بہار کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان آگے نہیں جا سکتا

بہاریوں کو اب بتا دینا چاہیے کہ وہ اپنے پیسے سے پورے ملک کو بڑھتے دیکھ خاموش نہیں رہیں گے۔ بہار کے لوگ ایک ساتھ دہلی اور پٹنہ کے ان لیڈروں کو سبق سکھائیں جنھوں نے ان کا استحصال کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

موہن گروسوامی

سال 1984 میں ہارورڈ سے واپس آنے کے فوراً بعد بہار اور شمالی اتر پردیش کے حالات کیسے ہیں اور اس کے اسباب کیا ہیں، انھیں سمجھنے کے لیے میں نے ان علاقوں کا دورہ کیا۔ مجھے ایسا کرنے کے لیے سابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے حوصلہ بخشا تھا جو تکنیکی طور پر تھے اتر پردیش کے، لیکن دل سے ایک بہاری تھے۔ جب ہم نے اپنی طویل، مشکل اور تھکا دینے والا سفر ختم کیا تو میں نے سابق وزیر اعظم کو وہ سب سنایا جو ہم نے دیکھا۔ اس وقت انھوں نے مجھ سے بہار اور شمالی اتر پردیش کی قسمت کی تفصیل سے تحقیق کر اس پر کچھ لکھنے کی درخواست کی۔

یہ تحقیق ’دی چلڈرن آف دی گنگا: این انکوائری اِن ٹو دی پاورٹی آف دی گینجیٹک پلینس‘ کی شکل میں سامنے آیا۔ چندر شیکھر نے اس کی ہزاروں کاپیاں چھپوا کر بہار اور شمالی اتر پردیش میں تقسیم کروائی تھی۔ تحقیق نے بہار اور اتر پردیش کے سبھی پیمانوں میں بہترین اور اوسط کے ساتھ فرق کا تجزیہ کیا تھا۔ واحد تبدیلی پرائمری تعلیم کے لیے نامزدگیوں میں اضافہ کے علاوہ سبھی پیمانوں میں صورت حال اب بھی جیوں کی تیوں ہے۔

لیکن بہار اس بری حالت میں کیوں تھا، یہ اب بھی ایک بڑا سوال ہے؟ جس ریاست کو کیلیفورنیا یونیورسٹی میں پبلک ایڈمنسٹریشن محکمہ کے پروفیسر ڈاکٹر جان اَپلیبی نے بہترین انتظامیہ والی ریاست بتایا تھا، وہ بیوروکریٹک اور انتظامی طور پر برا خواب کیوں بن گیا؟

جواب تلاش کرنا زیادہ مشکل نہیں تھا۔ ہندوستان میں اقتصادی ترقی پہلے بھی اور اب بھی ریاست پر مرکوز ہے۔ مرکزی حکومت ریاستوں پر جو پیسہ خرچ کرتی ہے، اس کا اس ریاست کے شہریوں کی معمولات زندگی پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ ثبوت بالکل صاف تھے۔ پہلے منصوبہ کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کے ذریعہ بہار اور اتر پردیش کو نظر انداز کیا گیا۔ اگر ہر منصوبہ میں فی کس خرچ تھا تو بہار اس میں سب سے دور تھا۔

جب ہم نے آج تک ہر منصوبہ میں کم ملی رقم کا حساب لگایا تو آج سے تقریباً 30 سال پہلے، 1984 تک بہار کو کل 27 ہزار کروڑ روپے مرکز کے ذریعہ کم کر دئیے گئے تھے۔ آج وہ رقم بڑھ کر پانچ گنا ہو چکی ہے۔ آج منصوبے زیادہ بڑے ہو چکے ہیں، جبکہ اب بھی بہار پر صنعتی اور اسٹرکچرل معاملوں میں فی کس خرچ سب سے کم ہے۔ اونچی رینکنگ والی ریاستوں پر حکومت کا فی کس خرچ بہار سے چھ گنا زیادہ ہے۔

بہار ملک کی دوسری سب سے بڑی ریاست ہے۔ کئی نظریے سے یہ ہندوستان کا قلب ہے۔ اس نے ہندوستانی ثقافت، جو گنگا ندی کے کنارے ترقی پائی، کو بہت کچھ دیا۔ یہ صاف ہے کہ بہار کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان آگے نہیں جا سکتا۔ لیکن اب بھی اس سمت میں ہم کوئی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ نہ صرف مرکز کے لیڈران اس معاملے میں ناکام رہے ہیں بلکہ ان لوگوں نے زیادہ مایوس کیا ہے جنھیں بہار منتخب کر کے دہلی بھیجتا ہے۔ وہ بہار کی بدحالی اور ریاست کے ساتھ ہوئی ناانصافی کی بات صحیح طریقے سے اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے مرکزی حکومت کے ذریعہ ملی سہولیات سے ہمارے لیڈران مدہوش ہو گئے ہیں۔

سال 2003 میں ہم نے تحقیق کو دوبارہ لکھ کر اور اس میں ضروری ترمیم کر اسے ’دی اکونومک اسٹرینگولیشن آف بہار‘ نام سے بہار کے وزیر اعلیٰ اور سبھی اراکین پارلیمنٹ کو دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ کے شوہر نے میری تحریر کا استعمال انتخابات میں بخوبی کیا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر بہار کے ساتھ ہوئی اَن دیکھی کو تو انھوں نے ایشو بنایا، لیکن یہ سب انھوں نے اپنی حکومت میں ہوئی بے ضابطگیوں کے اپوزیشن کے الزامات سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لیے کیا۔ لیکن مرکز میں وزیر بننے کے بعد لالو یادو ہارورڈ سے جھوٹی تعریف بٹورنے میں مصروف ہو گئے۔

اِدھر حال کے وقت میں موجودہ وزیر اعلیٰ اس ایشو کو کبھی کبھی اٹھاتے رہے ہیں۔ انھوں نے بہار کے لیے خصوصی ریاست کے درجے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ بہار کو دیگر ریاستوں کے مقابلے کھڑا کیا جا سکے۔ انھوں نے 60 ہزار کروڑ روپیوں کا مطالبہ کیا جب کہ اس سے دوگنے پر بہار کا حق بنتا ہے، لیکن وہ بھی درکنار کر دیا گیا۔

آندھرا پردیش کی تقسیم ہوئی تو مرکزی حکومت نے اسے خصوصی ریاست کا درجہ دے دیا جب کہ یہ غالباً اس علاقے کی سب سے امیر ریاست ہے۔ یہ بہار اور اس کی قیادت کا دعویٰ کرنے والے سبھی لیڈروں کے گال پر زبردست طمانچہ تھا۔ یہ بہار کی امیدوں اور خواہشوں کو ظالمانہ انداز میں مسترد کیا جانا تھا۔

میں بہار سے نہیں ہوں۔ میں سکندر آباد سے ہوں۔ لیکن میرا دل بہاریوں کے ساتھ غمزدہ ہے۔ اس بار انھیں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ اس بار انھیں مقامی اور مرکزی لیڈروں کو سبق سکھانا چاہیے۔ انھیں بتانا چاہیے کہ اب وہ اپنے پیسے سے پورے ملک کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کر خاموش نہیں رہیں گے۔ یہ صحیح وقت ہے جب بہار کے لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور ایک ساتھ دہلی اور پٹنہ کے ان لیڈروں کو سبق سکھائیں جنھوں نے ان کا استحصال کیا ہے۔ ایک دن کے بند سے بہت کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ضرورت ہے بہار یہ دکھائے کہ اب وہ اور برداشت کرنے والا نہیں ہے۔

Published: 31 Aug 2019, 2:10 PM