سیاسی

کیسے ہرائیے نریندر مودی کو!... ظفر آغا

دراصل نریندر مودی کے روئیں روئیں سے اقلیت اور بالخصوص مسلم اقلیت کے خلاف نفرت ٹپکتی ہے۔ ان کا سیاست میں عروج ہی مسلم منافرت کے بنیاد پر ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا

ظفر آغا

چناؤ آتے اور جاتے ہیں، ساتھ میں حکومتیں بنتی ہیں اور بگڑتی ہیں۔ لیکن کبھی کبھی چناؤ ایسے ہو جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ محض ایک حکومت ہی نہیں قائم ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ پورے ملک اور قوموں کی بھی تقدیر بنتی اور بگڑتی ہے۔ سنہ 2019 میں ہندوستان میں ہونے والا لوک سبھا چناؤ بھی ایک ایساہی چناؤ بن گیا ہے۔ اب سے کوئی دو ماہ بعد جب لوک سبھا چناؤ کے نتائج آئیں گے تو صرف یہ طے نہیں ہوگا کہ کون سی پارٹی اگلی حکومت بنا رہی ہے بلکہ اس بار یہ بھی طے ہوگا کہ آنے والی طویل مدت میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کی قسمت بنے گی یا بگڑ جائے گی۔ یاد رکھیے نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اگلے پانچ سالوں میں ا ٓئین کی نگرانی میں محض حکومت ہی نہیں چلائے گی کیونکہ نریندر مودی کوئی عام وزیر اعظم نہیں ہیں۔ نریندر مودی آر ایس ایس کی گود میں پلے بڑھے ایسے پرچارک ہیں جن کی سیاست کا بنیادی مقصد ہی ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کر اس ملک کی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔ اس لیے مودی اور سَنگھ کی نگرانی میں آئین ایک نئی شکل لے گا۔ ظاہر ہے جب آئین ہی بدل جائے گا تو وہ پھر مودی کا ’نیا ہندوستان‘ ہوگا اور وہ گنگا جمنی تہذیب میں ڈوبا ہندوستان نہیں بلکہ ہندو راشٹر ہوگا۔

دراصل نریندر مودی کے روئیں روئیں سے اقلیت اور بالخصوص مسلم اقلیت کے خلاف نفرت ٹپکتی ہے۔ ان کا سیاست میں عروج ہی مسلم منافرت کے بنیاد پر ہوا۔ سنہ 2002 میں جو مسلم مخالف فسادات ہوئے یا کرائے گئے، ان فسادات سے مسلم منافرت پیدا کر کے نریندر مودی ’ہندو ہردے سمراٹ‘ (ہندو دلوں کے شہنشاہ) بن گئے۔ اور تب سے آج تک اس ہندو ہردے سمراٹ کی سیاست کا مقصد ہی اس ملک کی اقلیتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ اس بات پر اگر کسی کو شک ہو تو یہ یاد دلا دوں کہ نریندر مودی نے سنہ 2014 لوک سبھا چناؤ کے دوران گجرات فسادات کے بارے میں کیا کہا تھا۔ جب اس وقت ایک رپورٹر نے گجرات فسادات کے بارے میں نریندر مودی سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کو گجرات فسادات پر افسوس ہے۔ یاد ہے انھوں نے کیا جواب دیا تھا؟ بھلے ہی آپ بھول گئے ہوں لیکن میرے ذہن میں ان کے جواب کا ایک ایک لفظ آج بھی نقش ہے جو اس طرح تھا’’مجھ کو گجرات فسادات کا اتنا ہی افسوس ہے جتنا ایک کار سے کچل جانے سے ایک کتے کے پلے کی موت کا افسوس ہوتا ہے۔‘‘

