جتنا معاشی بحران بڑھے گا، اتنا ہی فرقہ پَرستی کا طوفان بڑھے گا... ظفر آغا

ملک کی معاشی حالت جیسے جیسے اور نازک ہوگی، ویسے ویسے ملک میں فرقہ وارانہ بحران بھی بڑھتا جائے گا۔ منافرت کی سیاست کا ننگا ناچ ہوگا۔ اس کے لیے موب لنچنگ کرنے والے جتھے تیار کر دیے گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ظفر آغا

جناب ملک کی معاشی حالت نازک ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ معاشی صورت حال سنگین ہے تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ کیونکہ مودی حکومت نے ادھر اپنے دوسرے دور کا پہلا بجٹ پیش کیا اور ادھر شیئر بازار میں کہرام مچ گیا۔ اسی روز بازار میں لاکھوں کروڑ ڈوب گئے اور تب سے بازار کا یہی حال ہے۔ اسی طرح پٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھنے سے روز مرہ کی ہر شے کی قیمت بڑھ گئی۔ آٹا، دال، چاول، گوشت، دودھ، سبزی، یعنی عام اور غریب انسان کے استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو گئی اور اس کی زندگی مزید مشکل ہو گئی۔ الغرض وزیر مالیات سیتارمن ہندوستانی معیشت کو راس نہیں آئیں۔ بیچاری سیتارمن! لیکن سیتارمن کرتی تو کرتی کیا! کیونکہ نریندر مودی تو اپنے پہلے دور میں ہی خزانہ لٹا چکے تھے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی حرکتوں نے معیشت کی کمر پہلے ہی توڑ دی تھی۔ جو کچھ بچا تھا اسے نیرو مودی اور مالیا جیسے بینک لوٹ کر چلتے بنے اور حالات مزید بگڑ گئے۔ باقی مودی اور شاہ نے مل کر 2019 لوک سبھا چناؤ میں لٹا دیا۔ یعنی اب جب حکومت بنی تو خزانہ لگ بھگ خالی تھا۔

مگر جناب حیرت اس بات کی ہے کہ معیشت سنگین حال میں ہے، لیکن نہ تو وزیر اعظم اور نہ ہی کسی اور کے ماتھے پر شکن ہے۔ یہ تعجب خیز بات ہے، کیونکہ جتنی معیشت بگڑتی ہے، اتنی ہی حکمرانوں کی سیاست بگڑتی ہے۔ لیکن بی جے پی کو دیکھیے تو لگتا ہے کہ وہ سکھ چین کی بنسی بجا رہے ہیں۔ کوئی فکر ہی نہیں۔ اور فکر ہو تو ہو کیوں! نریندر مودی نے پہلے ہی وہ حکمت عملی تلاش کر لی ہے جو ہر حالت میں بی جے پی کے لیے چناؤ جتوانے کی ضامن ہے۔ وہ حکمت عملی یوں تو صدیوں پرانی ہے لیکن ہے بے حد کارگر۔ ارے اسی حکمت عملی کے ذریعہ انگریزوں نے اس ملک پر کوئی ڈیڑھ سو سال حکومت کی۔ یعنی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘، جس کو انگریزی میں ’ڈیوائیڈ اینڈ رول‘ کہتے ہیں۔ اس حکمت عملی میں حکمراں ایک مذہبی گروہ کو دوسرے مذہبی گروہ سے لڑواتا ہے، اس طرح آپس میں جو نفاق و نفرت پیدا ہوتی ہے وہ عوام کے لیے افیون کا کام کرتی ہے۔ اس سے عوام اپنی تمام پریشانی بھول کر نفرت کے نشے میں اپنے مصنوعی دشمن کو کوستے رہتے ہیں اور حکمراں طبقہ کو اپنا محافظ سمجھ کر اس کا گن گان کرتے ہوئے آخر میں اسی کو ووٹ ڈال دیتے ہیں۔

نریندر مودی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ حکمت عملی کا سنہ 2002 میں گجرات فسادات کے وقت سے استعمال کر رہے ہیں۔ یاد ہوگا کہ اس وقت گودھرا میں پہلے ایک ٹرین پر ایک مبینہ مسلم گروہ نے ہندو کارسیوکوں پر حملہ کیا، گاڑی میں آگ لگی اور 52 افراد کی جان گئی۔ دوسرے روز ہندو گروہ گجرات میں سڑکوں پر نکل پڑا۔ گجرات کا بدترین ہندو-مسلم فساد شروع ہو گیا۔ تین روز تک مسلمانوں کا قتل عام ہوتا ہے۔ ہزاروں لوگ مارے گئے، عورتوں کی آبرو ریزی ہوئی، گھر بار لوٹے گئے۔ نریندر مودی اور ان کی پولس خاموش تماشائی بنی رہی۔ جب سب لٹ گیا تو مودی نکلے اور ہندوؤں کے حق میں تقریریں شروع کیں۔ اور دیکھتے دیکھتے مودی ہندو محافظ اور ہندؤوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ تب سے آج تک پہلے گجرات اور پھر مرکز پر نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی کا قبضہ ہے۔ ہر بار ہندو اکثریت مسلم منافرت میں مودی اور ان کی پارٹی کو ووٹ ڈالتی رہتی ہے اور وہ چناؤ جیتتے رہتے ہیں۔ یعنی ہندو-مسلم میں پھوٹ ڈالو اور راج کرو حکمت عملی کامیاب ہے۔ اس لیے ملک کی معاشی حالت کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو، مودی اور بی جے پی کو کسی بات کی فکر نہیں!

