کیا آج کے دور میں ہمیں کھلی جگہ پر نمازِ جمعہ ادا کرنی چاہیے؟

گروگرام میں کھلی جگہ پر نماز پڑھنے کا معاملہ طول پکڑنے کے بعد دانشور طبقہ میں اس بات کو لے کر بحث شروع ہو گئی ہے کہ میدانوں، پارکوں اور سڑکوں پر نمازِ جمعہ پڑھنا درست ہے یا نہیں۔

گروگرام (گڑگاؤں) سیکٹر 53 کے وزیر آباد میں 20 اپریل کو شرپسندوں نے نمازِ جمعہ میں جو رخنہ پیدا کیا تھا، اس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور پارکوں، میدانوں و سڑکوں پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں کھٹّر حکومت نے یہ بیان دے کر اس مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنا دیا کہ مسلمان اپنی مسجدوں اور عیدگاہوں میں نمازیں پڑھیں، کھلی جگہوں پر نہیں۔ اتنا ہی نہیں، انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ نمازیوں کو گروگرام میں سڑک کنارے، پارکوں اور خالی سرکاری زمینوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد گروگرام جیسے علاقوں میں جہاں مسلم آبادی انتہائی کم ہے لیکن پرائیویٹ و سرکاری دفتروں میں دوسری ریاستوں کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں کام کرنے آتے ہیں، ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ چونکہ گروگرام میں مسجدوں کی تعداد انتہائی کم ہے اس لیے نمازِ جمعہ کے لیے کھلے میدانوں اور پارکوں میں انتظام کیا جاتا ہے اور ایسا صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ یورپ کے کئی ممالک میں بھی ہوتا ہے۔

گروگرام کا معاملہ طول پکڑنے کے بعد ایک طرف جہاں ہریانہ وقف بورڈ نے گروگرام کے ڈپٹی کمشنر کو ایک خط لکھ کر قبضہ کی گئی وقف کی مسجدوں اور زمینوں کو آزاد کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مسلمانوں کو نمازِ جمعہ کے لیے جگہ مہیا کی جا سکے، وہیں دوسری طرف ملک کا دانشور طبقہ اس طرح کے مسائل کے تعلق سے کافی سنجیدہ نظر آ رہا ہے۔ فتح پوری مسجد کے شاہی امام مفتی محمد مکرم حالانکہ اس کو بلاوجہ طویل دیا گیا مسئلہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ہم جمہوری ملک میں رہتے ہیں جہاں بھنڈارا بھی ہوتا ہے، جاگرن بھی ہوتا ہے، بھجن کیرتن بھی ہوتےہیں اور نمازیں بھی ہوتی ہیں۔ جب کسی مسلم، عیسائی یا سکھ کو جاگرن اور بھجن کیرتن پر اعتراض نہیں ہے تو پھر غیر مسلم حضرات کو نمازِ جمعہ پر بھی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ اس معاملے میں وضاحت پیش کرتے ہوئے وہ ’قومی آواز‘ کو ایک واقعہ بتاتے ہیں کہ ’’بیس-پچیس سال قبل میں ممبئی گیا تھا جہاں مدن پورا کی بڑی مسجد میں مجھے خطبہ دینے کے لیے کہا گیا اور نمازِ جمعہ مرحوم مولانا منصور علی قادری نے پڑھائی تھی۔ انھوں نے انا اعطینا اور قل ھواللہ کے ساتھ بہت کم وقت میں نماز ختم کر دی۔ میں حیران ہوا کہ مولانا منصور علی اتنے بڑے عالم اور نمازیوں کی تعداد بھی اتنی بڑی، پھر نماز ختم کرنے میں اتنی جلدی کیوں کی گئی۔ جب میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے بتایا کہ انتظامیہ سے ہمارا ایگریمنٹ ہوا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے 5 منٹ کا وقت لیں گے اور اتنی دیر روڈ بند رہتا ہے۔ نماز ختم ہونے کے بعد سڑک فوراً کھل جاتی ہے۔‘‘

مفتی محمد مکرم کا کہنا ہے کہ میدانوں اور پارکوں میں نماز کی ادائیگی سے تو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں اور جہاں تک سڑکوں کا معاملہ ہے، انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کر کے حل نکالا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’انڈیا گیٹ کے پارک میں نمازِ جمعہ سے کس کو تکلیف ہو سکتی ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں پارکوں اور میدانوں میں نماز ہوتی رہی ہے، کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ دراصل یہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، بس پانچ منٹ کی بات ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایسے مقامات پر جہاں دقتیں پیش آ سکتی ہیں وہاں ہم نمازوں کو 25-20 منٹ تک نہ کھینچیں اور 5 منٹ والی نماز پڑھیں۔‘‘

زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر سید ظفر محمود کی سوچ اس معاملے میں کچھ مختلف معلوم ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’کسی بھی پبلک پلیس پر نماز نہیں پڑھنی چاہیے خاص طور سے جب سڑکوں پر چلنے والوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔ اس سے نماز کی روح پر بھی اثر پڑتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’نماز کے لیے انتظام کرنا ملت کا کام ہے اور ملت کے پاس کوئی کمی نہیں ہے۔ نمازِ جمعہ کے لیے ملّی تنظیمیں اپنی عمارتوں اور کھلی جگہوں کا استعمال کر سکتی ہیں یا انفرادی طور پر بھی کوئی اپنی جگہ نمازِ جمعہ کے لیے دے سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے کسی غیر مسلم کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔‘‘

سید ظفر محمود ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران اس بات کا اعتراف ضرور کرتے ہیں کہ آزادی کے 70 سال بعد اس طرح کا معاملہ اٹھائے جانے کے پیچھے سیاست کارفرما ہےلیکن وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں اس معاملے میں سنجیدگی سے کام لیتے ہوئے مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا۔ ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا کیونکہ مذہب کے نام پر سیاست کی جانے لگی ہے۔‘‘ انھوں نے دہلی واقع اپولو اسپتال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپولو اسپتال کافی بڑا ہے اور وہاں جگہ بھی خوب ہے۔ مریض بڑی تعداد میں یہاں علاج کے لیے آتے ہیں اور یہاں ایک گوشے میں نمازِ جمعہ کا اہتمام ہوتا ہے۔ باضابطہ خطبہ ہوتا ہے اور کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے۔ یہ سب اسپتال انتظامیہ کی رضامندی سے ہوتا ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ جس جگہ بھی نمازیں ہوں، اسی طرح رضامندی اور خوشگوار ماحول میں ہو۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’امریکہ، انگلینڈ اور یورپ کے دیگر ممالک میں بھی مسلمان کھلے میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور غیر مسلم حضرات بہت خلوص کے ساتھ اپنی جگہ اس کے لیے دیتے ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کی اس عبادت سے وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور ہر طرح کا تعاون بھی کرتے ہیں۔ اگر ہندوستان میں کچھ لوگوں کو اس سے اعتراض ہے تو ہمیں بھی ان کی پریشانیوں کو سمجھنا چاہیے۔‘‘

سید ظفر محمود نے اس معاملے میں ریاستی حکومتوں کے ساتھ تبادلہ خیال کو ضروری بتایا ساتھ ہی وقف کی ایسی پراپرٹیوں کو وقف بورڈ کے حوالے کیے جانے کی بات رکھی جو اے ایس آئی (آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا) کی زیر نگرانی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کئی پرانی عمارتیں اور مسجدیں اے ایس آئی کے حوالے ہیں اور وہ اس کی دیکھ ریکھ بھی نہیں کر رہی ہے۔ ان کو وقف بورڈ کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ وہاں نمازیں ادا کی جا سکیں اور اس کی حفاظت بھی ہو سکے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سچر کمیٹی رپورٹ میں بھی اس بات کا تذکرہ ہے کہ اے ایس آئی کے حوالے اگر کسی عمارت کو کر دیا گیا ہے تو یہ کوئی پتھر کی لکیر نہیں ہے کہ دوبارہ اسے کسی دوسرے کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ وقف کی کئی جائیدادیں ایسی ہیں جنھیں اے ایس آئی سے لے کر ان کے حوالے کیا جانا چاہیے۔‘‘

بہر حال، کھلی جگہوں پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی کا معاملہ گروگرام سے نکل کر پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔ یہ مذاکرے اور مباحثے کا موضوع بن رہا ہے۔ لیکن سچ تو یہی ہے کہ یہ صرف ملک کی جمہوری فضا کو خراب کرنے کی کوشش ہے جسے ناکام بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے اشتعال نہیں بلکہ صبر کے ساتھ سنجیدہ کوششیں ہونی چاہئیں۔ بی جے پی حکمراں ہریانہ کے وزیر انل وِز جیسے لوگ بھلے ہی گمراہی پر مبنی یہ بیان دے رہے ہوں کہ ’’قبضہ کرنے کی نیت سے خالی جگہ پر نماز پڑھنا درست نہیں‘‘، لیکن سچ تو یہی ہے کہ آج تک اس طرح کا کوئی معاملہ سامنے آیا ہی نہیں۔ کسی مقام پر دہائیوں سے اچھے ماحول میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں رخنہ پیدا کرنا صرف ایک خاص نظریہ کو فروغ دینے اور ملک کے سیکولر اقدار کو پامال کرنے کی کوشش ہے۔

سب سے زیادہ مقبول