یہ ہے نریندر مودی کا اصل رنگ و روپ اور ان کے نزدیک اقلیتوں کی حقیقت جو ایک ’کتے کے پلے‘ سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ نریندر مودی اقلیتوں کے بارے میں سنہ 2014 یا سنہ 2002 میں جو سوچتے تھے اقلیتوں کے بارے میں ان کے خیالات آج بھی وہی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ابھی پچھلے ہفتے مہاراشٹر کے وردھا ضلع میں اپنی ایک چناوی تقریر میں انھوں نے کانگریس صدر راہل گاندھی کے وائناڈ، کیرالہ سے چناؤ لڑنے پر جو کہا وہ مودی کبھی نہ کہتے۔ مودی نے وہاں اپنی تقریر میں راہل پر طنز کیا اور بولے ’’راہل ہندوؤں کو چھوڑ کر وہاں (وائناڈ) اقلیتوں کی گود میں پناہ لینے گئے ہیں۔‘‘ اس جملے میں دو باتیں نہاں ہیں۔ اولاً، میں ہندو لیڈر ہوں تب ہی ہندو تیرتھ استھان بنارس سے چناؤ لڑ رہا ہوں۔ اور دوئم راہل اقلیتوں کے لیڈر ہیں اس لیے وہ چناؤ جتانے لائق نہیں۔ یعنی اقلیت مودی کے لیے ایک گالی تھی، آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

چنانچہ اقلیتوں کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ سنہ 2019 کے چناؤ کے بعد اگر نریندر مودی اگلے وزیر اعظم بنے تو وہ اقلیتوں کی کیا گت بنائیں گے۔ ان کے دماغ میں اقلیتوں کی حیثیت ایک ’کتے کے پلے‘ سے زیادہ نہیں ہے اور وہ بطور وزیر اعظم اقلیتوں کو اسی حیثیت پر پہنچا دیں گے۔ اب اس پس منظر میں 11 اپریل 2019 سے ہندوستان کا پارلیمانی چناؤ شروع ہو رہا ہے۔ چنانچہ اقلیتوں کو اس سے قبل یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ مودی راج میں اسی حیثیت پر پہنچنا چاہتے ہیں جہاں مودی ان کو پہنچانا چاہتے ہیں یا وہ تمام ہندوستانی شہریوں کے ساتھ عزت سے سر اٹھا کر جینا چاہتے ہیں۔ بھلا کون ہے جو دوسرے درجے کا شہری بن کر جینا پسند کرے گا! تو اس لیے اقلیتوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کس طرح نریندر مودی کو اگلے چناؤ میں ہرا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اقلیتوں کا ایک ووٹ بھی ضائع نہیں جانا چاہیے۔ اس لیے چناؤ سے قبل یہ طے کر لیجیے کہ آپ کا نام ووٹنگ لسٹ میں ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں ہے تو حیدر آباد کی ایک این جی او کے سربراہ خالد سیف اللہ نے ایک ایپ ’مسنگ ووٹرس‘ کے نام سے بنایا ہے جس کے ذریعہ یہ پتہ چل سکتا ہے کہ آیا ووٹر لسٹ میں آپ کا نام ہے کہ نہیں۔ اور اگر نہیں ہے تو اسی ایپ سے آپ کا نام لسٹ میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس کام کو کرنے کے لیے ہر محلے کے دو چار ذمہ دار نوجوانوں کو کمربستہ ہو جانا چاہیے اور اس ایپ کی مدد سے ہر غائب فرد کا نام لسٹ میں شامل کروانا چاہیے۔ یہ ایپ آپ بہ آسانی اپنے موبائل میں ’گوگل پلے اسٹور‘ سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

