کیا واقعی ہندوستان میں سب اچھا ہے؟... سہیل انجم

وزیر اعظم مودی سے کشمیر کے مسئلے پر بولنے کی توقع تھی لیکن انھوں نے اسے چھوا تک نہیں۔ جبکہ عالمی میڈیا کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر خوب رپورٹنگ کر رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

سہیل انجم

پورے ایک ہفتے کا شور شرابہ ختم ہو گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے دورے سے واپس آگئے۔ اور ان کی واپسی پر دہلی ایئرپورٹ پر ان کا ایسے سواگت ہوا جیسے وہ امریکہ فتح کرکے آئے ہوں اور اب ڈونلڈ ٹرمپ نہیں بلکہ نریندر مودی امریکہ کے صدر ہو گئے ہیں۔ گھنٹوں تک سڑکیں جام رہیں اور لوگوں کو زبردست دشواریوں سے گزرنا پڑا۔ منتظمین نے یہ نہیں سوچا کہ کسی کو کسی ملک کی فلائٹ پکڑنی ہوگی کسی کو کسی ملک کی۔ اگر راستہ بند ہوگا تو وہ کیسے جائیں گے۔

نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کے اجلاس میں مودی اور عمران خان دونوں کی تقریروں کا انتظار تھا۔ عمران خان نے ذاتی نوعیت کی تقریر کی اور ہندوستان پر اور اس کے وزیر اعظم پر حملے کیے۔ جس کا جواب ہندوستان کی جانب سے دیا گیا۔ لیکن وزیر اعظم مودی سے جس تقریر کی توقع تھی وہ انھوں نے نہیں کی۔ انھوں نے یوں تو کئی عالمی ایشوز پر اپنی بات کہی جن میں دہشت گردی کا ایشو بھی شامل ہے لیکن عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق بہت سے بین الاقوامی ایشوز کو بالائے طاق رکھ دیا۔ وہ اپنی حکومت کی نام نہاد کامیابیاں ہی گناتے رہے۔

وزیر اعظم مودی سے کشمیر کے مسئلے پر بولنے کی توقع تھی لیکن انھوں نے اسے چھوا تک نہیں۔ جبکہ عالمی میڈیا کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر خوب رپورٹنگ کر رہا ہے۔ یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ اپنے ہی ملک کے ایک حصے کے باشندوں کو دو ماہ سے لاک ڈاون کے شکنجے میں کس کر رکھا گیا ہے۔ وہاں نہ تو مواصلات کی سہولتیں ہیں اور نہ ہی نقل و حمل کی۔ عوام آزادانہ طور پر کہیں آجا نہیں سکتے۔

اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم ایسا پلیٹ فارم تھا جہاں مودی کشمیر کے بارے میں اپنی بات رکھ سکتے تھے اور دنیا کو یہ بتا سکتے تھے کہ عالمی میڈیا جو کہہ رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔ لیکن شاید ان کے پاس ایسا کہنے کی جرأت نہیں تھی۔ کیونکہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہی عالمی میڈیا دکھا رہا ہے۔ یہاں کا میڈیا تو وہ دکھا رہا ہے جو حکومت چاہتی ہے۔ لہٰذا اگر مودی کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے، اگر چہ ان کو عمران خان سے پہلے بولنا تھا، پھر بھی کشمیر کے بارے میں ان کی باتوں کے بعد عمران کی باتوں میں کوئی وزن نہیں رہ جاتا۔

امریکہ میں مودی کے پروگرام کی ایک خاص بات ہاوڈی مودی پروگرام تھا۔ نریندر مودی نے غیر ممالک میں بسے ہند نژاد لوگوں سے خطاب کرنے کی ایک پالیسی بنائی ہے۔ اسی پالیسی کے تحت انھوں نے ہیوسٹن میں ہاوڈی مودی پروگرام میں حصہ لیا اور پچاس ہزار ہند نژاد امریکیوں سے خطاب کیا۔ حالانکہ اس سلسلے میں خبریں کافی آچکی ہیں کہ کس طرح ہیوسٹن کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی لوگوں کو لایا گیا تھا تاکہ مودی کے اس جلسے کو ایک بڑی شکل میں پیش کیا جا سکے۔

مودی نے اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرچارک بن گئے۔ انھوں نے یہ نعرہ لگا کر کہ ’’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘‘ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہندوستان کا تعلق کسی ایک پارٹی سے نہیں بلکہ ملک سے ہے۔ جو بھی پارٹی وہاں برسراقتدار آئے گی ہندوستان اس کے ساتھ معاملات کرے گا۔ لیکن مودی نے ٹرمپ کی حمایت میں اعلان کرکے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا مذاق بنا دیا۔