اس بار بھی نریندر مودی کے دوسری بار اقتدار میں آتے ہی ملک کی فضا میں فرقہ واریت کا زہر گھلنا شروع ہو گیا۔ پہلے تو یہ خبر آئی کہ مسلم نوجوانوں کو روک کر زبردستی پیٹا جا رہا ہے اور ان سے زبردستی ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوایا جا رہا ہے، حالانکہ وزیر اعظم نے چناؤ جیتتے ہی اپنی پہلی تقریر اور پھر اس کے بعد پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں مسلم اقلیت کو یہ یقین دلایا تھا کہ اس کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بقول ان کے وہ ہر ہندوستانی شہری کے وزیر اعظم ہیں اور وہ ہر کسی کے ساتھ انصاف کریں گے۔ ان کی اس تقریر کے بعد کچھ نام نہاد ’قائدین ملت‘ اور ’علماءِ ملت‘ نے وزیر اعظم کو ایک پرتشکر خط لکھا اور پوری ’ملت‘ کو یہ مشورہ دیا کہ وہ تو مودی کے بھکت ہو چکے ہیں، ملت بھی ان کے ہاتھوں پر بیعت کر لے۔ ظاہر ہے کہ یہ میر جعفر و میر صادق جیسے افراد ہیں جو قوم کے مفاد میں نہیں اپنے ذاتی مفاد میں ایسے مشورے دیتے رہتے ہیں۔ لیکن مودی جی کی تقریر اور ’قائدین ملت‘ کے مشورے کو ایک ہفتے کی بھی مدت نہیں گزری تھی کہ پہلے تبریز انصاری اور پھر اس کے چند دن بعد بہار میں تین لوگوں کی موب لنچنگ کی خبر آ گئی جس میں ایک مسلم نوجوان بھی شامل تھا۔

جناب یہ تو شروعات ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا کیا ہے۔ آئے روز موب لنچنگ جیسے واقعات کی خبریں آتی رہیں گی۔ راقم الحروف نے ملک کی بدتر معاشی حالت سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ صورت حال یہ ہے کہ معاشی حالت سدھرنے کے بجائے اور بگڑتی ہی جائے گی۔ کیونکہ سوائے منافرت کی سیاست میں مہارت کے مودی اور ان کے گروہ کے پاس کسی قسم کی بصیرت نہیں ہے۔ حکومت ملک کے معاشی بحران سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے سے قاصر ہے۔ پرانے دور کے زمینداروں کی طرح حکومت نے یہ راستہ اختیار کیا ہے کہ ملک کا اثاثہ سرمایہ داروں کے ہاتھوں بیچ کر روز مرہ کی مشکلات حل کی جائے۔ چنانچہ ائیر پورٹ، ائیر انڈیا ائیر لائن، ریل انجن بنانے کے کارخانے، گیس اور تیل کی کانیں، اسپات بنانے کا کارخانہ اور طرح طرح کی سرکاری کمپنیوں کو بیچنے کا اعلان ہو چکا ہے۔ لیکن اثاثہ بیچ کر روز مرہ کا کام تو کسی طرح چل سکتا ہے، مگر ملک کا معاشی بحران تو حل ہو نہیں سکتا۔ یعنی معاشی حالت بگڑتی ہی جائے گی۔ ایسے میں مودی جی اور بی جے پی کے پاس حکومت چلانے کا صرف ایک ہی گر بچے گا اور وہ گر ہے ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘۔

یعنی ملک کی معاشی حالت جیسے جیسے اور نازک ہوگی، ویسے ویسے ملک میں فرقہ وارانہ بحران بھی بڑھتا جائے گا۔ منافرت کی سیاست کا ننگا ناچ ہوگا۔ اس کے لیے موب لنچنگ کرنے والے جتھے تیار کر دیے گئے ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں کے گروہ کو باقاعدہ موٹر سائیکل دی جاتی ہے۔ سنتے ہیں گروپ لیڈر کو چھ ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ اور پھر یہ لوگ گھوم گھوم کر موب لنچنگ کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کا شکار کرتے ہیں۔ سماج میں منافرت کا زہر اور گھلتا ہے۔ اس طرح ہندو-مسلم کھائی اور بڑھتی ہے اور حکمراں چین کی بنسی بجاتے ہیں۔ لیکن اس ’بانٹو اور راج کرو‘ سیاست سے انگریزوں کی حکومت بھی آخر ختم ہوئی اور جلد ہی مودی حکومت پر بھی سیاہ بادل چھا جائیں گے۔ انگریزوں کے وقت تو جمہوریت نہیں تھی، اس لیے وہ ڈیڑھ سو برس حکومت کر گئے۔ مگر اب جمہوریت ہے اور عوام کو سڑکوں کی سیاست معلوم ہے۔ اس لیے ہندوستان جیسے سو کروڑ سے زیادہ عوام کے اس ملک کا معاشی بحران حکمرانوں کے لیے بھی جلد ہی بحران پیدا کر دے گا۔ گھبرائیے مت اور دیکھیے آگے آگے ہوتا ہے کیا! جب فرعون و نمرود نہ رہے تھے تو آج کے حکمراں کیا رہیں گے۔

Published: 21 Jul 2019, 10:10 AM