حکومت آخر کب تَک اپنے مخالفین کو ذہنی اذیت پہنچائے گی!

کیا یہ سمجھا جائے کہ مودی حکومت میں کچھ کہنے کی بھی کڑی سزا ملتی ہے، آخر کب تک اپنے عمل کی پردہ داری کے لئے حکومت اس طرح سے اپنے مخالفین کو ذہنی اذیت پہنچاتی رہے گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

ملک میں ہجومی تشدد کے حوالے سے تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی خبر سننے میں آجاتی ہے جس میں نوجوانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کرموت کے گھاٹ اتاردیا جاتا ہے یا ان کی زندگی جہنم بنا دی جاتی ہے وہ بھی محض شک کی بنیاد پر۔ یہ حیوانیت گاندھی کے عدم تشدد والے ملک میں اچانک کیسے آگئی اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے دماغ پر زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تبدیلی اقتدار کے بعد گزشتہ چند سالوں میں تیار کیے گئے ماحول نے ایسے ایسے گنجے دماغوں کوجنم دیا ہے جوجھوٹ کوسچ اور سچ کوجھوٹ بنانے میں ماہرہیں۔ یہ وہی گروہ ہے جسے پریشان حال لوگوں کی طرف سے حکومت کی تنقید ہرگز برداشت نہیں ہے۔

اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ انتہا پسندوں کی حیوانیت کا شکار ہونے والے لوگ بے قصور ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہجومی تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرین صرف مسلمان ہوتے ہیں۔ درجنوں واقعات ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن میں دلتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے یہاں تک کہ مسلمان نام یا شکل وصورت سے مشابہت رکھنے والے ہندو نوجوان بھی ہجومی تشدد کا شکار بنائے گئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انتہا پسندوں کو اقلیتوں سے سخت نفرت ہے اور انہیں ایک آنکھ بھی دیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کی کون پشت پناہی کر رہا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو انتہا پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں؟ جب تک ان لوگوں پرشکنجہ نہیں کسا جائے گا تب تک بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔

حالانکہ ان سب کے لئے حکومتیں اور انتظامیہ کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا کیونکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ہجومی تشدد روکنے کے لئے انتظامیہ کوسخت ہدایات دے رکھی ہیں۔ 16 جولائی 2018ء کو سپریم کورٹ نے پولس پر مکمل ذمہ داری عائد کی تھی کہ موب لنچنگ کو ضلع سے راجدھانی کی سطح تک روکا جائے۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا تھا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ریڈیو، ٹی وی اور سرکاری سائٹوں کے ذریعے یہ انتباہ عام کریں کہ ہجومی تشدد یا بھیڑ کے ہاتھوں ہلاکت پر سخت سزا کا التزام ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کو بھڑکانے والا مواد جس پر کوئی روک ٹوک نہیں، اسے ہٹا دینا چاہیے۔ اس میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے۔

سب سے پہلے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے اس ضمن میں ریڈیو، ٹی وی یا اخبار کے ذریعے کیا کیا ہے۔ کیا آپ نے اس طرح کی کوئی مہم یا کوئی اشتہار دیکھا ہے۔ اب اس تناظر میں 49 افراد کے مکتوب پر نظر ڈالیں جو وزیراعظم کو لکھا گیا۔ مکتوب لکھنے والوں نے خود کو امن کا حامی قرار دیا اور وزیراعظم سے اپیل کی کہ مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کی لنچنگ کو فوری روکا جانا چاہیے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پرملک کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔ اب آپ بتائیے کیا یہ مکتوب لکھنے والے 49 افراد نے کوئی جرم کیا ہے؟ لیکن ان کے خلاف بہار کے مظفرپور میں ایف آئی آر درج کرادی گئی (حالانکہ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ بند کیا جاچکا ہے اور درخواست گزار کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے)۔

اِن دانشوروں نے صرف اتنا کہا تھا کہ ہجومی تشدد سے انسانی اقدار اور آزادی خیال کی روح کانپ رہی ہے، حکومت کو یہ شدید غلط فہمی ہے کہ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جو موجودہ حکومت کی مرضی و منشاء کے برعکس ہوتے ہیں حالانکہ یہ محض غلط فہمی ہے جن 49 لوگوں نے ایک خط کے ذریعہ مودی حکومت اور بطورِ خاص وزیراعظم کی توجہ مبذول کرائی تھی کہ مسلم اقلیت اور دلتوں کے خلاف منظم انداز میں انتہائی پرتشدد اور جان لیوا واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کی یہ حق گوئی پسند نہ آئی اور ان کے عمل کو غداری قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لئے درخواست دے دی۔

