کیرانہ کی ناراضگی بی جے پی کے زوال کی نشانی!

تبسم حسن کو مسلم، دلت اور جاٹ ووٹ تو ملے ہی، کئی گوجروں نے بھی انھیں ووٹ دیا۔ گوجروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے بی جے پی امیدوار کو ووٹ اس لیے نہیں دیا کیونکہ وہ جھوٹی حکومت کو آئینہ دکھانا چاہتے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

کیرانہ: 28 سال کے ارجن چودھری کہتے ہیں ’’جاٹوں کی ایک کہاوت ہے کہ ’جاٹ مرا جب جانیے جب تیرہویں ہو لے‘، پھر بی جے پی نے یہ کیسے مان لیا تھا کہ ہم ہمیشہ ان کے رہیں گے۔ ہم سب سمجھتے ہیں، بس کبھی کبھی وقت خراب ہو جاتا ہے۔‘‘ ایم ایس سی کر چکے ارجن اب سول سروس کی تیاری میں مصروف ہیں اور کیرانہ کے نتیجے سے خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جاٹوں نے ہر سیاسی سازش کو پلٹ کر مسلمانوں اور دلتوں کو گلے لگا لیا۔ پہلے ہم کسان ہیں اور یہ حکومت کسانوں کی دشمن ہے۔ جھگڑے کراکر ایک بار انھوں نے کسانوں میں ذات اور مذہب کے نام پر پھوٹ پیدا کر دی لیکن اب ہم بہکاوے میں آنے والے نہیں۔ ہم کسان ہیں، اس لیے ملازمت نہیں ملی تو زراعت کریں گے لیکن آپس میں لڑائی جھگڑا نہیں کریں گے۔

یہ نظریہ صرف اَرجن کا نہیں ہے بلکہ بہت سے جاٹ نوجوانوں نے تبسم حسن کی فتح کے بعد کھل کر کچھ اسی طرح کے بیانات دیے ہیں۔ ایک انتخاب نے لوگوں کو اپنے دل کا غبار باہر نکالنے والا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اس تبدیلی کی شروعات 4 مئی کو ہوئی تھی جب جینت چودھری سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔ اس وقت میڈیا میں یہ خبریں آنے لگی تھیں کہ جینت چودھری مشترکہ اپوزیشن کی طرف سے کیرانہ سے امیدوار ہوں گے۔ اکھلیش درمیان کا راستہ تلاش کر رہے تھے اور انھوں نے خود کو جینت چودھری کے نام پر راضی بھی کر لیا تھا۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق اس کے بعد بی ایس پی سپریمو مایاوتی سے بات کی جانی تھی لیکن وہ دہلی میں تھی اس لیے جینت کی دعویداری ملتوی ہو گئی۔

جینت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ اتحاد جینت کو امیدوار بنانے کی صورت میں ان کو سماجوادی پارٹی کے انتخابی نشان پر کھڑا کرنا چاہا تھا۔ اس کے بعد یہ راستہ نکالا گیا کہ امیدوار سماجوادی پارٹی کا ہوگا اور نشان آر ایل ڈی کا۔ اس پر سب راضی ہو گئے اور ایک واضح کیمسٹری تیار ہو گئی۔ یہ سب باتیں تو تاریخ کے صفحات پر درج ہو گئی ہیں لیکن آج حقیقت یہ ہے کہ اتر پردیش میں اب ایک مسلمان ممبر پارلیمنٹ ہے جس کی فتح کے لیے جینت چودھری نے 147 گاؤں میں گھر گھر جا کر مہم چلائی تھی اور کہا تھا کہ یہ انتخاب تبسم حسن نہیں بلکہ وہ خود لڑ رہے ہیں۔

کیرانہ کا انتخاب کسی بھی طرح سے معمولی انتخاب نہیں تھا اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 4 لوک سبھا اور 10 اسمبلی سیٹوں پر انتخاب ہونے کے باوجود پورے ملک کے سیاسی ماہرین کیرانہ سیٹ سے متعلق ہی اپنا اپنا تجزیہ پیش کر رہے تھے۔ اس فتح کے بعد اپوزیشن بہت پرجوش نظر آ رہی ہے۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اس نے دہلی جیتنے کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔ کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی پنکج ملک کہتے ہیں کہ ’’2013 میں مرکز میں بی جے پی حکومت بننے کی سب سے اہم وجہ مظفر نگر فساد تھے۔ یہاں کی خون آلود سیاست سے ملک بھر میں پولرائزیشن ہوا اور مقامی لوگوں میں بڑے پیمانے پر نفرت پھیل گئی۔ اب پیغام یہ جا رہا ہے کہ جاٹوں نے مسلم امیدوار کو انتخاب میں فتحیاب کر کے ایوان میں بھیجنے کا کام کیا جو پہلے کے مقابلے بالکل برعکس بات ہے۔ اس بار جو پیغام ملا ہے وہ مثبت ہے۔ ایک بار منفی پیغام سےغلط حکومت بن گئی تھی تو اب مثبت پیغام سے حکومت بدل بھی جائے گی۔

