امن کی بات کرنا ’غداری‘، تو فوجیوں کی شہادت کا سیاسی فائدہ اٹھانا ’شرمناک‘ نہیں!

پلوامہ حملے کو لے کر سنگھ پریوار نے بڑی ہوشیاری سے ملک میں ایسا ماحول بنایا کہ حکومت سے جمہوری اور آئینی حق کے تحت سوال پوچھنے والے کو ملک دشمن اور غدار وطن قرار دے دیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

عبیداللہ ناصر

پلوامہ المیہ کے بعد ہندوستان میں یہاں کی حکمران جماعت اور الیکٹرانک میڈیا نے جو جنگی جنون پیدا کیا تھا اس نے ایک بالغ جمہوریت ہونے کے ہمارے دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے یہ بات تو روز اول سے عیاں تھی کی سنگھ پریوار اور اس کی سیاسی بازو بی جے پی پلوامہ کے شہیدوں کی چتاؤں کی آگ میں اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہے ہیں، پورا ملک پاکستان کی شہ اور تعاون سے ہونے والے اس بزدلانہ اور بہیمانہ حملہ کے خلاف ہم آواز تھا، سبھی سیاسی پارٹیوں نے مشکل کی اس گھڑی میں نہ صرف اپنے سیاسی اختلاف بھلا دیئے بلکہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا بھی اعلان کیا۔ لکھنؤ میں پرینکا گاندھی نے اپنی مجوزہ پریس کانفرنس ملتوی کر دی، دہلی میں راہل گاندھی نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ملتوی کر دی گئی لیکن وہیں بی جے پی کا رویہ اس طرح کا تھا کہ اس نے پورے ملک میں جنونی کیفیت پیدا کرنے کے ساتھ پاکستان کی آڑ میں حزب اختلاف اور مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا تھا، بلکہ خود وزیر اعظم  سیاسی سرگرمیوں، ریلیوں اور حزب اختلاف خاص کر کانگریس کو کوسنے میں مصروف تھے۔

سوشل میڈیا پر سنگھی گالی باز (ٹرالس) مودی مخالفین کو چنندہ گالیوں سے نواز رہے تھے تو الیکٹرانک میڈیا پر یہی عناصر کبھی دفاعی ماہرین کی پٹی لگا کے کبھی کسی اور شکل میں آکر دانت پیس پیس کر با آواز بلند جنگ کی ایسی باتیں کر رہے تھے جیسے جنگ نہ ہو کوئی بچوں کا کھیل ہو، جب تک چاہیں گے کھیلیں گے نہیں تو گھر لوٹ جائیں گے، ہندوستانی الیکٹرانک میڈیا کا جو رول گزشتہ پانچ برسوں سے سامنے آیا ہے اس میں اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ملک کو جنگ اور خانہ جنگی سے بچانے کے لئے پریس کی آزادی کو یقینی بناتے ہوئے ان پر کچھ قدغن ضرور لگایا جائے کیونکہ ان کی یہ بے لگام آزادی ملک کے اتحاد اور سلامتی کے لئے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

پلوامہ المیہ کے بعد ہندوستانی فضائیہ نے پہلی بار اپنی سرحدوں سے باہر جا کر جیش محمد نامی رسواۓ زمانہ دہشت گرد تنظیم کے ٹھکانوں پر بمباری کی اور بغیر کسی مزاحمت کے واپس آ گئے، بےشک یہ بھی  ہماری فضائیہ کی شاندار تاریخ میں ایک باب کا اضافہ تھا لیکن پھر ہماری میڈیا نے اپنی غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ ورانہ حرکتوں کا مظاہرہ شروع کر دیا، مودی سے  ڈر گیا پاکستان، کانپنے لگا پاکستان، حد تو یہ ہوگئی کہ دہشت گردوں کی اموات کے سلسلہ میں حکومت ہند کا کوئی دعوی نہ ہونے کے باوجود الیکٹرانک میڈیا کے نیم تعلیم یافتہ اینکروں نے ان کی تعداد 300 سے لے کر 400 تک بتا دی، جیسے سارے دہشت گرد وہاں کسی دعوت ولیمہ میں اکٹھا ہوئے ہوں-

