2019 کے یوم آزادی پر خوف نہیں سکون کا سایہ ہوگا: آمین 

خوف حاکم طبقوں کا ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ محکوموں کو اپنا تابع دار بنا کر رکھنے کی سازش رچتے ہیں اور یہ ہتھیار ہر دور میں محکوموں کے خلاف استعمال ہوتا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

میں نے ہندوستان کا بٹوارا نہیں دیکھا۔ میری پیدائش بٹوارے کے کئی سال بعد ہوئی اور میں نے آزاد ہندوستان میں آنکھ کھولی۔ ڈر و خوف سے جدا ہم اس ملک کی آزاد فضا میں باعزت جیے۔ لیکن اپنے والدین اور ان کے عزیز و اقارب سے اکثر بٹوارے کے دور کی داستانیں ضرور سنیں۔ ہمارا آبائی وطن صوبہ اتر پردیش کا شہر الٰہ آباد تھا۔ ہمارے والد بٹوارے کے بارے میں اکثر ذکر کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھائی دہلی اور پنجاب میں اس وقت جو بھی مار کاٹ رہی ہو اس کے بارے میں سنتے ضرور تھے، لیکن ہمارے الٰہ آباد میں تو ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا۔ لب و لباب یہ کہ آزادی کے ساتھ بٹوارے نے اس ملک میں جو فرقہ پرستی کا جنون جگایا وہ کچھ حصوں کے باہر ایسا خطرناک نہیں تھا۔ ہاں جب کبھی فساد ہوتے تو مسلم اقلیت میں خوف ضرور پیدا ہو جاتا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس ملک کی مسلم اقلیت آزاد فضا میں سانس لے رہی تھی اور کچھ مواقع کے علاوہ عموماً بے خوف و خطری بھی رہی تھی تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

لیکن اب وہ بات نہیں۔ آج ہندوستانی مسلم اقلیت آزاد تو ہے لیکن وہ ایک ایسے خوف کے دائرے میں جی رہی ہے کہ جس کا تصور کسی نے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ آج یہ عالم ہے کہ ایک عام مسلمان کو یہ یقین نہیں رہ گیا کہ وہ اگر گھر سے باہر جائے تو زندہ واپس لوٹے گا کہ نہیں۔ اس آزاد ہندوستان میں جب آئے دن اخلاق جیسوں کو پیٹ پیٹ کر خود اس کے گھر میں مارا جائے تو بھلا اس کے ہم مذہب خوف کے دائرے سے کیسے باہر سانس لے سکتے ہیں۔ نریندر مودی کے ہندوستان کی حقیقت یہی ہے کہ مسلم اقلیت اس حد تک تو ابھی بھی آزاد ہے کہ اس کا ووٹ ڈالنے کا حق ابھی برقرار ہے۔ لیکن وہ اصل معنوں میں دوسرے درجے کی شہری حیثیت کو پہنچ چکا ہے۔

اس کی جان خطرے میں ہے۔ نوکریاں پہلے ہی عنقا تھیں، جو ٹوٹا پھوٹا کاروبار تھا اب اس پر بھی تلوار لٹک رہی ہے۔ پچھلے پندرہ بیس برسوں میں مسلم اقلیت میں قصاب طبقے نے مالی اعتبار سے کچھ حیثیت حاصل کی تھی لیکن سنہ 2014 میں مودی حکومت کے برسراقتدار آتے ہی بی جے پی کے صوبائی حاکموں نے قصاب خانوں پر تالے ڈلوا دیے۔ آج قصاب طبقے کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ اور تو اور ہریانہ میں مسلم اکثریتی میوات کے علاقے میں جو لوگ سڑکوں کے کنارے ’چکن بریانی‘ بیچتے تھے ان پر پولس نے گائے کے گوشت کے شک میں چھاپے مار کر اس دھندے کو بھی آگ لگا دی۔ آج ایک معمولی مسلم کبابیہ اور چھوٹے موٹے کھانے کے کام کرنے والے کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کب جیل چلا جائے۔

