ہندوتوا کی جہالتیں اور تاج محل

Getty Images
Getty Images
user

سہیل ہاشمی

ہمارا ملک ایک عجوبۂ روزگار خطہ زمین ہے۔ آپ کوئی بھی بے سر و پیر کی بات اڑا دیجیے اور آپ کو اس اول جلول خرافات کو صحیح ماننے والے مل جائیں گے۔ ایسے حضرات اس ملک میں اتنی کثیر تعداد میں کیوں سکونت پذیر ہیں؟ فطرت کی کیا مصلحت تھی کہ اس برصغیر کی زمین کو حماقت کی فصل کے لیے اتنا زرخیز بنایا۔ یہ سوال بھی ذہن کو کچوکے لگاتا ہے کہ فطرت کی اس بے راہ روی کو مصلحت کہنا درست بھی ہے یا نہیں۔

آپ جو بھی چاہے شاہ بڑے کی چھوڑ دیجیے اس پر یقین کرنے والے سینکڑوں، ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں مل جائیں گے۔ اب تاج محل کے بارے میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور ان کے چپ و راس میں رہنے والے وزراء، خصوصاً ان کے نائب کے بیانات پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

15 جون 2017 کو دربھنگہ میں ایک تقریر کے دوران آدتیہ ناتھ نے فرمایا کہ غیر ملکی مہمانوں کو میناروں اور تاج محل کے جو ماڈل تحفتاً دیے جاتے ہیں وہ ہندوستانی تہذیب کی نمائندگی نہیں کرتے(https://www.outlookindia.com/website/story/taj-mahal-other-minarets-do-not-reflect-indian-culture-says-up-cm-yogi-adityanat/299365)۔ کوئی اس عقل کل سے دریافت کرے کہ اگر یہ ہندوستان کی تہذیب اور ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتے تو کیا قطب مینار اور تاج محل قطب جنوب اور انٹارکٹکا کی تہذیب کے عکاس ہیں؟

سنہ 2017-18 کے صوبائی بجٹ میں، جو کل 63 صفحات کا دستاویز ہے، ایک بار بھی تاج محل کا ذکر نہیں ہے۔ اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ بھائی صوبائی بجٹ میں تاج کا ذکر کیوں ضروری ہے، بروک بانڈ کی بیلنس شیٹ میں تو تاج محل کا ذکر ہو سکتا ہے کہ ان کی بہت بکنے والی چائے ہے، مگر اتر پردیش کے بجٹ میں تاج محل کیوں ہو؟

جواباً عرض ہے کہ صبح اٹھ کر اور رات کو سونے سے پہلے سب سے پہلے تو اسے یاد کیا جاتا ہے جس نے زندگی بخشی اور پھر اسے جس کے ذریعہ روٹی اور روزگار نصیب ہوتا ہے۔ اتر پردیش کو سیاحوں اور سیاحت سے جو کل آمدنی ہو رہی ہے اس کا 23 فیصد اکیلے تاج محل کی دین ہے۔ ارے ناشکرو! جس تھالی سے کھاتے ہو اس میں تو سوراخ کرنے سے گریز کرو۔

پچھلے مہینے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ نے ایک صریحاً متنازع بیان داغ دیا، آپ نے فرمایا کہ مغل لٹیرے تھے اور ہمارے پُرکھے نہیں تھے۔ میں اس بیان کو 50 فیصد درست مانتا ہوں اور 50 فیصد غلط۔ پہلے 50 فیصد درست حصے کے بارے میں بات کر لیں۔ اس بیان کا درست حصہ وہ ہے جہاں معزز وزیر مغلوں سے اپنا کوئی رشتہ ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ سو فیصدی صحیح بات کہی ہے، کوئی بھی شخص جو بغیر کوئی ثبوت پیش کیے ہوئے اتنی بے بنیاد گفتگو، اتنی غیر مہذب زبان اور لہجے میں کر سکتا ہے اس کا تعلق ہرگز ہرگز بھی ان لوگوں سے نہیں ہو سکتا جنھوں نے اس برصغیر کو تاج محل جیسی حسین عمارت دی، دلّی، لاہور اور فتح پور سیکری جیسے شہر بنائے، آگرہ، لاہور، الٰہ آباد اور لال قلعہ جیسے قلعے تعمیر کیے اور نشاط، شالیمار، پری محل، اچھبل، ویریناگ اور چشمہ شاہی جیسے باغوں کی تعمیر کی۔ اس ملک کی تہذیب، تمدن، موسیقی، زراعت، نظم و نسق اور تجارت کو اتنا فروغ دیا کہ ساری دنیا کو اس سے حسد ہوتا تھا، یہ جو آج اس ملک کی گردن پر سوار ہیں ان کا تعلق مغلوں سے تو نہیں ہو سکتا، نائب وزیر اعلیٰ نے یہ بات بالکل صحیح کہی ہے۔

