دل کو بہلا نے کے لئے بھاگوت کا خیال اچھا ہے!

خیالی باتیں کرنے والے مٹھی بھر عناصر تھوڑی سی عوامی حمایت حاصل ہونے پر خود کو عقل کل سمجھنے لگتے ہیں اس لئے ہندوستان کو ’ہندو راشٹرا‘ بنانے کا اعلان کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

حکمراں بی جے پی کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت ایک بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہیں جس کا اظہار انہوں نے ’وجے دشمی‘ کے موقع پر اپنی ایک تقریر میں کیا ہے۔ بھاگوت کا ماننا ہے کہ سنگھ کا نظریہ اس ملک کے بارے میں صاف ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان ہندو راشٹر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آرایس ایس کی ذہنیت نے پورے ملک میں اعتماد پیدا کیا ہے جو آرایس ایس سے جڑا نہیں ہے، ان کے درمیان دشمنیاں پائی جاتی ہیں، آر ایس ایس ہندو معاشرے کو منظم کر رہا ہے۔ بھاگوت یہیں نہیں رکے انہوں نے آگے کہا کہ پورا ہندوستان ہندو راشٹر ہے اور جو بھارت کے ہیں، جو بھارتی باپ دادا کی اولاد ہیں وہ سب کے سب بھارتی ہندو ہیں۔

آر یس ایس سربراہ کا ہندو راشٹر کا خیال ہندوؤں کی بالا دستی پر مبنی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس شخص کو زبردستی ہندو بنا دیا جائے گا جو ہندو نہیں ہیں۔ ہندوستان کے آئین کے مطابق اقلیتوں کو بھی ہندوستان میں رہنے کا حق ہے۔ بھاگوت کا خیال ’دل کوبہلانے کے لئے ...اچھا ہے۔ بھگوا بریگیڈ کو اکثر یہ خیال اس لئے آتا ہے کہ انہیں اپنے ہدف تک پہنچنا مشکل ہے۔ دسہرہ کے موقع پر آر ایس ایس سربراہ کی تقریر آر ایس ایس کی دیرینہ آرزو کا محض اظہار تھی۔ حقائق سے دور خیالی باتیں کرنے والے یہ مٹھی بھر عناصر تھوڑی سی عوامی حمایت حاصل ہونے پر خود کو عقل کل سمجھنے لگتے ہیں۔ اس لئے ’ہندوستان کو ہندوراشٹرا‘ بنانے کا اعلان کر رہے ہیں۔

ہندوستانی قوم کی شناخت ہندوراشٹرا میں ہے تو پھر یہ قوم ساری دنیا کے سامنے نفرت پیدا کرنے والی قوم بن کر ابھرے گی۔ کیونکہ ہندوستان صرف ایک مخصوص ذہنیت (آر ایس ایس) رکھنے والوں کی جاگیر نہیں ہے۔ یہاں فیصلہ کرنے کا اختیار صرف عوام کو ہے اور ہندوستانی عوام کی اکثریت ایک سیکولر ذہن رکھتی ہے۔آر ایس ایس کے پاس صرف ایک ہی ہنر ہے اور یہ نفرت پیدا کرنے والا ہنر ہے۔ اس کے نتائج سے بے خبر آر ایس ایس کو تھوڑی سی سیاسی طاقت ملتے ہی وہ بے قابو ہو رہی ہے۔ اس ملک میں معاشی تباہی نے دستک دے دی ہے۔ انسانوں کے درمیان نفرت پیدا کردی گئی ہے۔

ہندوستانیوں میں نفرت پیدا کرو، حکومت بناو، ہندوراشٹرا کا نعرہ لگاوؤ اور ملک کو تقسیم کردو، یہ دونوں مشن آر ایس ایس کے نہایت ہی خطرناک اور تباہ کن ہیں۔ سنگھ پریوار اپنے برسوں پرانے منصوبوں کو برسر عام پیش کرنے کی جرأت اس لئے کر رہا ہے کہ ملک کے عام شہریوں کو گمراہ کیا جا چکا ہے۔ دیکھنا یہ کہ آرایس ایس اپنے اس نظریہ کو ملک کے عوام کی کتنی تعداد پر مسلط کرنے میں کامیاب ہوسکے گا؟۔ یہ لوگ اس نظریہ کے ذریعہ ملک کو پسماندگی کی طرف لے جائیں گے کیونکہ جب جب ان لوگوں نے ایسی مہم چلائی ہے، ملک کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن یہ حالات ہندوستانی مسلمانوں کے لئے توجہ طلب ہیں۔