’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران نئی ممبر پارلیمنٹ تبسم حسن بھی اس بات پر اتفاق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ انتخاب شکست و فتح سےالگ بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ 2013 کے فساد میں کچھ وقت کے لیے دلوں میں تلخی ضرور آ گئی تھی لیکن اب حقیقت سے سبھی آشنا ہو چکے ہیں۔‘‘ تبسم حسن مزید کہتی ہیں کہ ’’جاٹ اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی تشہیر کی گئی۔ یہ نفرت تو کبھی تھی ہی نہیں، کچھ وقت کے لیے ایک غلط فہمی پیدا ضرور ہو گئی تھی جو اب دور ہو گئی ہے۔ ‘‘

قابل ذکر ہے کہ 2013 کے فساد کے بعد حسن فیملی پوری طرح سے فساد متاثرین کے ساتھ کھڑی رہی اور ناہید حسن نے اپنی 18 بیگھہ زمین فساد متاثر ین کا گھر تعمیر کرنے کے لیے عطیہ کر دی۔ ناہید حسن کہتے ہیں ’’ہم نے فساد متاثرین کی مدد کی کیونکہ ان کے ساتھ ظلم ہوا تھا۔ لیکن ہم نے جاٹوں سے کبھی نفرت نہیں کی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ فساد ’اسپانسرڈ‘ تھا اور جاٹوں کے جذبات کو مشتعل کیا گیا تھا۔‘‘

آر ایل ڈی لیڈر جتندر ہڈا بھی اس بات سے پوری طرح متفق نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جاٹ ایک جذباتی قوم ہے۔ 25 مئی کو شاملی میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ایک جلسہ ہوا جس میں بڑی تعداد میں جاٹ بھی پہنچے۔ اس وقت تک جاٹ کنفیوژ تھا۔ یوگی جی نے جب کہا کہ آج باپ- بیٹا (اجیت اور جینت) دونوں گھر گھر بھیک مانگ رہے ہیں، تو جاٹوں کے جذبات نے ہلوریں مارنی شروع کر دیں۔ یوگی کی ریلی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ جاٹ اٹھ کر باہر جانے لگے۔ کچھ نے تو ’ہائے ہائے‘ کا نعرہ بھی بلند کر دیا۔

یوگی کی اس ریلی کے بعد ہر گاؤں میں جاٹوں کی چھوٹی چھوٹی پنچایتیں ہوئیں اور 24 گھنٹے میں مکمل جاٹ ایک خیمہ میں جمع ہو گیا۔ جاٹ بس یہی سوچ رہے تھے کہ یوگی آدتیہ ناتھ بھلے ہی وزیر اعلیٰ ہوں لیکن جینت ہمارا اپنا ہے اور ہم اس کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتے۔ اس کے بعد جاٹوں نے اپنا سارا غصہ ووٹنگ کے دوران نکالا۔ جاٹوں کے جذبہ کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجیے کہ نکوڑ اسمبلی حلقہ کے ایک گاؤں شکرتال میں مشین خراب ہو گئی تو آر ایل ڈی کارکنان دلتوں کو ووٹ کرانے کے لیے بضد ہو گئے اور خود دیر رات تک ووٹنگ میں تعاون کرتے رہے۔ انتخاب میں آر ایل ڈی امیدوار تبسم حسن کے چیف الیکشن ایجنٹ اور ان کے بھائی وسیم چودھری بتاتے ہیں کہ ’’آر ایل ڈی کارکنان کے بوتھ ایجنٹ ہونے سے پولرائزیشن اور بوتھ کیپچرنگ دونوں کا امکان ختم ہو گیا ورنہ یہاں کےدلتوں کے ووٹ دبنگ افراد ہی ڈال دیتے تھے۔‘‘