گئو رکشکوں نے زندگی خطرے میں ڈال دی، پولس نے کاروبار ٹھپ کر دیے۔ نہ جان کی خیر، نہ مال کا بھروسہ۔ اب جیے تو جیے کیسے۔ مودی کے ہندوستان کی تلخ حقیقت یہی ہے کہ ملک کی 71ویں آزادی کی سالگرہ پر اس ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی والی مسلم اقلیت خوف کے ایک ایسے حصار میں جی رہی ہے جس کو توڑ پانے کا فی الحال کوئی راستہ نہیں نظر آتا ہے۔ مشکل تو یہ ہے کہ خوف کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ذرا سوچیے ایک چھوٹے سے صوبہ آسام میں 40 لاکھ لوگ حق شہریت سے بے دخل ہونے والے ہیں۔ ان میں سے کم از کم 90 فیصد افراد مسلم اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل آسام کی معروف صحافی آفریدہ حسین (دہلی کے دورے کے درمیان) مجھ سے ملاقات کی غرض سے آئیں۔ میں نے ان سے از راہ تجسّس آسام کے حالات پوچھے۔ ان کی آنکھیں نم ہو گئیں اور گردن جھکا کر بولیں کہ میرے دس سال کے بیٹے کا نام اُس رجسٹر میں ہے جس میں غیر ہندوستانی بنگلہ دیشیوں کے نام ہیں۔ ان کو جب اور کریدا تو بولیں کہ میں جس آسام میں اب جی رہی ہوں وہ میرا آسام نہیں ہے۔ آج آسام میں جس شخص کے نام کے ساتھ مسلم نام جڑا ہے وہ اب سر اٹھا کر جی نہیں سکتا ہے۔ آسامی مسلم اقلیت کو اب ایک ایسے خوف نے جکڑ لیا ہے جس سے نجات حاصل کر پانا کم از کم ابھی مشکل نظر آتا ہے۔

آسام میں شہریت کا جو مسئلہ کھڑا ہوا ہے وہ محض آسام کا مسئلہ نہیں ہے۔ اب تک یو پی، دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش جیسے چھ صوبوں میں بی جے پی صدور نے یہ مانگ کی ہے کہ ان کی ریاستوں سے بنگلہ دیشیوں کو باہر کیا جائے۔ اگر آسام میں پشتینی افراد راتوں رات بنگلہ دیشی ہو گئے تو پھر کل کو ہم اور آپ مسلم نام کے ساتھ کب بنگلہ دیشی ہو جائیں اس کا کیا بھروسہ۔ ان حالات میں بھلا اس ملک کی مسلم اقلیت آزادی کے باوجود کیسے بے خوف و خطر جی سکتی ہے۔ یوں تو آزاد ہیں، لیکن خوف کا ایک سایہ جس کے چھٹنے کے فی الحال کوئی آثار نہیں نظر آتے۔

لیکن گھبرائیے مت۔ خوف حاکم طبقوں کا ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ محکوموں کو اپنا تابع دار بنا کر رکھنے کی سازش رچتے ہیں اور یہ ہتھیار ہر دور میں محکوموں کے خلاف استعمال ہوتا رہا ہے۔ ارے فرعون کی خدائی کا راز خوف ہی تو تھا لیکن جب غلام کھڑے ہو گئے تو ساری خدائی دھری رہ گئی۔ اور پھر مودی کے ہندوستان میں یہ خوف کی تلوار محض مسلم اقلیت کے سر پر ہی نہیں لٹک رہی ہے۔ اس ملک کی ہندو دلت آبادی کا حال ناگفتہ بہ ہے۔ گجرات کے اونا میں دلت کوڑوں سے زد و کوب کیے جا رہے ہیں۔ مونچھ رکھنے پر دلت کی مونچھ اکھاڑی جا رہی ہے۔ ان کے گھروں میں گھس گھس کر ان کی ناموس کو بے آبرو کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کسان خودکشی کر رہا ہے۔ نوجوان نوکری کے لیے در در کی ٹھوکر کھا رہا ہے۔ تاجر کی تجارت خطرے میں ہے۔ ملک میں چہار سو بے یقینی ہے اور یہ بے یقینی کثیر ہندو آبادی میں بھی خوف پیدا کر رہی ہے۔ اس لیے یوں کہیے کہ ایک مسلم اقلیت کیا سارا ہندوستان اس 71ویں یوم آزادی کے وقت لایقینی اور خوف کے سائے میں جی رہا ہے۔

اب حاکموں کی سازش یہ ہے کہ ان تمام خوفزدہ طبقوں کو مذہب کی افیون پلا کر الگ الگ خانوں میں باٹے رکھا جائے۔ دلت-مسلم ایک نہ ہو، کسان-نوجوان نہ مل پائے، ہندو-مسلمان کچھ نہیں تو گائے کے نام پر بٹا رہے... یعنی باٹو اور راج کرو کی حکمت عملی پر کام کرتے رہو اور چناؤ جیتتے رہو۔ لیکن اگر تمام محکوم طبقے اس سازش کو سمجھ کر مختلف خانوں کو توڑ کر اکٹھا ہو جائیں تو سنہ 2019 کے یوم آزادی پر خوف نہیں سکون کا سایہ ہوگا۔

next