کرناٹک: کیسے رکے گا حکومت گرانے اور بنانے کا یہ کھیل؟

کرناٹک حکومت کیسے گری اور کیسے بنے گی، ظاہر ہے گرانے میں جو طریقہ اپنایا گیا اس میں لالچ اور بدعنوانی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آواز تجزیہ

کل کرناٹک میں کانگریس اور جنتا دل سیکولر اتحاد کی حکومت ایوان میں اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہی اور اس سے جدا نتائج کی کوئی امید بھی نہیں کر رہا تھا کیونکہ یدی یورپا کی قیادت میں بی جے پی کسی بھی حال میں وہاں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتی تھی۔ بی جے پی نے اپنی حکومت کے قیام کے لئے تمام ہتھ کنڈے استعمال کیے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد بھی بی جے پی نے اپنی حکومت بنائی تھی لیکن تمام کوششوں کے با وجود وہ اعتماد کا وو ٹ حاصل نہیں کر پائی تھی کیونکہ کانگریس-جنتا دل سیکولر کا اتحاد تازہ اور مضبوط تھا لیکن اس کے با وجود بی جے پی نے ریاست میں حکومت تشکیل کرنے کی اپنی کوششیں نہیں چھوڑی تھیں۔

لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی نے نئے حوصلہ کے ساتھ حکومت گرانے کی کوششیں دوبارہ شروع کر دیں تھیں، اب اس کے لئے آسانی بھی ہو گئی تھی کیونکہ اتحاد کے کئی ناراض ارکان اسمبلی کو بی جے پی میں اپنا محفوظ مستقبل کی ضمانت نظر آئی۔ اتحاد کے کئی ارکان باغی ہوگئے، بی جے پی نے کماراسوامی حکومت کے خلاف مورچہ کھول دیا۔ کماراسوامی اور کانگریس کے کئی رہنماؤں نے حکومت بچانے کی بہت کوشش کی لیکن ان کو کامیابی نہیں ملی۔

حکومت کس کی گری اور اب کس کی بنے گی یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ حکومت کیسے گری اور کیسے بنے گی۔ ظاہر ہے گرانے میں جو طریقہ اپنایا گیا اس میں لالچ اور بدعنوانی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ جن ارکان نے بغاوت کی ان کے بغاوت کرنے کی وجہ بالکل شیشے کی طرح صاف ہے۔ ان کو کرسی اور مالی فائدوں کا لالچ دیا گیا تھا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ جو پیسہ اور اقتدار سے طاقتور ہوگا اس کے لئے غلط طریقوں سے حکومت گرانا اور بنانا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔

ایک زمانہ آیا رام گیا رام کا تھا جب بغیر کسی خوف کے ارکان اپنی سیاسی وفادریاں تبدیل کرلیا کرتے تھے لیکن پھر اینٹی ڈفیکشن قانون بنا اور اس پر کسی حد تک روک لگ گئی لیکن پچھلے کچھ سالوں کے سیاسی حالات نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس قانون کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ اب ضرورت ہے کہ جو ارکان بغاوت کرتے ہیں یا سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں ان کی تعداد بھلے کتنی بھی ہو ان ارکان کی رکنیت فوری ختم ہو جانی چاہیے اور ان کو دوبارہ عوام کے پاس جانا چاہیے کیونکہ عوام جس وقت اپنے لئے نمائندے کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کے ذہن میں امیدوار کی پارٹی بھی ذہن میں ہوتی ہے۔