ایسا کیا ہوا کہ ہم دینے والے کے بجائے لینے والے بن گئے؟

کل خبر آئی کہ امریکہ کورونا سے لڑنے میں ہماری مدد کرے گا، اس سے پہلے برطانیہ، جرمنی، فرانس اور یوروپی یونین بھی یہی کہہ چکے ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس 
تصویر آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

کل تک یہ خبریں شائع ہو رہی تھیں کہ ہمارے ملک نے اس ملک کوویکسین بھیجی ہے ، ہمارے ملک نے اس ملک کو طبی مدد فراہم کی ہے اور ان خبروں کو شائع کرتے وقت ہم اپنے’وشو گرو ‘ہونےکا بھی ذکر کرتے رہے۔ ذرائع ابلاغ نے اس تصویر کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جیسےیہ سب راتوں رات ہوگیا ، انہوں نے اس حقیقت سے چشم پوشی کر لی کہ آج کی کامیابی کے پیچھے برسوں کی محنت ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تصویر بدل گئی ہےآج دنیا کا ہر بڑا ملک ہماری مدد کرنےکے لئے کہہ رہا ہے اور ہم یہ مدد لینے کے لئے مجبور ہیں۔

ان چندماہ میں ایسا کیا ہوا کہ ہم دینےوالے کے بجائے لینے والےبن گئے۔ کچھ بھی کہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ زیادہ خود اعتمادی اور اس خود اعتمادی کے نشہ میں غیر ذمہ دارانہ رویہ نے ہی ہمیں یہاں لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ بڑے ہونے کے بعد بھی انکساری کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور اپنی سابقہ حکومتوں اور قائدین کے اچھے کاموں کو سراہنا چاہئے۔

کل خبر آئی کہ امریکہ کورونا سےلڑنےمیں ہماری مدد کرے گا ، اس سے پہلے برطانیہ ،جرمنی، فرانس اور یوروپی یونین بھی یہی کہہ چکے ہیں ۔ کورونا سے لڑ رہے مریضوں کے علاج کے لئے سعودی عرب نے آکسیجن بھیج دی ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے پورا ماحول بدل گیا ہے۔

پہلی لہر کے اثر کو جھیلنے کے بعد ہمیں جو تیاری کرنی چاہئے تھی وہ ہم نے نہیں کی جس کی وجہ سےدوسری لہر نے ہمارے انتظامات کی قلعی کھول دی۔ آج کورونا متاثرین کی تعداد ساڑے تین لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہےاور لوگوں کو صحیح علاج دستیاب نہیں ہے۔ پہلے تو اسپتال میں بیڈ نہیں ہیں اور اگر بیڈ ہیں بھی تو لوگ وہاں جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آکسیجن کی قلت سے سب واقف ہیں۔ جن لوگوں کے عزیز اس بیماری کی نذر ہو گئے ہیں اور دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی آخری رسومات کے لئے بھی نمبر لگانے کی خبریں عام ہیں ۔ اس کو بد انتظامی نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے۔

دہلی کے وزیر اعلی پہلے گہری نیند سوتے رہے اور اب کہیں مرکز سے مددمانگ رہے ہیں تو کہیں صنعت کاروں سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں لیکن ان حالات میں بھی سیاست سے باز نہیں آ رہے ہیں ۔ وزیر اعظم کی وزراء اعلی سے ہونے والی میٹنگ میں اپنےبیان کو لائیو ٹیلی کاسٹ کر رہے ہیں ۔ عوام کو کیادکھانا چاہتے ہیں۔ ان کے ڈائلاگ ’میں ہوں نہ‘ کے بعد بھی دہلی کے غریب مزدوروں نے ان کےالفاظ پر کوئی بھروسہ نہیں کیا اور وہ دہلی چھوڑ کر چلے گئے۔

مرکزی حکومت نے سی بی ایس ای بورڈ کے امتحان کینسل اور ملتوی کر دئے لیکن بنگال کے اسمبلی انتخابات اور اتر پردیش کے پنچایت انتخابات کو روکنے کے تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں لیا ۔حکومت نے کسی دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی وجہ سے آج یہ حالات پیدا ہوئےہیں کہ ہم دینےوالے کے بجائے مدد لینے والے بن گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 26 Apr 2021, 9:11 AM