سونیا گاندھی: جدید ہندوستان کی تاریخ کی ناظر بھی اور حصہ بھی... سلمان خورشید کا مضمون

سونیا جی کے ساتھ میری بات چیت فعال سیاست کے دائرے میں ہوتی رہی، کیونکہ انہوں نے کانگریس کے مشکل دنوں سے لے کر فتوحات تک پارٹی کی موثر قیادت انجام دی

سونیا گاندھی، صدر کانگریس / Getty Images
سونیا گاندھی، صدر کانگریس / Getty Images
user

سلمان خورشید

محترمہ سونیا گاندھی ایک جدید ہندوستان کی تاریخ کی ناظر اور حصہ دونوں ہی رہی ہیں۔ وہ دنیا کے عظیم لیڈروں میں سے ایک مسز اندرا گاندھی کے ساتھ رہیں اور شدید زخمی وزیر اعظم کو انہوں نے اپنی گود میں اٹھایا تھا۔ وہ ایک دیگر وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بھی ثابت قدم ہمسفر رہیں۔ تقدیر نے راجیو جی کو بھی ہم سے چھین لیا۔ ہندوستانی وزیر اعظم کی بہو ہونا قبول کرنے کے بعد سونیا جی نے اپنی خاندانی زندگی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور سیاست سے ہمیشہ ایک بازو کا فاصلہ رکھا۔ ایک بار وہ اندرا جی کے دورہ لندن میں ان کے وفد کا حصہ تھیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں نے لندن ہوٹل کی لابی میں سونیا جی سے ہمت کر کے کہا کہ انہیں یونیورسٹی کی انڈین سوسائٹی کے طلبا کی دعوت قبول کرنی ہے، لیکن انہوں نے فوراً معذرت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست ان کے لیے نہیں ہے۔ پھر بھی وہ ایک بے داغ سیاست داں رہیں، اپنے شوہر کے نامکمل کاموں کو مکمل کرنے کا عہد کیا، غیر یقینی صورتحال کے بھنور میں پھنسی کانگریس پارٹی کو وہ دس سالوں تک اقتدار میں لے کر گئیں لیکن اپنی کامیابیوں کا تاج پہننے سے صاف انکار کر دیا۔

کسی ایسے طاقتور عالمی رہنما کا تصور کرنا مشکل ہے جو ایک وزیر اعظم کی سادہ اور دلکش گھریلو خاتون تھیں، جن کی عوامی موجودگی نے روایتی سیاست کے قدآوروں کے خلاف لہر کا رخ موڑ دیا اور ایک مضبوط اتحاد کے لیے سخت ترین سیاسی دلوں کو بھی موم بنا دیا۔ سنہ1971 کے انتخابات کے دوران مجھے وزیراعظم کی رہائش گاہ کی میزبانی کا منفرد موقع حاصل ہوا۔ اس دعوت کی تیاری سونیا جی کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ پھر کالج کے طالب علم کے طور پر ہم بی بی امطس السلام کی آزاد خیال رہنمائی میں انتخابی مہم میں مصروف تھے۔ فتح کی وہ دعوت ہمیشہ میری یادوں کا حصہ رہی ہے۔ پھر آکسفورڈ کو چھوڑ کر پی ایم او میں او ایس ڈی کے طور پر کام کرنے آ رہا تھا، میں اس وقت تک بھی واحد مہمان تھا جسے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کے ساتھ کھانے کی میز کا اشتراک کرنے کا شرف حاصل تھا۔ جنتا پارٹی کی حکومت کے دور میں بھی مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور انہیں ہمیشہ پرسکون اور باوقار ہی پایا۔


سونیا جی کے ساتھ میری بعد کی بات چیت فعال سیاست کے دائرے میں ہوتی رہی کیونکہ انہوں نے کانگریس کے مشکل دنوں سے لے کر فتوحات تک پارٹی کی موثر قیادت انجام دی۔ ذات پات پر مبنی سیاسی پارٹیوں کے عروج کے ساتھ روایتی سیاست کی وکالت کرنے والے مقامی لیڈروں کی امیدوں اور ان میں پیدا ہونے والے ذاتی عزائم کی وجہ سے کانگریس اتر پردیش میں جس بری حالت میں پہنچ گئی تھی وہاں سے اسے نکالنے کے لیے مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے سونیا جی نے مجھے ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے اس سخت ریاست میں بھیجا، تب میں نے پہلی بار ان کی توازن کی صلاحیت کو محسوس کیا۔ یہ وہ دن تھے جب دہلی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے نارائن دت تیواری اور جتیندر پرساد کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔ جوش سے لبریز عزائم اس وقت سطح پر آ گئے جب جتیندر پرساد نے کانگریس صدر کے عہدے کے انتخاب میں سونیا جی کو چیلنج کیا۔ میں نے جتیندر پرساد کی دوستی کی قیمت پر سونیا جی کی حمایت کا انتخاب کیا۔ میں نے جتیندر پرساد جی کے گڑھ شاہجہاں پور میں ان سے زیادہ ڈیلیگیٹ ممبر بنائے۔ لیکن جب جدوجہد حد سے تجاوز کرنے لگی تو سونیا جی نے مداخلت کی اور مجھے تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا، ’یہ آپ نے کہاں سے سیکھا؟' میں نے ان سے کہا کہ 'میں تو وہی کر رہا ہوں جو جتیندر جی کر رہے ہیں۔'۔ اور جیسا کہ مجھے یاد ہے، اتر پردیش میں بھی جتیندر پرساد کو 100 سے کم ووٹ حاصل ہوئے۔

