کرناٹک: جوش نہیں ہوش سے کام لیجیے

اس وقت بی جے پی کی نگاہ مسلم اقلیت ووٹ بینک پر ہے۔ یہ ووٹ بینک اگر اکٹھا کانگریس کو جاتا ہے تو بی جے پی کے لیے راہیں دشوار ہو جائیں گی۔

کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ 12 مئی کو ہونے والے کرناٹک انتخابات پر سارے ہندوستان کی نگاہیں جم جائیں گی۔ لیکن جس طرح کرناٹک انتخابات نے قومی شکل اختیار کر لی اس نے کرناٹک انتخابات کو پورے ملک کی دلچسپی کا حامل بنا دیا۔ یہ انتخابات اب صوبائی لیڈروں کی لڑائی کے بجائے نریندر مودی اور راہل گاندھی کے درمیان ایک جنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اور بقول راہل گاندھی کرناٹک انتخابات دو نظریات کے درمیان ایک مقابلہ ہے۔ ایک جانب سنگھ کا دقیانوسی اور اقلیت، دلت اور غریب دشمن ہندوتوا نظریہ ہے اور دوسری جانب کانگریس کا سیکولر اور گنگا-جمنی تہذیبی نظریہ ہے۔

اس جنگ میں ابھی تک جو اشارے ملے ہیں ان کے مطابق راہل گاندھی نے نریندر مودی کے دانت کھٹے کر دیے ہیں۔ اس کے دو اہم اسباب ہیں۔ ایک، بی جے پی اور سنگھ کی حکمت عملی کا سب سے اہم جز ہندو-مسلم کارڈ بے سود ثابت ہو رہا ہے۔ کرناٹک میں تمام کوششوں کے باوجود یہ کارڈ بالکل ناکام ہو گیا۔ جب یہ کارڈ فیل ہو گیا تو پھر بی جے پی نے اپنی ساری امید مودی پر لگا دی۔ مودی نے پچھلے چند دنوں میں کرناٹک میں درجنوں ریلیاں کر ڈالیں۔ لیکن مودی کی اپنے بے تکی تقریروں سے یہ واضح ہے کہ وہ گھبرائے ہوئے ہیں اور اول فول بک رہے ہیں۔ یعنی کرناٹک میں مودی بھی فیل ہوئے جب کہ راہل زبردست طریقے سے چمک گئے۔

اس عالم میں اب بی جے پی نے پھر ’بانٹو اور راج کرو‘ والی حکمت عملی کا سہارا لیا۔ اس سلسلے میں اس کی خاص نگاہ مسلم اقلیت ووٹ بینک پر ہے۔ یہ ووٹ بینک اگر اکٹھا کانگریس کو جاتا ہے تو بی جے پی کے لیے مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے اس ووٹ کو جے ڈی ایس کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے۔ لیکن اس انتخاب میں جے ڈی ایس کو ووٹ دینا بی جے پی کو ووٹ دینا ہوگا کیونکہ کماراسوامی بی جے پی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کہ اگر کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی تو کماراسوامی بی جے پی سے ہاتھ ملا کر وہاں بی جے پی کو اقتدار تک پہنچا دیں گے جو اقلیتوں کے لے موت ثابت ہوگی۔ دوسری جانب ایک ’مسلم، دلت، مہیلا‘ پارٹی کھڑی کی گئی ہے جس کا مقصد مسلم عورتوں کو جذبات میں بہکا کر ان کا ووٹ تقسیم کر بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے۔

لیکن اگر کرناٹک ہاتھوں سے نکل گیا تو بس سمجھیے سنہ 2019 میں ہندوستان بھی نکل جائے گا۔ اور اگر مودی وزیر اعظم پھر بن گئے تو ابھی تک معاملات ’موب لنچنگ‘ تک محدود ہیں، اگلی بار پورا ہندوستان سنہ 2002 کے گجرات میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ آئین میں تبدیلیاں کر اقلیتوں کے ووٹ دہندگی حقوق بھی ختم کر دیے جائیں گے اور آپ ووٹ دینے سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ کیونکہ مودی جی کی نگاہ میں مسلم اقلیت کی زندگی کی قیمت ایک کتے کے پلّے سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ ہم نہیں کہتے، یہ وہ خود سنہ 2014 میں ایک انٹرویو میں اس وقت کہہ چکے ہیں جب انھوں نے کہا تھا کہ ’’2002 کے گجرات فسادات میں مارے جانے والوں کا مجھے اتنا ہی افسوس ہے جتنا افسوس کار حادثہ میں ایک کتے کے پلے کی موت کا ہوتا ہے۔‘‘

اب کرناٹک انتخابات میں اقلیتوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ آیا آئینی طور پر دوسرے درجے کا شہری بننے کو تیار ہیں کہ نہیں۔ اس لیے اس انتخاب میں کانگریس کو واضح اکثریت سے جتانا ضروری ہے۔ کانگریس کے علاوہ کسی بھی دوسری پارٹی کو دیا گیا ووٹ بی جے پی کو ووٹ ہوگا۔ ان حالات میں 12 مئی کو آپ کو کیا کرنا ہے اس بات کا فیصلہ جوش نہیں ہوش سے کیجیے اور کانگریس کو ووٹ دے کر صرف کرناٹک ہی نہیں پورے ہندوستان کو تباہی سے بچا لیجیے۔

سب سے زیادہ مقبول