مسلمان اس انتخاب میں پوری طرح بیدار رہے اور سخت دھوپ اور روزہ کے باوجود بھی انہوں نے دل لگا کر ووٹنگ کی۔ دلتوں میں بھیم آرمی نے اچھا کام کیا۔ دلت، مسلم اور جاٹ میں کوئی تقسیم نہیں ہوئی۔ سماجوادی پارٹی کے ایم ایل سی ویریندر سنگھ اسے مغرب کی سیاست کے مدنظر بے حد مضبوط اور مثبت تصور کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اس گٹھ جوڑ کے بعد کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔ اس کے بعد کچھ بھی بھگوا نہیں رہے گا۔‘‘ کیرانہ میں لوگوں کے درمیان بی جے پی کے تئیں سوچ میں گہرا بدلاؤ آیا ہے۔ یہاں لوگوں نے پولرائزیشن کی ہر ایک کوشش کو ناکامیاب کیا جب کہ بی جے پی نے انتخاب میں ہر طرح کا حربہ استعمال کیا۔ یہاں چار دن میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دو بار جلسے کیے۔ نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد نے یہاں کیمپ لگایا۔ وزیر اعظم نریندر مودی 9 کلو میٹر شاہراہ کا افتتاح کرنے پہنچے۔ کسانوں کو خوش کرنے کے لیے کئی طرح کے وعدیے کیے گئے۔ 50 سے زیادہ ممبران اسمبلی اور 28 وزراء لگاتار پولرائزیشن کی کوشش کر رہے تھے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ بی جے پی کی ایک ممبر پارلیمنٹ کانتا کردَم کے خلاف تنگ آ کر مقامی لوگوں نے نفرت پھیلانے والی بیان بازی کے لیے مقدمہ درج کرا دیا... لیکن نہ ہی دلت بکے اور نہ ہی جاٹ بہکے۔

آر ایل ڈی کے سہارنپور کے ضلع صدر راؤ قیصر سلیم اس پر اپنی رائے رکھتے ہوئے کہتے ہیں ’’آپ اس سے اندازہ لگا لیجیے کہ اگر اتنا سب کچھ جھونکنے کے بعد بھی بی جے پی کے لوگ یہاں پولرائزیشن کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو ہندوستان میں بی جے پی کو کہیں بھی شکست دی جا سکتی ہے اور 2019 میں ایک لوک سبھا پر اتنا عملہ تو بی جے پی لگا ہی نہیں سکتی، اس لیے اس اتحاد کے بعد بی جے پی کی مرکز میں واپسی نہیں ہو پائے گی۔‘‘

بی جے پی کے لیے ایک بے حد افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ لوک سبھا میں پڑنے والے ان کے دونوں وزیر اپنی اپنی اسمبلی سیٹ بھی ہار گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے آیوش وزیر دھرم سنگھ سینی نکوڑ اور گنّا وزیر سریش رانا تھانہ بھون گنوا بیٹھے ہیں۔ دھرم سنگھ سینی تو اپنا بوتھ بھی ہار گئے۔ اس سے قبل گورکھپور انتخاب میں یوگی آدتیہ ناتھ بھی اپنا بوتھ ہار گئے تھے۔ کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر عام آدمی پارٹی نے بھی اپوزیشن کو اپنی حمایت دی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے کارکن لوکیش گوجر ایک دلچسپ بات بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہندو گوجروں نے بی جے پی کی عزت رکھ لی، انتخاب مرگانکا سنگھ لڑ رہی تھیں، وہ ہماری بہن ہے۔ اگر کوئی دوسرا امیدوار ہوتا تو یہ ڈیڑھ لاکھ گوجر تبسم حسن کو ووٹ کرتا۔ ایسی صورت میں بی جے پی کی ضمانت ضبط ہو جاتی کیونکہ بی جے پی سے ناراضگی ہندو گوجروں میں بھی بہت ہے۔

تبسم حسن کے بھائی وسیم چودھری کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ تقریباً 10 ہزار ہندو گوجروں نے تبسم حسن کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ان کی اس بات کی تصدیق 27 سالہ ستیش بھڈانا کے بیان سے ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں مرگانکا (بی جے پی امیدوار) سے پوری ہمدردی رکھتا ہوں لیکن میں نے دل پر پتھر رکھ لیا اور بی جے پی کے خلاف ووٹنگ کی کیونکہ مجھے جھوٹی حکومت کو آئینہ دکھانا تھا۔ میں بھی کسان ہوں۔ میرے گنے کا پیمنٹ ابھی تک نہیں آیا۔ ہاں، اگر مرگانکا مشترکہ اپوزیشن کی امیدوار ہوتی اور بی جے پی کی جانب سے مودی کھڑے ہوتے تو جیت یقیناً مرگانکا کی ہوتی۔‘‘ ان باتوں سے ظاہر ہے کہ کیرانہ میں بی جے پی کے خلاف ناراضگی عروج پر ہے اور یہ حکمراں پارٹی کو زوال کی طرف لے جا رہی ہے۔

next