آرٹیکل 370 ختم کرنے سے قبل کشمیریوں کا دل جیتنا چاہیے تھا... رام پنیانی

بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ بابا صاحب امبیڈکر دفعہ 370 کے خلاف تھے اور اسے ہٹا کر بی جے پی نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے بہت الگ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

رام پنیانی

حکومت ہند نے کشمیر کے لوگوں کی رائے جاننے کا جمہوری طریقہ اختیار کیے بغیر انتہائی جلد بازی میں آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کے بارے میں فیصلہ لیا۔ جموں و کشمیر ریاست اب دو مرکز کے ماتحت ریاستوں میں تقسیم ہو گئیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہوا میں بے شمار ادھوری سچائیاں تیر رہی ہیں۔ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے اور شیاما پرساد مکھرجی کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں جنھوں نے دفعہ 370 کی مخالفت کی تھی اور جو کشمیر کاہندوستان میں زبردستی انضمام کروانے کے حق میں تھے۔

بی جے پی کے لیڈروں نے اس کے ساتھ ہی ایک نیا شگوفہ چھوڑا ہے۔ 20 اگست 2019 کو ’انڈین ایکسپریس‘ میں شائع خبر کے مطابق بی جے پی کے ارجن رام میگھوال نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر دفعہ 370 کے خلاف تھے اور اس کو ہٹا کر بی جے پی نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ میگھوال کا دعویٰ ہے کہ امبیڈکر نے ایک میٹنگ میں شیخ عبداللہ سے کہا تھا کہ ’’آپ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کشمیر کی حفاظت کرے، وہاں کے شہریوں کا پیٹ بھرے اور کشمیریوں کو پورے ہندوستان میں یکساں اختیار ملے۔ لیکن آپ ہندوستان کو کشمیر میں کوئی اختیار نہیں دینا چاہتے۔‘‘

میگھوال یہ اشارہ بھی کرتے ہیں کہ نہرو کی کشمیر پالیسی کے سبب ہندوستان اور پاکستان میں دشمنی ہوئی جس کے نتیجہ میں دونوں ممالک کے درمیان تین جنگیں ہوئیں۔ میگھوال کے مطابق امبیڈکر کشمیر مسئلہ کا مستقل حل چاہتے تھے اور یہ بھی کہ دفعہ 370 کی وجہ سے کشمیر میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کو ہوا ملی۔

یہ ماضی کی باتوں کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بابا صاحب کے علاوہ مولانا حسرت موہانی نے بھی دفعہ 370 کی مخالفت کی تھی۔ میگھوال کے مطابق موہانی کو پارلیمنٹ میں اس دفعہ کی مخالفت کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ بابا صاحب نے اس میٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا جس میں اس دفعہ سے متعلق تجویز کو منظوری دی گئی۔ اس میں کوئی اندیشہ نہیں کہ بابا صاحب نے اس دفعہ کے تئیں اپنی مخالفت سب کے سامنے ظاہر کی تھی۔ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بابا صاحب کا جمہوریت میں اٹوٹ اعتماد تھا اور اگر وہ آج ہوتے تو یقینی طور سے کہتے کہ کشمیر کے لوگوں کی رائے سب سے بالاتر ہونی چاہیے۔

پاکستان کے ساتھ ہوئی تین جنگوں کے لیے نہرو حکومت کی پالیسیوں کو قصوروار ٹھہرانا قطعی مناسب نہیں ہے۔ پاکستان کے ساتھ پہلی جنگ اس لیے ہوئی کیونکہ اس نے قبائلیوں کی شکل میں اپنے فوجیوں کی کشمیر میں دراندازی کروائی تاکہ ہندو مہاسبھا کے ساورکر کے دو ملکی اصول کے مطابق وہ کشمیر پر کنٹرول قائم کر سکے۔ مسلم لیگ بھی اس پالیسی کی حامی تھی۔ جناح اور پاکستان کا ماننا تھا کہ چونکہ کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ ہے اس لیے اسے پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے۔

دوسری طرف انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو کی واضح رائے تھی کہ کشمیر کا انضمام دونوں میں سے کس ملک میں ہو، اس کا فیصلہ کشمیر کے لوگوں پر چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی بھی یہی سوچ تھی کہ کشمیر کے لوگوں کی خواہش کا احترام ہونا چاہیے۔ نہرو کے شیخ عبداللہ سے سال 1930 کی دہائی سے قریبی رشتے تھے۔ دونوں جمہوریت، اکثریت پسندی اور سماج واد میں یقین رکھتے تھے۔ اپنے نظریاتی عزائم کی وجہ سے ہی عبداللہ نے کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانے کا فیصلہ لیا۔