ایسے غیر زمہ دارانہ اور اکسانے والے الفاظ نے پاکستان کو بھی جوابی کارروائی پر اکسا دیا، اس نے اپنے ایف 16 جہازوں سے ہندوستان کی فضائی سرحد کی خلاف ورزی کی جسے ہمارے جنگی جہازوں نے ناکام کر دیا، مگر اس کارروائی میں ہمارے دو جہاز کام آ گئے اور ایک ہوا باز ابھینندن پاکستان کی قید میں چلا گیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعظم اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کے ابھینندن کی واپسی کی کوشش کرتے لیکن وہ سرحدوں کو محفوظ اور مضبوط  کرنے کے بجائے بی جے پی کے بوتھ مضبوط کرنے کے لئے ملک بھر کے بی جے پی کارکنون سے بات چیت کرنے میں مصروف رہے جبکہ ملک بھر میں ابھینندن کی بخیر واپسی کے لئے دعا مانگی جا رہی تھی اور پورا ملک اس کے لئے فکر مند تھا۔

حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں سنگھ پریوار نے بڑی ہوشیاری سے ملک میں ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ حکومت سے سوال پوچھنے اور اس کی مخالفت کرنے کے جمہوری اور آئینی حق کو ملک دشمنی اور غداری قرار دے دیا گیا۔ گزشتہ 5 برسوں میں اس ملک میں دیش دروہ (وطن سے غداری) کی دفعہ کے تحت جتنے مقدمہ درج ہوئے ہیں اتنے شاید آزادی کے بعد سے لے کر2014 تک مجموعی طور سے بھی نہیں ہوئے ہون گے، یہ بات الگ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مقدمے خارج ہو گئے یا ابھی زیر سماعت ہیں۔

یہی حال پلوامہ واقعہ کے بعد بھی ہوا، اس ا لمیہ میں کیا کیا غلطیاں ہوئیں اسے کیوں نہیں روکا جا سکا، انٹلی جنس رپورٹ کے باوجود تدارکی اقدام کیوں نہیں کیے گئے، جوانوں کو جہازوں سے کیوں نہیں بھیجا گیا، ان سب پر سوال پوچھنے کا مطلب پاکستان نواز ہونا قرار دے دیا گیا، خود وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مودی سے نفرت کو ملک سے نفرت بنا دیا گیا ہے انہوں نے تو سابق نائب صدر سابق وزیر اعظم فوج کے  سابق سربراہ پر بھی پاکستان سے مل کر سازش کرنے کا الزام لگا دیا تھا۔

بی جے پی کے صدر امت شاہ ہر انتخابی ریلی میں عوام سے کہتے ہیں کہ بی جے پی ہاری تو پاکستان میں جشن منایا جائے گا اور الیکٹرانک میڈیا و اس کے اینکر اللہ کی پناہ اپنے منہ سے ایسے ایسے بم داغتے ہیں کہ ان کے سامعین ہی نہیں دور دراز بیٹھے پاکستانی جنرل، کرنل بھی خوف سے تھر تھر کانپنے لگتے ہیں، ان لوگوں کی ان بدتمیزیوں نے ایک بالغ جمہوریت ہونے کے ہمارے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

پلوامہ واقعات کے بعد ضرورت ملک میں ایک سیاسی اتفاق راۓ پیدا کرنے کی تھی لیکن یہ اتفاق راۓ یکطرفہ تو نہیں ہو سکتا اس کی پہلی ذمہ داری حکمران جماعت کی ہوتی لیکن جب اس کی سیاسی ریاضی میں جنون، نفرت، غصّہ زیادہ فائدہ مند ہو تو وہ عقل و خرد، تدبّر اور تحمل کو کیوں در خوراعتنا سمجھے۔ان حالت سے بے جے پی کتنا سیاسی فائدہ اٹھانے کی امید کر رہی ہے اس کا اندازہ کرناٹک کے سابق وزیر اعلی یدی یورپا کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے کی اب ہم ریاست کی اٹھائیس میں سے 22 سیٹیں جیت لیں گے، پورا ملک جب جانباز اسکارڈن لیڈر ابھینندن کی سلامتی کے لیے فکرمند تھا تو مودی جی بوتھ مضبوط کرنے کی فکر میں لگے ہوئے تھے۔

کسی بھی وجہ سے ہو ہمارے بہادر پائلٹ کو تیسرے ہی دن رہا کر کے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک مدبرانہ قدم اٹھایا ہے اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں اس کا استقبال کیا جانا چاہیے اور موقعہ کا فایدہ اٹھاتے ہوئے امن کے عمل کو شروع کیا جانا چاہیے، ہم اپنے پڑوسی کے ساتھ مستقل حالت جنگ میں نہیں رہ سکتے، ہمارے سماجی، معاشی اور جغرافیائی اور پولیٹکل حالات اسکے متحمل نہیں ہو سکتے، امن، استحکام، اور ترقی سبھی ملکوں کی اہم ضرورت ہے، ترقی پزیر ملکوں کو اور بھی بڑی ضرورت ہے۔