مودی ہراؤ حکمت عملی کا دوسرا اہم جز یہ ہونا چاہیے کہ ووٹر کو یہ بات پہلے سے واضح ہونی چاہیے کہ یہ چناؤ کسی ایک پارٹی کو جتانے کا چناؤ نہیں ہے۔ بلکہ بقول کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی یہ چناؤ اس ملک کی روح کی بقا کا چناؤ ہے۔ اس لیے یہ مت دیکھیے کہ آپ کا ووٹ کس پارٹی کو جا رہا ہے بلکہ یہ دیکھیے کہ کون بی جے پی کو ہرا رہا ہے۔ یوں تو ملک بھر میں سب سے بڑی پارٹی کانگریس ہے، اس لیے زیادہ تر صوبوں میں بی جے پی کو کانگریس ہی ہرانے کی حیثیت میں ہوگی۔ اس لیے عموماً کانگریس کو ہی ووٹ ڈالنا عقلمندی ہوگی۔ لیکن اگر کہیں صوبائی پارٹیاں اس کام کو بہتر طور سے کر رہی ہیں تو ان کو ووٹ ڈالنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ سیکولر ووٹ آپس میں سیکولر پارٹیوں کے درمیان تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر سنہ 2014 میں جیسے 61 فیصد سیکولر ووٹ بٹ گیا تھا، ویسے ہی اس بار بھی بٹ گیا تو یقیناً مودی حکومت قائم کریں گے اور آپ کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیں گے۔ اس لیے ہر صورت میں سیکولر ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچائیے۔

اسی حکمت عملی کا ایک بہت اہم جز اور بھی ہے۔ اس کے ذکر سے قبل چناوی نتائج کے امکانات کو سمجھنا لازمی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جب چناوی نتائج آئیں تو کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملے۔ ایسی صورت میں کچھ پارٹیاں ایسی ہیں جو کسی بھی صورت میں بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے جب کہ کچھ صوبائی پارٹیاں ایسی بھی ہیں جو ابھی تو خود کو سیکولر کہہ رہی ہیں لیکن چناؤ کے بعد اقلیتوں کا ووٹ لینے کے بعد مودی سے ہاتھ ملا لیں گی۔ اس سلسلے میں سیاسی مبصرین تین صوبائی پارٹیوں کا ذکر خصوصی طور پر کرتے ہیں۔ ایک تلنگانہ کی فی الوقت برسراقتدار کے. چندرشیکھر راؤ کی ٹی آر ایس پارٹی، دوسری آندھرا پردیش میں جگن کی پارٹی وائی ایس آر کانگریس اور تیسری اڈیشہ میں بیجو پٹنائک کی بیجو جنتا دل پارٹی۔ بس یوں سمجھیے کہ جو ان پارٹیوں کو ووٹ ڈال رہا ہے وہ بالواسطہ طور پر بی جے پی کو ہی ووٹ ڈال رہا ہے۔ کیونکہ یہ صوبائی پارٹیاں مرکز میں مودی حامی ہیں، بھلے ہی صوبائی سطح پر وہ بہت سیکولر نظر آتی ہوں۔ اگر مودی کو اگلی بار حکومت بنانے کے لیے صوبائی پارٹیوں کی مدد درکار ہوئی تو یہ پارٹیاں کھل کر مودی کا ہاتھ تھام لیں گی۔ اس لیے ان پارٹیوں کو کم از کم پارلیمانی چناؤ میں ووٹ ڈالنا بی جے پی کو ووٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس لیے ان کو ووٹ ڈالنا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنا ہوگا۔ لہٰذا ان تینوں پارٹیوں کو ووٹ مت ڈالیے۔

الغرض، اس چناؤ میں اقلیتوں کو تین باتیں یاد رکھنی ہیں: اول، ووٹر لسٹ میں ہر فرد کا نام موجود ہو۔ دوئم، عموماً کانگریس کو ووٹ دیجیے، اور سوئم، ووٹ بانٹیے نہیں اور ایسی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو ہرگز ووٹ مت دیجیے جو چناؤ کے بعد مودی سے ہاتھ ملا سکتی ہیں۔ اگر آپ نے اس سوجھ بوجھ کے ساتھ گیارہ اپریل سے 23 مئی تک ہر مرحلے میں ووٹ ڈالا تو بس نریندر مودی اگلے وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے اور آپ دوسرے درجے کے شہری بھی نہیں بنیں گے۔ اور اگر آپ سے اس بار چوک ہو گئی تو پھر شاید آپ کبھی ووٹ دینے کی حیثیت میں ہی نہیں ہوں گے۔ کیونکہ دوسرے درجے کے شہری کو ووٹنگ کا اختیار نہیں ہوتا ہے۔

Published: 7 Apr 2019, 11:09 AM