کنگنا رناوت کا بیان غداری کے مترادف!... نواب علی اختر

ملک کی آزادی پر بیہودہ تبصرہ کرنا اور مجاہدین آزادی کی توہین و ہتک کرنا اپنے بزرگوں سے بغاوت کے مترادف ہے۔

کنگنا رناوت، تصویر آئی اے این ایس
کنگنا رناوت، تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

ملک کا وقار ہر ایک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ملک کے کسی بھی شہری کو ملک کے وقار کو مجروح کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی خواہ وہ کسی گوشے کے لیے کتنے ہی چہیتے کیوں نہ ہوں اور حکومت کے تلوے چاٹنے میں کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں۔ ملک اور اس کے وقار پر قابل اعتراض تبصرے کئے جانے سے ان اقوام میں خاص طور پر ہماری رسوائی ہوتی ہے جو ہمارے خلاف ریشہ دوانیوں میں ملوث رہتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں آج بھی ہندوستان کی جدوجہد آزادی اور مجاہدین آزادی کا احترام کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں اگر ہمارے ہی ملک میں ہماری تاریخی آزادی اور مجاہدین آزادی کی توہین کی جاتی رہی تو پھر یہ انتہائی مذموم عمل ہے اور اس پرغداری کے تحت کارروائی کی جانا چاہئے۔

قارئین سمجھ گئے ہوں گے کہ آج ہم کس پر اپنے الفاظ کے تیر چلانے والے ہیں۔ حالانکہ عام طور پر ایسے لوگوں کا نام لینے سے غصہ آتا ہے مگر مکتب صحافت کا ایک ادنیٰ طالب ہونے کے ناطے اپنی تحریر میں صحافت کی بنیاد ’غیر جانبداری‘ کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑے احترام سے فلم اداکارہ پدم شری کنگنا رناوت کا نام لے رہا ہوں، حالانکہ کنگنا رناوت سے مجھے کوئی خاص پیار نہیں ہے مگر ان کے نام کے ساتھ لکھا جانے والا ’پدم شری‘ باعث احترام ہے اس لئے کہ یہ ملک کا باوقار اعزاز ہے جو فن، تعلیم، ادب، سائنس، کھیل کود، خدماتِ عامہ وغیرہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہندوستانی شہریوں کو حکومت کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔ یہ بھارت رتن، پدم وبھوشن، پدم بھوشن کے بعد دیا جانے والا سب سے امتیازی اعزاز ہے۔


10 نومبر کو کنگنا رناوت نے عوامی فورم سے بیان دیا کہ 1947 میں ہندوستان کو جو آزادی ملی وہ آزادی نہیں ایک بھیک تھی۔ حقیقی آزادی 2014 میں ملی ہے۔ اس بیان پر سامنے بیٹھے لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔ اب یہ نہیں سمجھ میں آرہا ہے کہ یہ لوگ کنگنا کے بیان سے اتفاق کرنے پر تالیاں بجا رہے تھے یا مودی حکومت کے کنگنا پریم کا مذاق اڑا رہے تھے۔ سبھی جاننا چاہتے ہیں کہ تالیاں بجانے والے کون لوگ تھے جن کو یہ بیان صحیح لگا یا انہیں بھی اس بیان سے مزہ آرہا تھا جیسا کنگنا کی فلم میں آتا ہے۔ کچھ بھی ہو اداکارہ کے اس بیان سے آئین پر اعتماد رکھنے والے محبان وطن کو ٹھیس پہنچی ہے کیونکہ اس بیان سے سراسر شہید بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، مہاتما گاندھی سمیت تمام شہیدوں اور انقلابیوں کی توہین کی گئی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے جب کنگنا نے منفی بیان دے کر سرخیاں بٹورنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے کئی ایسے بیان ہیں جو اداکارہ کی کند ذہنیت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اس سے قبل کنگنا مہاراشٹر کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں رہنے پر پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں رہنے جیسا احساس ہونے کی بات کہی تھی۔ کنگنا کے نئے بیان پر پورے ملک میں طوفان برپا ہے مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کی زبردست ناراضگی سامنے آ ئی ہے۔ لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ بھیک میں ویر ساورکر کو معافی ملی تھی اور بھیک میں کنگنا رناوت کو پدم شری ملا ہے لیکن آزادی بھیک میں نہیں بلکہ طویل جدوجہد کے بعد ملی ہے۔ یہ بیان غداری کے زمرے میں آتا ہے اس لیے کنگنا کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرکے کارروائی کرنا چاہئے۔


کنگنا نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب ہندوستان کی حکومت آزادی کے 75 ویں سال کو ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ منا رہی ہے۔ اس موقع پر خود وزیر اعظم بھی سوچ رہے ہوں گے کہ وہ تو آزادی کے 75 ویں سال میں لوگوں کو ’دیش بھگتی‘ کا پاٹھ پڑھا رہے ہیں مگر ان کے بھکت شہیدوں کی توہین کر رہے ہیں۔ آج کل وزیراعظم کا بھی کوئی بیان ملک کی آزادی سے خالی نہیں ہوتا ہے اور وہ اپنی ہر تقریر میں مجاہدین آزادی کی تعریف کرتے ہیں اور شہیدوں کا گن گان کرتے نظر آتے ہیں مگر جب ان کے بھکتوں کی حرکتوں سے محبان وطن کی دل آزاری ہوتی ہے تب ان لوگوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ اس طرح کا بیان تو بی جے پی یا اس کی ہم خیال سیاسی جماعتیں بھی دینے کی جسارت نہیں کرسکتیں۔

انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں بلا تفریق مذہب لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں، ملک کے لیے شہید ہوئے، قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر آج کے مفاد پرست لوگ ان سب قربانیوں کو بھیک کا نام دے رہے ہیں۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ اپنی اداکاری سے لاکھوں ہندوستانیوں کو گرویدہ بنانے والی کنگنا رناوت مٹھی بھر نام نہاد راشٹر بھکتوں کو خوش کرنے کی خاطر ہندوستان کی آزادی کی وہ تاریخ گڑھ رہی ہیں جس میں مہاتما گاندھی، سردار پٹیل، مولانا آزاد، رانی لکشمی بائی جیسے لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کی توہین کی گئی ہے۔ 2014 سے پہلے ’رانی لکشمی بائی‘ فلم میں کام کرنے والی کنگنا کیا اس میں بھیک مانگ رہی تھیں؟ 2014 سے پہلے کنگنا کو دو اور قومی ایوارڈ مل چکے ہیں تو کیا وہ ’غلامی‘ کے دورمیں ملی بھیک تھی؟


حیرت کی بات ہے نام نہاد راشٹر بھگتوں کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ہی بابائے قوم گاندھی کے خلاف تبصرے شروع کئے گئے، ان کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی پوجا کی جا رہی ہے، مجاہدین آزادی کی توہین کی جا رہی ہے اور اب تو ملک کی آزادی کو بھیک تک قرار دیدیا گیا ہے۔ یہ کون سی راشٹر بھکتی ہے جس میں ’بانیان‘ ملک کا مذاق اڑایا جارہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح کے تبصرے کر رہے ہیں انہوں نے نہ ملک کی جدوجہد آزادی کا مطالعہ کیا ہے اور نہ ہی مجاہدین آزادی کی قربانیوں سے یہ لوگ واقف ہیں۔ یہ لوگ تو حکومت کے تلوے چاٹتے ہوئے اپنی دکان چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنا ذہنی توازن کھوچکے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بیمار ذہنیت ملک کی تاریخ کو مسخ کرکے پوری دنیا میں وطن عزیز کی شبیہ متاثر کر رہی ہے۔

کیا اب ذہنی توازن کھوچکے لوگوں کو بھی ملک کی تاریخ اور آزادی کا مذاق اڑانے کے لئے ایوارڈ دیئے جائیں گے۔ آزادی سے متعلق کنگنا کا اشارہ مودی حکومت کے قیام کی سمت تھا مگر وہ یہ بھول گئیں کہ ان کے اس انتہائی متنازعہ بیان سے خوش ہونے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ناراض ہونے والوں کی تعداد ہے۔ کنگنا کے اس تبصرے سے ان کی بیمار ذہنیت کا اندازہ ہوگیا ہے۔ اس نے ملک کی آزادی اور ہمارے ہزاروں بلکہ لاکھوں مجاہدین آزادی کی توہین و ہتک کی ہے۔ یہ کسی ایک شخص کی ہتک نہیں بلکہ ملک کی ہتک ہے اور اسے غداری بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے ایسے بے مہار لوگوں پر لگام لگانے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو بعید نہیں کہ کچھ دنوں بعد کنگنا یہ کہتی نظر آئیں کہ انہیں ’باپ‘ بھی 2014 کے بعد ملا ہے۔


ملک کی آزادی اور مجاہدین آزادی پر تبصرہ کرتے ہوئے ہر ہندوستانی کو انتہائی احتیاط اور احترام اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جن مجاہدین آزادی نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، جن مجاہدین آزادی نے اپنے گھر بار، اہل و عیال اور زندگی کی آسائشوں کو ترک کرتے ہوئے انگریزوں کی غلامی کے خلاف جدوجہد کی، ان پر اداکار بھی تبصرے کرنے لگے ہیں جنہیں نہ ملک کی تاریخ کا کوئی علم ہے اور نہ ہی مجاہدین آزادی کے جذبہ کو وہ سمجھ سکتے ہیں۔ حکومت کی خوشنودی حاصل کرتے ہوئے اپنے لیے کچھ مراعات حاصل کرلینے کے اور بھی بہت طریقے ہیں، انہیں اختیار کیا جاسکتا ہے مگر ملک کی آزادی پر بیہودہ تبصرہ کرنا اور مجاہدین آزادی کی توہین و ہتک کرنا اپنے بزرگوں سے بغاوت کے مترادف ہے۔ ہندوستانیوں نے آزادی کی بڑی قیمت چکائی ہے اور ہمارے مجاہدین ساری دنیا کے لیے مثال ہیں۔

جہاں ایک طرف ہم اپنی ہندوستانیت کے احساس کو مزید تازہ کرنے کے آرزومند ہیں، ہمیں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی ہوگی کہ ہم اپنے یادگار ماضی کو فراموش نہ کریں۔ جب ہم آزادی کے بعد کے ہندوستان کے سفر پر نظر ڈالتے ہیں تب ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سفر کتنے ناقابل فراموش واقعات سے مزین ہے۔ مہاتما گاندھی کے علاوہ جنھیں ہم بڑے فخر سے بابائے قوم کے طور پر بیان کرتے ہیں، ہندوستان کی قومیت کا نظریہ بنیادی طور پر اشرافیہ کے ایک طبقے نے پیش کیا جو جدیدیت، یورپی نوآبادیاتی توسیع، ریاست، قوم پرستی، جمہوریت اور معاشی ترقی کے مغربی نظریات سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ اس لیے ملک اور اس کے وقار سے متعلق اوچھی ذہنیت اور ایسے بیہودہ ریمارکس کرنا کسی کو بھی ذیب نہیں دیتا اور ایسی حرکتوں اور تبصروں سے ہر کسی کو باز رہنے کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