جہاں تک سال 1965 کی جنگ کا سوال ہے تو اس کے پیچھے کشمیر مسئلہ کا بھی کردار تھا، لیکن اس کے لیے ہندوستان کی کشمیر پالیسی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ جنگ دونوں ممالک کے کشمیر سے متعلق ایشو پر الگ الگ سوچ کا نتیجہ تھا۔ جہاں تک سال 1971 کی جنگ کا سوال ہے تو اس کا تعلق شمالی پاکستان کے واقعات سے تھا جہاں پاکستان کی فوج نے زبردست استحصال برپا کر رکھا تھا۔ فوج کے مظالم سے پریشان تقریباً ایک لاکھ پناہ گزیں ہندوستان آ گئے تھے۔ اس جنگ سے بنگلہ دیش کو پاکستان کے چنگل سے آزادی ملی۔

جہاں تک کشمیر میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی جڑیں پھیلنے کا سوال ہے، اس کے لیے ہندوستان کی فرقہ پرست طاقتوں کی کارگزاریاں ذمہ دار ہیں۔ میگھوال کی سوچ پر اعتماد رکھنے والے گوڈسے کے ذریعہ مہاتما گاندھی کے قتل نے ہندوستان کی سیکولرزم میں شیخ عبداللہ کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کا ہندوستان سے لگاؤ ختم ہو گیا اور انھوں نے پاکستان اور چین سے بات چیت شروع کر دی۔ اس کے نتیجہ میں انھیں گرفتار کر لیا گیا اور یہیں سے کشمیر میں علیحدگی پسندی کا جذبہ پیدا ہوا جس نے بعد میں دہشت گردی کی شکل اختیار کر لی۔ اسی کا فائدہ پاکستان نے اٹھایا۔ آگے چل کر القاعدہ جیسے عناصر نے کشمیریت کی دفاع کے ایشو کو ہندو مسلم تنازعہ کی شکل دے دی۔

ہمیں یہ ٹھیک سے سمجھ لینا چاہیے کہ کشمیر میں علیحدگی پسندی اس لیے نہیں پنپی کیونکہ ریاست کو خصوصی درجہ حاصل تھا۔ علیحدگی پسندی پنپنے کے پیچھے دو اسباب تھے۔ جہاں ہندوستان ریاست کی اکثریت پسند تہذیب و ثقافت کو کمزور کیا وہیں پاکستان نے آگ میں گھی ڈالا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی اور کشمیر کے ایشو پر اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں، اس حلقہ میں امن کے قیام کی سمت میں اہم قدم تھا۔ مغربی ممالک کی شہ پر پاکستان نے کشمیر کے اس حصے کو چھوڑنے سے انکار کر دیا جس پر اس نے زبردستی قبضہ جما لیا تھا۔ کشمیر میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کی تجویز کو ڈیپ فریزر میں رکھ دیا گیا۔

دراصل میگھوال شاید کشمیر کے ایشو اور اس کی بنیادوں کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ وہ اِدھر اُدھر کی تاریخ کے کچھ واقعات کو اٹھا کر ان کا استعمال اپنی پارٹی کے منمانے فیصلے کو صحیح ٹھہرانے کے لیے کر رہے ہیں۔ اس فیصلہ میں شفافیت اور جمہوری دونوں کی کمی ہے۔ بابا صاحب کی سیاست پوری طرح شفاف اور اصولوں پر مبنی تھی۔ وہ جو سوچتے تھے، وہی کہتے تھے اور جو کہتے تھے وہی کرتے تھے۔ امبیڈکر آئین کی مسودہ کمیٹی کے سربراہ تھے اور اس کمیٹی نے آئین کا جو مسودہ تیار کیا تھا، اس میں دفعہ 370 شامل تھی۔

ہاں، یہ قبول کرنے میں کسی کو کوئی گریز نہیں ہونا چاہیے کہ دفعہ 370 ایک غیر مستقل حل تھا۔ لیکن اسے ہٹانے سے پہلے ہمیں یہ یقینی کرنا تھا کہ پڑوسی ملک سے ہمارے رشتے بہتر ہوں اور ہم کشمیر کے لوگوں کے دلوں کو جیت سکیں۔ پاکستان چاہے جو مسئلہ کھڑا کرے، ہمیں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنی ہی چاہیے۔ بابا صاحب اور سردار پٹیل بھی یہی کرتے۔ قوموں کی بنیاد محبت اور خیر سگالی پر رکھی جاتی ہے۔ لوگوں پر جبراً کوئی نظام لادنے سے نقصان کا امکان زیادہ ہوتا ہے، فائدہ کم۔

Published: 29 Aug 2019, 9:10 PM