ان لوگوں پر قوم پرستی میں بگاڑ پیدا کرنے، مذہبی جذبات بھڑکانے اور نقص امن کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ تو موب لنچنگ کے خلاف عوام کو متنبہ کرنے کی کوشش ہوئی تھی۔ وزیراعظم یا کسی کو بھی مکتوبات لکھنا کیا مذہبی جذبات بھڑکانے کے مترادف ہوتا ہے؟ کیا ملک مخالف کسی مسئلے کی طرف وزیراعظم کی توجہ مبذول کرانا جرم ہوتا ہے؟مکتوب تحریر کرنے والوں میں بعض تو کافی معمر ہیں۔ ان لوگوں نے وزیراعظم سے تشدد مخالف قدم اٹھانے کی اپیل کی تھی مگرحکمراں پارٹی کے ساتھ ہی حکومت حامی لوگوں نے زمینی سطح پرسماج سے وابستہ دانشوروں کو غدار ٹھہرائے جانے کی مہم چھیڑ دی۔

اسی دوران مہاراشٹرکے وردھا میں مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی سے 6 طلباء کو معطل کیے جانے کی خبرآگئی۔ طلباء کا جرم (موجودہ ماحول کے مطابق) یہ ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کو خط لکھا تھا۔ طلباء کا الزام ہے کہ انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھنے کی وجہ سے معطل کیا گیا ہے۔ان طلباء نے یونیورسٹی سے کانشی رام کی یاد میں پروگرام منعقد کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ طلباء کا کہنا ہے کہ انہیں اس کی اجازت نہ ملنے پرمظاہرہ کیا گیا۔ جس پر یونیورسٹی کے طلباء نے وزیر اعظم کو خط لکھ کرموب لنچنگ، جنسی تشدد، عصمت دری، کشمیر کی صورتحال اور این آرسی جیسے مسائل کا ذکر کیا تھا۔ اس کے علاوہ طلبا نے وزیر اعظم کو خط لکھنے والے 49 دانشوروں پر غداری کا مقدمہ درج کیے جانے کے بارے میں بھی اپنی بات رکھی تھی۔

کسی منتخب حکومت کے خلاف یا اس کے مخصوص طرز عمل کے خلاف آواز اٹھانا کسی قانون و آئین کے تحت بغاوت نہیں کہلاتی۔ مشہور قانون داں سراب سوری نے بارہا کہا ہے کہ صرف اس عمل کو بغاوت قرار دیا جاسکتا ہے جس میں حکومت کے خلاف کوئی گروہ ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے یا فون سے یہ کہتا ہے کہ وہ اس حکومت کے خلاف صف آراء ہوجائیں۔ ان کے علاوہ ملک کے کسی بھی قانون داں نے یہ نہیں کہا کہ جن سربراہوں نے مکتوب وزیراعظم کو پچھلے چند ماہ کے دوران لکھے ہیں، وہ بغاوت کے مماثل ہیں۔ موجودہ حکومت پر یہ تنقید صرف قانون داں ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ عام آدمی بھی ہجومی تشدد کے واقعات پر انتہائی پریشان ہیں۔

ایک بات بالکلیہ طور پر واضح ہوچکی ہے کہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا طبقہ حکومت کی کارکردگی اور خصوصاً معاشی محاذ پر اس کی پسپائی پر تنقید کررہا ہے، اس محاذ پر تو مکمل شکست کے بعد حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے الٹے واقعات کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ آخر کتنے منہ بند کیے جائیں گے، حکومت کی کسی پالیسی یا طرز عمل کی مخالفت نہ تو وطن دشمنی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کو بغاوت کہا جاسکتا ہے۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ مودی حکومت میں کچھ کہنے کی بھی کڑی سزا ملتی ہے آخر کب تک اپنے عمل کی پردہ داری کے لئے حکومت اس طرح سے اپنے مخالفین کو ذہنی اذیت پہنچاتی رہے گی۔

Published: 13 Oct 2019, 8:10 PM