مودی نے وہاں اپنی تقریر میں کہا کہ ہندوستان میں سب اچھا ہے۔ انھوں نے یہ بات بڑے پرجوش انداز میں اور چار پانچ زبانوں میں کہی۔ مودی اور ان کے ہندوستانی بھکتوں کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی کہ امریکی صدر نے ان کی تقریر سنی۔ تقریر کے بعد مودی نے ٹرمپ سے گزارش کی کہ وہ ان کے ساتھ اسٹیڈیم کا ایک چکر لگائیں۔ ٹرمپ کو اپنے ووٹوں کی فکر ہے اس لیے انھوں نے مودی کی یہ بات مان لی۔ لیکن مودی بھکتوں نے اسے ایک بہت بڑا واقعہ بنا کر پیش کیا۔ حالانکہ کسی اتنے بڑے ملک کے وزیر اعظم سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

مودی نے یہ کہہ کر کہ ہندوستان میں سب اچھا ہے، بہت بڑی دروغ بیانی کی ہے۔ کیا واقعی یہاں سب اچھا ہے؟ یہ سوال اس کے بعد سے مسلسل پوچھا جا رہا ہے۔ گودی میڈیا کے علاوہ جو میڈیا ہے وہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن جواب نہیں مل رہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ تو اپنے منہ میاں مٹھو بننے جیسا ہے۔ یہاں تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔

موب لنچنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں تک کہ دو بچوں کو کھلے میں رفع حاجت کرنے کی پاداش میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ خواتین کی عصمتیں محفوظ نہیں ہیں۔ اخباروں میں ریپ کی خبروں کی بھرمار ہے۔ ہیٹ اسپیچ یا نفرت انگیز تقریروں کا سلسلہ جاری ہے۔ معیشت نیچے ہی نیچے گرتی چلی جا رہی ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ پیاز کی قیمتوں نے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو بھر دیئے ہیں۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔ لوگوں کو ان کی نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے۔ صنعتوں کا برا حال ہے۔ ماروتی اور دیگر کمپنیاں اپنے کام بند کرنے لگی ہیں۔

کشمیر کا مسئلہ اس پر مستزاد ہے۔ کشمیر کے اندر کے لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ ان کے وہ اعزا جو کشمیر سے باہر ہیں وہ کس حال میں ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ لینڈ لائن فون کھول دیئے گئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی مشروط ہے۔ موبائل خدمات اب بھی بند ہیں۔ انٹرنیٹ کا سلسلہ منقطع ہے۔ اہل کشمیر دنیا کو تو چھوڑیئے خود اپنے حالات سے باخبر نہیں ہیں۔

ایسے میں وزیر اعظم مودی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں سب اچھا ہے۔ اگر اسی کو سب اچھا ہونا کہتے ہیں تو واقعی سب اچھا ہے۔ ورنہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی پشت تھپتھپانا بند کرے اور حقائق سے آنکھیں چار کرے۔ وزیر اعظم امریکہ میں جا کر کروڑوں شوچالیہ بنوانے کی بات کرتے ہیں لیکن کیا وہ شوچالیہ استعمال میں ہیں اور کیا لوگ واقعی اب کھلے میں رفع حاجت نہیں کر رہے ہیں۔ اس کا جواب وہ نہیں دیتے۔

بہر حال وزیر اعظم مودی امریکہ کے دورے سے واپس آگئے ہیں۔ اس موقع پر جو پروگرام کیا گیا اس سے یوں محسوس ہوا کہ شاید یہ پہلے وزیر اعظم ہیں جنھوں نے امریکہ کا دورہ کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ملک کے حکمراں پہلے بھی دوسرے ملکوں کا دورہ کیا کرتے تھے لیکن اس طرح ڈھنڈورہ نہیں پیٹا جاتا تھا۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ دوسرے آپ کی کامیابیوں کا بکھان کریں۔ اگر آپ نے خود اپنے کاموں کا ڈنکا بجانا شروع کر دیا تو یہ کوئی کمال نہیں ہے۔ سابقہ حکومتیں ایسا نہیں کرتی تھیں، خواہ وہ کسی کی بھی رہی ہوں۔ جو لوگ احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں وہی ایسے رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

Published: 29 Sep 2019, 10:10 PM