولس افسران سے بھی پستول جیسے چھوٹے اسلحے لے کر ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھما دیئے گئے ہیں۔ تھانوں پر مسلح نیم فوجی دستوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔ پہلے کم از کم حکومت تو ان پر بھروسہ کرتی تھی، لیکن اب ان پر کسی کا یقین نہیں۔ لوگ آتے جاتے ان پر فقرے کستے ہیں۔ ہاں، شورش پسندوں سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے اسپیشل آپریشن گروپ کے جوانوں کو ضرور رائفل رکھنے کی اجازت ہے۔

تنخواہ کی ادائیگی بند

بینکوں کے 5 اگست کے بعد سے بند رہنے کے سبب تمام کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو تنخواہ نہیں دی۔ لوگوں کو امید تھی کہ عید سے قبل تنخواہ مل جائے گی، لیکن تب تک کوئی بھی بینک نہیں کھلا۔ گزشتہ ہفتہ سے جے اینڈ کے بینک کے برانچز کھلے، لیکن کئی ایسی کمپنیاں ہیں جن کا اکاؤنٹ اس بینک میں نہیں۔ ان کے لیے آج بھی پریشانیاں ہیں۔ اس طرح کے حالات سے لوگوں میں بے چینی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں پریشانیاں مزید بڑھیں گی۔ لوگ یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ آخر انھیں تنخواہ نہیں دے کر کس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وادی میں چھوٹے کاروبار ختم ہو جائیں گے۔ ممکن ہے حکومت ایسا چاہتی بھی ہو۔ طویل مدت کی بندی کی وجہ سے روزانہ کی کمائی پر گزر بسر کرنے والوں کا تو جینا محال ہو جائے گا۔ ویسے بھی اب کشمیر میں ٹورزم تو طویل عرصے تک پٹری پر لوٹنے سے رہا۔

سرکاری دفتر محض کاغذوں میں کھلے

سرکاری دفتر صرف نام کے لیے کھلے ہیں۔ کچھ ملازمین بچتے بچاتے دفتر پہنچ رہے ہیں، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ عام لوگ تو آ ہی نہیں رہے۔ سرکاریں شہریوں کے لیے کام کرتی ہیں، لیکن اگر لوگ اپنے کام لے کر دفتر ہی نہیں آئیں تو افسران کیا کریں گے؟ جو ملازمین دفتر پہنچ بھی رہے ہیں، ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ ہائی کورٹ بھی کام نہیں کر رہا۔ اس لیے انصاف کی راہ بھی لمبی ہو گئی ہے۔

اب کیا ہوگا

کشمیر میں مرکزی حکومت کی حمایت کرنے والے لوگ ہمیشہ رہے ہیں۔ شیعہ مسلمانوں اور گوجروں میں ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کو نظر انداز کر کے وہ ووٹ ڈالنے جاتے تھے۔ جموں و کشمیر میں اقلیتی ہونے کے ناطے وہ سرکاری احکامات کو مانا کرتے تھے۔ لیکن اس بار تو یہ لوگ بھی غمزدہ ہیں۔ پہلے جب بھی بڑی پارٹیاں یا علیحدگی پسند افراد بند کا اعلان کرتے، باندی پورا کے سوناواری، پونچھ اور راجوری کے کچھ حصوں میں دکانیں کھلی رہتیں۔ اس بار ان علاقوں میں بھی بند ہے اور حکومت کے خلاف ناراضگی ہے۔ سرحد پر ہونے کے سبب اُڑی (جموں و کشمیر) کے چند سب سے زیادہ فوجی جماؤڑے والا علاقہ ہے، لیکن یہاں بھی کوئی دکان نہیں کھلی ہے۔ اس طرح مرکزی حکومت کی حمایت کرنے والے لوگوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ زمین پر اپنی حمایت کرنے والوں سے محروم ہونے کے بعد حکومت نے اپنے ہی پیر میں گولی مار لی ہے۔ باہر کے لوگوں کو لگ سکتا ہے کہ کشمیر میں امن ہے، لیکن حالات کا اندازہ لگانا ابھی آسان نہیں۔ لوگ صحیح وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔

    Published: 29 Aug 2019, 8:10 PM