اتنی نفیس عمارت بنانے والے، کھلے آسمانوں کے نیچے چشمے، فوارے اور آبشار بنانے والے، سیڑھی دار سبزہ زار، پھولوں کی حسین روشوں اور پہاڑوں سے باتیں کرتے ہوئے درختوں کو یکجا کر کے جنت کو زمین پر اتارنے والے مہذب انسانوں کا ان حضرات اور ان کی جماعت میں شامل کسی بھی شخص سے کوئی رشتہ کیسے ہو سکتا ہے۔ تو ہمیں شکرگزار ہونا چاہیے جناب نائب وزیر اعلیٰ کا کہ غلطی سے ہی سہی انھوں نے سچ تو کہہ ہی دیا۔

رہی بات ان کے جملے کے دوسرے حصے کی، تو بے چارے کا مسئلہ یہ ہے کہ غالباً موصوف کو جس وِدیا مندر میں تعلیم ملی ہے، وہاں عقل کا استعمال کرنے اور سوال پوچھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ان کے استادوں نے انھیں سوال پوچھنے کی اجازت کبھی دی نہیں اور خود بے چاروں کی اوقات ہی کیا تھی، سو گرو جی نے کہا مغل ہندوستان کو لوٹتے تھے تو آپ نے بھی ناریل جیسا سر ہلا کر ہاں میں ہاں ملا دی۔

تاریخ کے بارے میں بے چاروں کا سارا علم یا تو چندا ماما اور امر چتر کتھا جیسے ’تاریخ ساز‘ جریدوں سے ماخوذ ہے یا پی این اوک، دینا ناتھ بترا اور ساورکر جیسے ’دانشوروں‘ کی عرق ریزی کا مرہون منت ہے۔ ان دو ذرائع سے حاصل کیے ہوئے علم بے بہا کا مرکب ان کے نابالغ ذہنوں میں انڈیل دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن، اس پورے قبیلے نے اپنے ذہنوں کو سوچنے کے تکلیف دہ کام سے آزاد رکھا ہے۔ مادے کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ شکل انسانی دماغ ہے اور اس پر زور ڈالا جائے تو وہ سوچنے لگتا ہے، ان حضرات کے دماغ آج بھی خیالات کی آلودگی سے پاک ہیں اور یہ حضرات جس صورت میں اسے لے کر اس جہانِ رنگ و بو میں وارد ہوئے تھے ویسا ہی تر و تازہ، بالکل نیا، اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔

اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ تاج محل کے چاروں طرف ٹڈی دلوں کی طرح منڈلانے والے گائیڈ جو کہانیاں سناتے ہیں وہ ہمارے قابل وزراء کے لیے تاریخی حقائق کی حیثیت رکھتے ہیں، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ شاہجہاں ’وحشی‘ تھا، کیونکہ ’’اس نے ان سارے کاریگروں کے ہاتھ کٹوا دیے تھے جنھوں نے تاج محل کی تعمیر کی تھی۔‘‘ چنڈو خانے سے اڑائے گئے اس کن کوے کو پُگائی دینے سے پہلے یہ تو سوچ لیا ہوتا بھکتوں، کہ وہ شخص جو 21 برس تک 20 ہزار مزدوروں، سنگ تراشوں، فنکاروں کی مدد سے ایک عمارت بنائے گا وہ آنے والے وقتوں میں اس کی مرمت کے لیے بھی کچھ انتظام کرے گا کہ نہیں؟ یا اسے بھی اپنی طرح کا چغد سمجھتے ہو، کہ سرکار کیا ہاتھ میں آئی منصوبے بنانا ہی بند کر دیا، ہر دن وزیر اعظم ایک نیا پنشاخا لگائیں گے اور ہر شاخ پر بوم کی اولادیں بیٹھیں گی اور گلستان کی بربادی کا سامان یکجا کریں گی۔

