بہار: کیا جوکی ہاٹ میں جنتا دل یو کی شکست سے این ڈی اے پر اثر پڑے گا؟

جوکی ہاٹ میں جنتا دل یو کے امیدوار کی شکست سے بی جے پی لیڈران خوش ہیں کیونکہ اب نتیش کمار 2019 عام انتخابات میں مضبوطی کے ساتھ زیادہ سیٹ کا دعویٰ نہیں کر پائیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سرور احمد

جوکی ہاٹ اسمبلی سیٹ پر آر جے ڈی کے ہاتھوں جنتا دل یو کی شکست کے بعد بہار میں این ڈی اے حکومت کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ نتیجہ برآمد ہونے کے بعد میڈیا میں جنتا دل یو کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی کا یہ بیان سامنے آیا کہ ’’کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں وغیرہ نے ہم سے بات چیت کا راستہ کھلا رکھا ہے۔‘‘ حالانکہ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’ہم این ڈی اے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی بھی بی جے پی مخالف محاذ سے نہیں جڑنا چاہتے۔ لیکن ہم اپنی خودداری کے معاملہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘‘

ملک بھر میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد تیاگی کا یہ بیان حیران کرنے والا ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی کارکردگی بہت خراب رہی ہے۔ گزشتہ سال 27 جولائی کو تیاگی نے اسی طرح کا ایک بیان دیا تھا جب اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بی جے پی کا دامن تھام لیا تھا۔

جوکی ہاٹ میں آر جے ڈی کے شاہنواز عالم نے جنتا دل یو کے مرشید عالم کو 41225 ووٹوں سے شکست دی۔ اب جنتا دل یو کے پاس بہار اسمبلی میں 71 سے گھٹ کر 71 سیٹیں رہ گئی ہیں۔ اس کے مقابلے میں آر جے ڈی کی سیٹوں کی تعداد 80 سے بڑھ کر 81 ہو گئی ہے۔

مارچ میں ارریہ لوک سبھا سیٹ کے لیے ہوئے ضمنی انتخاب میں آر جے ڈی کے امیدوار سرفراز عالم نے بی جے پی کے امیدوار پردیپ سنگھ کو 81248 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ جو کی ہاٹ کی سیٹ پر ضمنی انتخاب اس لیے کرانا پڑا کیونکہ جنتا دل یو کے ٹکٹ پر یہاں سے فتحیاب سرفراز عالم نے آر جے ڈی کی طرف سے ارریہ لوک سبھا سیٹ کا انتخاب لڑنے کے لیے جنتا دل یو سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ارریہ لوک سبھا سیٹ سرفراز عالم کے والد تسلیم الدین کے انتقال کے بعد خالی ہو گئی تھی جو اس سیٹ سے آر جے ڈی ممبر پارلیمنٹ تھے۔

بہار کی حالیہ سیاست کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ایسے بہت کم لوگ ہیں جو نتیش کمار کی شکست پر آنسو بہائیں گے۔ آر جے ڈی کے لیے جوکی ہاٹ سیٹ پر ملی فتح کا جشن منانا فطری ہے کیونکہ گزشتہ لوک سبھا اور اسمبلی ضمنی انتخابات کی فتح کے کچھ وقت بعد ہی اسے پھر سے فتح حاصل ہوئی ہے۔ لیکن وہ سیٹیں پہلے بھی آر جے ڈی کے پاس تھیں جب کہ جوکی ہاٹ کی سیٹ کو اس نے چھینا ہے۔

ملک بھر میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی خراب کارکردگی سے مایوس پارٹی کے لیڈر جوکی ہاٹ میں نتیش کی شکست میں امید کی شمع دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ نتیش کی مول-تول کی طاقت کو مزید کم کر دے گی۔ ان کی رائے ہے کہ ایک مضبوط نتیش کمار اپنا حصہ چاہتے ہوئے 2019 میں بہار میں زیادہ سیٹوں کا مطالبہ کریں گے۔

جنتا دل یو کی شکست کے بعد بی جے پی خیمہ میں اطمینان کا ماحول ہوگا۔ لیکن دوسری ریاستوں میں بھگوا پارٹی کی شکست نے بہار کے بی جے پی لیڈروں کو کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ وہ اب نتیش کمار کو فراموش نہیں کر سکتے کیونکہ 2019 میں انھیں نتیش کمار پر منحصر ہونا پڑ سکتا ہے۔

اس ضمن میں تیاگی کے تازہ بیان کو سمجھا جا سکتا ہے۔ این ڈی اے کے اندر جنتا دل یو کو کمزور ہونا اور وہ بھی بی جے پی کو فائدہ ملنے کی حالت میں آر جے ڈی-کانگریس اتحاد کے لیے بھی اچھا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بی جے پی یقینی طور پر زیادہ سیٹوں پر انتخاب لڑے گی۔

آر جے ڈی-کانگریس اتحاد کو یہ ماننا پڑے گا کہ جوکی ہاٹ سیٹ یا پھر ارریہ لوک سبھا سیٹ پورا بہار نہیں ہے۔ جوکی ہاٹ میں دو تہائی سے زیادہ مسلمان ہیں۔ اس لیے وہاں انتخاب جیتنا آسان تھا، بھلے ہی جنتا دل یو نے بھی وہاں مسلم امیدوار اتارا ہو۔ ممکن ہے بہار کے بقیہ حصوں میں ایسا نہ ہو جہاں لڑائی مشکل ہوگی۔

پھر بھی بی جے پی کے لیے فکر کی بات یہ ہے کہ اس بار پورے بہار میں جیت دلانے والی نریندر مودی کی آندھی نہیں رہے گی۔

پہلے گورکھپور-پھول پور اور اب کیرانہ میں بی جے پی کی شکست نے پڑوسی ریاست بہار میں بی جے پی کارکنان اور حامیوں کے حوصلے کو زبردست نفسیاتی دھچکا دیا ہے۔ اس کے علاوہ جس طرح 2014 میں بی جے پی نے کچھ یادووں کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی، اس مرتبہ اس طرح کی صورت حال نہیں ہے۔ اس لیے 2014 کی سہ رخی لڑائی کی جگہ اس بار این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا جو کانٹے کا ثابت ہو سکتا ہے۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ بہار کے اپنے علاقے میں محدود ہو چکی جنتا دل یو گجرات، کرناٹک، راجستھان، منی پور اور دوسری جگہوں پر اپنی توسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کے ہر سطح کے لیڈروں-کارکنان میں ضمنی انتخابات میں لگاتار ملی شکست سے ایک مایوس ہے۔ اس کے علاوہ انھیں نتیش کمار کے دوبارہ این ڈی اے میں شامل ہونے کے بعد کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔

مہاگٹھ بندھن میں پارٹی کارکنان آر جے ڈی کے ساتھ کافی یکساں سطح پر تھے۔ اب ان کا کردار کوئی کردار نہیں رہ گیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ این ڈی اے کی پوری انتخابی مشینری بی جے پی کارکنان میں ہاتھ میں رہے گی۔

آئندہ سال لوک سبھا انتخابات سے پہلے جوکی ہاٹ شاید آخری ضمنی انتخاب ہوگا۔

next