کبھی کبھی لوگ پوچھتے ہیں کہ ’سونیا گاندھی کتنی معاف کرنے والی ہیں؟' وہ کتنی فیاض ہیں، یہ بہت سے لوگوں کے ساتھ ان کے رویے سے معلوم ہوتا ہے جنہوں نے انہیں مشکل وقت میں مایوس کیا۔ اور تقریباً ہمیشہ ہی ایسا کسی قابل تعریف نظریاتی مسئلے کے بجائے ذاتی عزائم کی بنا پر کیا گیا۔ ہندوستان میں پیدا نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مخالفت کرنے والے بھی حیرت زدہ رہ گئے جب انہوں نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو حکومت کی سربراہی کے لیے منتخب کیا۔ جس دن ان کی خواہش پر ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران مہر ثبت کی جانی تھی، کانگریس کے ہزاروں کارکنان انہیں منانے کے لیے ان کے گھر کے سامنے جمع ہو گئے تھے۔ لیکن ان کے فیصلہ کو تبدیل نہیں کرایا جا سکا۔ سونیا جی کے ذہن میں اصل میں کیا تھا، یہ تو شاید کبھی معلوم نہ ہو لیکن یہ واضح ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے ہندوستان کے ساتھ گہری وابستگی اور سیاسی اخلاقیات کی وجہ سے لیا تھا، لیکن انہوں نے اپنی قیادت میں نیشنل ایڈوائزری کونسل کے ذریعے لبرل سیاست کے بہت سے پالیسی مسائل کو حل کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ یو پی اے حکومت کے کئی اہم منصوبے مثال کے طور پر فوڈ سیکورٹی ایکٹ، حق اطلاعات، تعلیم کا حق، منریگا وغیرہ اسی کونسل کی فکر سے پیدا ہوئے تھے۔ سونیا جی کی سیاسی شخصیت میں سماجی انصاف اور سیکولرازم بہت اہم ہیں۔ تقسیم کی سیاست اور مذہبی پولرائزیشن کے دور میں کوئی دوسرا ایسا لیڈر ملنا مشکل ہے جو ہمیں بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ متحد رکھ سکے۔


سونیا جی شاید تصور کر سکتی ہیں کہ انہوں نے پچھلی دو دہائیوں میں جو کچھ احتیاط سے کھڑا کیا، جن کے ذریعے انہوں نے پارٹی کی شاندار قیادت کی، وہ سب پچھلی دہائی کے واقعات سے بکھر گیا ہے لیکن جن اصولوں کو انہوں نے برقرار رکھا ہے اور جن پر عمل کیا وہ ایسی چیزیں نہیں ہیں جنہیں وہ کسی مصیبت یا پریشانی کی وجہ سے ترک کر دیں گی۔ اس لیے ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے لیے چھٹپٹانے کے بجائے، پارٹی میں شامل ہم سب کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم انہیں کیا دے سکتے ہیں۔ جیسا کہ جان ایف کینیڈی نے کہا تھا - 'یہ مت پوچھو کہ آپ کے ملک (پارٹی) نے آپ کے لیے کیا ہے، یہ پوچھیں کہ آپ اپنے ملک (پارٹی) کے لیے کیا کر سکتے ہیں!'

حالیہ برسوں کی پریشانیوں کے باوجود سونیا گاندھی کی زندگی ایک نعمت کی طرح رہی ہے۔ ایک 'گرینڈ فائنل' ایک اسکرپٹ ہوتی ہے جو پریشان کرتی ہے۔ راہل گاندھی کا کانگریس صدر کے طور پر ان کی جگہ لینا خوشی کا وقت ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔ یہ ہوا بھی تھا لیکن برقرار نہ رہ سکا۔ ایسا پھر سے ہو سکے اس کے لئے ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے، حالانکہ حتمی فیصلہ نوجوان لیڈر کو ہی کرنا ہوگا۔ ہم سب کو صرف کانگریس کے نظریے کے بارے میں واضح رہنا ہے، جس کے بارے میں راہل گاندھی نے حالیہ ہفتوں میں بارہا بار بات کی ہے، اس پر روح اور طرز عمل کے ساتھ کاربند رہنا ہے۔ نظریے کی جنگ میں شامل ہو کر، ہم نہ صرف اپنے نوجوان رہنما کی منظوری حاصل کریں گے، بلکہ یہ مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو کے 'آئیڈیا آف انڈیا' کو محفوظ رکھنے کے لیے سونیا گاندھی کی تحریک کے لیے ہمارا اجتماعی شکریہ بھی ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 09 Dec 2021, 1:44 PM