اگر شاہجہاں نے سارے کاریگروں کے ہاتھ کٹوا دیے ہوتے تو ضرورت پڑنے پر مرمت کیسے ہوتی۔ تاج محل کے جنوبی دروازے کے باہر تاج گنج کا وہ محلہ آج بھی آباد ہے جس میں ان فنکاروں اور سنگ تراشوں کی اولادیں بستی ہیں جنھوں نے تاج محل کی تعمیر کی تھی اور وہاں آج بھی سنگ مرمر میں قیمتی پتھروں کی جڑائی کا کام ہوتا ہے۔ اتنا حسین کہ ان میں سے کئی فنکاروں کو صدر ہندوستان کی طرف سے گولڈ میڈل دیے گئے ہیں اور ان کے بنائے ہوئے فن پارے ملک کے لیے ہر سال کروڑوں ڈالر کی زر مبادلہ کما کر لاتے ہیں۔

تاج محل آج سے 364 برس پہلے مکمل ہوا تھا، ہر 20 برس میں ایک پشت کا حساب لگایا جائے تو تاج کی تکمیل سے آج تک 18 پشتوں تک یہ فن سینہ بہ سینہ منتقل ہوا ہے اور آج بھی اسی آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔

مغل لٹیرے ہوتے تو تاج کو آگرے میں بناتے؟ غزنا یا کابل میں نہ بناتے؟ لٹیرے تھے تو یہاں سے کیا لوٹ کے لے گئے اور کہاں؟ ہمایوں سے لے کر اکبر شاہ ثانی تک سب تو یہیں دفن ہیں، سب یہیں پیدا ہوئے، بڑے ہوئے، جیے اور مرے۔ جب آخری مغل کو انگریزوں نے جلاوطن کر دیا تھا تو اپنی آخری سانس تک مہرولی کی اس دو گز زمین کے لیے ترستا رہا جو اپنے لیے چھوڑ آیا تھا۔ اور یہ کہتے ہیں کہ مغل لٹیرے تھے۔

ویسے شاہجہاں کو لٹیرا کہنے کے اس حالیہ سلسلے کی شروعات نائب وزیر اعلیٰ نے کی اور پھر طوطے کی طرح اسے دہرانے کا کام وزیر اعلیٰ نے کیا۔ ایک بھگت نے جو سبق رٹ لیا وہ سب کو جلدی یاد ہو جاتا ہے۔http://www.wionews.com/india-news/mughals-plunderers-history-will-be-re-written-says-uttar-pradesh-deputy-chief-minister-20182 13.9.17

ایک آخری بات کا ذکر اور کر دیا جائے تو برا نہیں ہوگا۔ ان کے سارے تاریخ دانوں میں سے کسی نے تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ تاریخ کا تمام تر علم یہ حضرات لے کر پیدا ہوئے تھے اور اس لیے انھیں کچھ پڑھنے سمجھنے کی ضرورت نہ پہلے تھی نہ آج ہے۔ دینا ناتھ بترا جو تاریخ کی ساری کتابوں کو بزعم خود از سر نو تحریر کرنے پر کمر باندھ چکے ہیں ان کے بارے میں تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ انھوں نے کہاں تک تعلیم پائی ہے اور کن مضامین میں۔ اس قبیلے کے سب سے معروف تاریخ داں پی این اوک نے کبھی تاریخ نہیں پڑھی تھی۔ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ شاہجہاں نے تاج محل کی زمین مہاراجہ جے پور سے چھینی تھی اور وہاں بنے شیو مندر کو توڑ کر تاج محل بنایا تھا۔

اب ان معصوموں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ آگرہ جے پور والوں کی ملکیت کب ہوا۔ بابر نے اسے لودیوں سے جیتا، ان کے قلعے پر قبضہ کیا، اسی قلعے سے اکبر نے راج کیا، جہانگیر نے کیا، شاہجہاں نے دارالخلافہ دِلّی سے جانے سے پہلے وہاں سے راج کیا، اکبر کے وقت سے جے پور والے مغلوں کے دربار میں حاضری دیتے رہے، ان کے منصب دار تھے، ان کی اتنی بساط کب ہو گئی کہ مغلوں کی راجدھانی میں زمین پر قبضہ کر لیں، اور اگر انھوں نے ایسا کر لیا تھا اور مغلوں نے زبردستی کی تھی تو اب واپس مانگ لیں، جے پور والوں نے تو انگریزوں کی سرپرستی خوشی خوشی قبول کر لی تھی، ان کے بڑے وفادار تھے، ان کے وقت میں کیوں اپنی زمین حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ نہیں کی، اور ابھی بھی کیا گیا ہے، اب تو راجستھان میں انگریزوں کے وفادار سندھیاؤں کی حکومت ہے، آپ کی اپنی پارٹی کے لوگوں کی حکومت ہے۔ اب دعویٰ ٹھوک دیں۔ سی ایم نہیں ٹھوکتی دعویٰ تو آپ ٹھوک دیجیے!

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