ہیمنت بسوا سرما کی رسوا کن بدزبانی... اعظم شہاب

ہیمنت بسوا سرما کومسلمانوں کو اوٹ پٹانگ مشورہ دینے کے بجائے اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

بی جے پی کی نفرت انگیز عمارت فی الحال چار ستونوں پر قائم ہے۔ ان میں سے آگے دوستون وزیر اعظم اور اور وزیر داخلہ ہیں نیز پچھلے دوستون یوگی ادیتیہ ناتھ اور ہیمنت بسواسرما ہیں ۔ یہ چاروں ستون شتر بے مہار کی مانند جو من میں آئے کہتے رہتے ہیں اور ان کی بھگت نندی بیل کی مانند سر ہلاتے رہتے ہیں۔ ابھی حال میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے ایوان ِ اسمبلی میں بڑی ڈھٹائی کے ساتھ دعویٰ کیا کہ مسلم کمیونٹی ریاست کی سب سے بڑی آبادی بن گئی ہے اور انہیں ایک اکثریتی برادری کے طور پر برتاؤ کرنا شروع کر دینا چاہیے۔ گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا جواب دیتے ہوئے، سرما نے کہا، ’اب اقلیتیں اکثریت بن چکی ہیں۔ وہ ریاست کی آبادی کا 30-35 فیصد ہیں…‘ 2011 کی مردم شماری کے مطابق آسام کی کل 3.12 کروڑ کی آبادی میں ہندوؤں کی تعداد 61.47فیصد ہے اور مسلمانوں کی آبادی 34.22فیصد ہے۔ اور وہ کئی اضلاع میں اکثریت میں ہے۔ جبکہ ریاست میں عیسائیوں کی کل تعداد 3.74فیصد ہے ، سکھوں، بدھسٹوں اور جینوں کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

بسوا اور ان کے بھگت یہ آسان ریاضی بھی نہیں جانتے کہ100 میں 34 فیصد تقریباًایک تہائی ہوتا ہے ۔ اس کے مقابلے جو 62 فیصد ہو وہ اکثریت میں ہوتا ہے۔ خیر اس طرح بسوا نے بلاواسطہ یہ تسلیم کرلیا کہ وہ اکثریت کے نمائندہ وزیر اعلیٰ نہیں ہیں کیونکہ صوبے کے مسلمان تو ان کو اپنا رہنما نہیں مانتےاور مانیں بھی کیسے جبکہ وہ تو انہیں اپنی ریاست کا باشندہ ہی تسلیم نہیں کرتے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہیمنت بسوا سرما نے یہ دعویٰ کیوں کیا؟ اس کا جواب خود انہوں نے اس طرح دیا کہ ،’’ ایک کروڑ کی آبادی کے ساتھ، وہ اب (مسلمان ) سب سے بڑی برادری ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے‘‘۔ اس طرح کا غیر ذمہ دارا نہ بیان آج تک دنیا کے کسی حکمراں نے نہیں دیا ہوگا ۔ امن و امان قائم رکھنا سرکار کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جو حکومت اس کو قائم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی اس کو استعفیٰ دے کر کنارہ کش ہوجانا چاہیے۔


حکومت کے پاس انتظامیہ کی طاقت ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سماج دشمن عناصر کو قابو میں رکھ کر نظم و نسق قائم کیا جاتا ہے ۔بسوا سرما کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سماج دشمن عناصر کےسرغنہ ہے۔ انہیں کی مدد سے اس نے اقتدار حاصل کیا ہے اس لیے اپنے چیلوں پر کارروائی کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔ غنڈہ عناصر بھی جانتے ہیں کہ جب سیاںّ بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا؟ اس لیے وہ دنگا فساد کرتے رہتے ہیں ۔ ان پر لگام کسنے کے بجائے یہ وزیر اعلیٰ امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری اپنے شانے سے ہٹا کر بے بس و مظلوم عوام کے کندھوں پر ڈال رہا ہے ۔لیکن یہ کیونکر ممکن ہے؟ جب ایک طرف اسلحہ بردار غنڈے اور وردی پوش سپاہی ہوں اور انہیں سرما جیسے لوگوں کی سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتو بھلا عوام ان کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں ۔ ایسے میں خود ان پر امن وامان قائم رکھنے کی ذمہ داری ڈال دینا ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے ۔

بڑ بولے وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ انہیں (یعنی بنگالی بولنے والےمسلمان) اپنے آپ کو ’باہر والے‘ سمجھنا چھوڑ کر اور فرقہ وارانہ اتحاد اور ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ دراصل آسام میں بسنے والے مسلمان نہ تو ’باہر والے ‘ ہیں اور نہ اپنے آپ کو ایسا سمجھتے ہیں ۔ یہ تو اپنی سیاست چمکانے کے لیے سنگھ پریوار نے اندر والا اور باہر والا کی تفریق پیدا کی ۔ این آر سی بنانے پر زور دیا اور جب پتہ چلا کہ اس جائزے کے مطابق مسلمانوں سے زیادہ ہندو اپنے کاغذاتِ شہریت جمع کرنے میں ناکام رہے تو یہ ٹھنڈے ہوکر بیٹھ گئے۔ وزیر اعلیٰ کا مشورہ کہ مسلمانوں کو فرقہ وارانہ اتحاد اور ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے معقول تو ہے لیکن جب بسوا جیسا سیاستداں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرکے اور دنگا فساد کرواکر اس پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکتا ہوتو بھلا کوئی کیونکر کامیاب ہوسکتا ہے؟ یہ تو ایسا ہے کہ جیسے کوئی شہر میں آگ لگاتا پھرے اور اس کے نقصان کی ذمہ داری خود مظلومین کے سر منڈھ دے ۔


وزیر اعلیٰ نے اپنی سازشی تقریر میں دو سطح پر تفریق پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی۔ پہلے تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوؤں کے اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ان کے اندر شناخت کھونے کا خوف بڑھ رہا ہے اور اس خدشے کے باعث ان کے اردگرد ’’حفاظتی دائرے یا حلقے‘‘ بنائے گئے ہیں۔ بی جے پی کی سیاست کا محورہندووں کے اندر ایک خیالی خوف کی نفسیات پیدا کرکے اپنے آپ کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرکے ان کا نفسیاتی و سیاسی استحصال ہے۔ اس بیان کے ذریعہ وہی مقصد سادھنے کی سعی کی گئی ہے۔ اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ ’مقامی مسلمان‘ بھی اپنی شناخت کھونے سے ڈرتے ہیں، دراصل مسلمانوں کے درمیان دراڑ ڈالنے کی مذموم کوشش ہے۔ اس طرح وہ بنگالی اور آسامی زبان بولنے والوں کے درمیان دوری پیدا کرنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے اس لیے کہ مسلمانوں کے لیے ایمان کی شناخت بنیادی اور باقی فرق ثانوی درجہ کا ہے۔ نیز بسوا سرما جیسا وزیر اعلی سامنے ہوتو مسلمان اپنے باہمی اختلافات کو مٹا کر ازخود سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں ۔ یہ بات ہر مسلمان سمجھتا ہے کہ ’ ریاست کی ترقی ان کی سرگرمیوں سے براہ راست جڑی ہوئی ہے‘ اس وزیر اعلیٰ کو اس پر زور دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو اوٹ پٹانگ مشورہ دینے کے بجائے انہیں اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 21 Mar 2022, 9:11 AM