اگر مسلمان بیدار ہیں تو وہ مستقبل کی تیاری کرسکیں گے کیونکہ وہ خود کو آر ایس ایس کے جاہلانہ اور گرے پڑے ماحول میں جینے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ مسلمانوں نے آر ایس ایس کے منصوبوں کا توڑ بنانے کا عمل شروع کیا ہے تو انہیں مستقبل میں کوئی جوکھم نہیں، لیکن غفلت کا شکار ہوں گے تو پھر کون کون کچلے جائیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال ملک کو تباہی کی طرف لے جانے والے یہ لوگ اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں تو ملک کے قانون اور انصاف کو آگے آنے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس وقت ملک کا قانون اور سماج اپنی ذمہ داریوں کو ایک نظریہ کی حامل تنظیم کی دہلیز پر ماتھا ٹیکتے دیکھا جا رہا ہے۔

بھاگوت نے مسیحیوں کی مذہبی کتاب انجیل کی ایک کہانی کا حوالہ دے کرجس میں ایک ہجوم ایک عورت کو سنگسار کرنے کے لئے جمع ہوا تھا، کہا کہ موب لنچنگ یا ہجومی تشدد ایک غیر ملکی تصور ہے اور یہ ہندوستان میں کبھی نہیں ہوا۔ کچھ لوگ ’لنچنگ‘ کے نام پر ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لنچنگ اگر غیر ملکی تصور ہے تو پھر آر ایس ایس اور ہندوتوا کی تنظیمیں اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتی ہیں۔ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ سیاسی پشت پناہی کے سبب ہجومی تشدد کے مرتکبین قانون کی گرفت میں نہیں آتے جس کے سبب ان واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وطن عزیزمیں ہجومی تشدد تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہاں تک کہ یہ ایک بیماری بن چکا ہے مگر افسوس کہ اقتداراعلیٰ پرقابض رہنما یہ تواعتراف کرتے ہیں کہ موب لنچنگ ہندوستانی تہذیب کے خلاف ہے مگر سرعام جان لیوا ہتھیاروں سے لیس انتہا پسندوں کی ٹولی کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہ کر کے انہیں ایسا کرتے رہنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی کو اس پر قابو پانے کے لئے اس کے خلاف بولنا چاہیے، اگر وہ خاموش رہے تو اس جمہوریت کا بس خدا ہی مالک ہے۔

حکومت پرسوال اٹھانے یا اس کے طرزعمل کی تنقید کرنے والوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا گیا ہے یہ تو آئے دن سامنے آتا رہتا ہے جس کی سب سے بڑی مثال ملک کے 49 سرکردہ دانشوروں اور فنکاروں کے ذریعہ ملک کے وزیراعظم کو لکھا جانا ہے۔ ان معروف شخصیات کا گناہ صرف اتنا تھا کہ انہوں نے ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اور عوام میں پائی جا رہی دہشت کی طرف وزیر اعظم کی توجہ مبذول کرانے کے لئے انہیں خط لکھ کرموجودہ ماحول کو بہتر بنانے کی نصیحت کی تھی، جس پرعدم پرداشت کا پاٹھ پڑھانے اورامن پسند معاشرے کی حب الوطنی کا ثبوت مانگنے والے مخصوص فرقے نے انہیں غدار کے زمرے میں رکھ کران کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔

ہجومی تشدد مذہبی نفرت کے نام پر ہو یا بچہ چوری کے نام پر کی جارہی ہو، یہ ملک میں ایک بیماری کی طرح پھیل رہی ہے۔ دانشورطبقہ نے وزیراعظم کی توجہ اس طرف دلا کرکوئی جرم نہیں کیا تھا بلکہ اظہار رائے کی آزادی کا اپنا حق استعمال کرتے ہوئے انہوں نے صحیح کام کیا تھا۔ ہم سبھی بے خوف وخطر قومی اہمیت کے معاملات کی طرف وزیراعظم کی توجہ دلا سکتے ہیں تاکہ وہ مناسب قدم اٹھا سکیں۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اظہار کی آزادی کے حق کی حمایت کریں گے۔

Published: 10 Oct 2019, 9:10 PM