ہندوتوا طاقتوں کے ذریعہ گاندھی کے قتل کا سلسلہ آج بھی جاری

بابائے قوم مہاتما گاندھی

ناتھو رام گوڈسے نے اپنے آخری بیان میں کہا تھا ’’میں نے گاندھی کو کیوں مارا‘‘30 جنوری 1948 کو میں نے ہی گاندھی جی پر گولیاں چلائی تھیں۔

موہن داس کرم چند گاندھی کے قتل (30 جنوری 1948) کی سازش میں شامل لوگوں اور قاتلوں کی شناخت سے متعلق گزشتہ چار پانچ سالوں میں لگاتار غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں ملک کی سپریم کورٹ نے 6 اکتوبر 2017 کو ایک عرضی بھی منظور کر لی جس میں اصل قاتل کی شناخت ایک بار پھر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مہاتما گاندھی کے قتل کے لیے ناتھو رام ونایک گوڈسے اور نارائن آپٹے کو 15 نومبر 1949 کو پھانسی دی گئی تھی۔ یہ اس سب کے باوجود ہو رہا ہے کہ قاتلوں نے خود گاندھی کے قتل کی ذمہ داری سب کے سامنے قبول کی تھی۔

ناتھو رام گوڈسے نے عدالت کے سامنے اپنے آخری بیان ’’میں نے گاندھی کو کیوں مارا‘‘ میں صاف کہا تھا کہ ’’برلا ہاؤس کے میدان میں 30 جنوری 1948 کو میں نے ہی گاندھی جی پر گولیاں چلائی تھیں۔‘‘ گاندھی جی کے قتل میں ساتھ دینے والے ناتھو رام کے بھائی گوپال گوڑ کو بھی اس معاملے میں تاحیات جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس نے اپنی کتاب ’گاندھی وَدھ اور میں‘ میں واضح لفظوں میں لکھا کہ ’گاندھی وَدھ‘ پستول ہاتھ میں لینے اور گولی مار دینے جیسا معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک تاریخی اور حیرت انگیز واقعہ تھا۔ ایسے واقعات صدیوں میں کبھی کبھی ہوا کرتے ہیں۔

Nathuram Godse, Narayan Apte and others during the Gandhi murder trial  

Nathuram Godse, Narayan Apte and others during the Gandhi murder trial  

گاندھی کا قتل ہندوستانی قومیت سے متعلق دو نظریات کے درمیان جنگ کا نتیجہ تھا۔ گاندھی کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک ایسے آزاد ہندوستان کا خواب دیکھتے تھے جو سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہوگا اور جہاں مختلف مذاہب اور ذاتوں کے لوگ بغیر کسی تفریق کے رہیں گے۔ دوسری طرف گاندھی کے قاتلوں نے ہندو راشٹروادی تنظیموں، خصوصاً ونایک دامودر ساورکر کی قیادت والی ’ہندو مہاسبھا‘ میں سرگرم کردار نبھاتے ہوئے ہندوتوا کا سبق پڑھا تھا، وہ ہندو علیحدگی پسندی کے نظریہ کے مطابق صرف ہندو راشٹر کی تعمیر چاہتے تھے۔ ہندوتوا نظریہ کے بانی ساورکر نے اس کے اصولوں کا تذکرہ ’ہندوتوا‘ نامی کتاب (1923) میں کیا تھا۔ ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دینے والی یہ کتاب انگریز حکمرانوں نے ساورکر کو لکھنے کا موقع دیا تھا۔ وہ بھی اس وقت جب وہ جیل میں تھے اور ان پر کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی میں شامل ہونے پر پابندی تھی۔ اس کو سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں ہے کہ انگریزوں نے یہ چھوٹ کیوں دی تھی۔ انگریز حکمراں گاندھی کی قیادت میں چل رہی مشترکہ تحریک آزادی سے بہت پریشان تھے اور ایسے وقت میں ساورکر کا ’ہندو راشٹر‘ کا نعرہ حکمرانوں کے لیے آسمانی وَردان سے کم نہیں تھا۔

انھوں نے ہندوتوا کے اصولوں کی تشریح شروع کرتے ہوئے ہندوتوا اور ہندو مذہب میں فرق کیا۔ لیکن جب تک وہ ہندوتوا کی تعریف پوری کرتے دونوں کے درمیان فرق پوری طرح غائب ہو چکا تھا۔ ہندوتوا اور کچھ نہیں بلکہ سیاسی ہندو نظریہ بن گیا تھا۔ یہ ہندو علیحدگی پسندی کی شکل میں ابھر کر سامنے آ گیا۔ اپنی کتاب مکمل کرنے تک ساورکر ہندوتوا اور ہندو مذہب کا فرق پوری طرح بھول چکے تھے، جیسا کہ ہم یہاں دیکھیں گے۔ صرف ہندو ہندوستانی ملک کا حصہ تھا اور ہندو وہ تھا جو سندھ سے ساگر تک پھیلی ہوئی اس زمین کو اپنی آبائی زمین مانتا ہے، جو خونی رشتے کی نظر سے اسی عظیم نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ ملک کی ایسی تعریف کی وجہ سے ساورکر نے اخذ کیا تھا کہ عیسائی اور مسلمان طبقہ جن کی ایک بڑی آبادی کچھ پہلے تک ہندو تھی، ہم سے اس زمین پر مشترک ہونے کا دعویٰ کریں گے اور خود کو حقیقی ہندو خون ہونے کا دعویٰ کریں گے، لیکن انھیں ہندو کی شکل میں منظوری نہیں دی جاسکتی۔ ایسا اس لیے کہ نئے مذہب کو اختیار کر کے انھوں نے مجموعی طور پر ہندو تہذیب سے تعلق رکھنے کے دعویٰ سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ ہندوستانی ملک کی سب کو ساتھ لے کر چلنے والی سوچ کے برعکس تھا جس کے لیے گاندھی کا قتل کر دیا گیا۔ گاندھی کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ ساورکر کی ہندو راشٹروادی رَتھ یاترا کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے تھے۔

گاندھی کے قتل میں شامل مجرموں کے بارے میں آج چاہے جتنی بھی غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہوں لیکن ہندوستان کے پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل کا نظریہ بہت واضح تھا۔ وزیر داخلہ کے طور پر ان کا ماننا تھا کہ آر ایس ایس اور خصوصاً ساورکر کے ساتھ ساتھ ہندو مہاسبھا کا اس قتل میں براہ راست ہاتھ تھا۔ انھوں نے ہندو مہاسبھا کے سینئر لیڈر شیاما پرساد مکھرجی کو 18 جولائی 1948 کو لکھے خط میں بغیر کسی جھجک لکھا ہے کہ:

’’جہاں تک آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا کی بات ہے، قتل کا معاملہ عدالت میں ہے اور مجھے اس میں ان دونوں تنظیموں کی شراکت داری کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہیے۔ لیکن ہمیں ملی رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان دونوں اداروں کا خصوصاً آر ایس ایس کی سرگرمیوں سے ملک میں ایسا ماحول بنا کہ ایسا افسوسناک واقعہ سرزد ہو سکا۔ میرے دماغ میں کوئی اندیشہ نہیں کہ ہندو مہاسبھا کا شدت پسند طبقہ سازش میں شامل تھا۔‘‘

سردار پٹیل نے گاندھی کے قتل کے 8 مہینے بعد 19 ستمبر 1948 کو آر ایس ایس سربراہ ایم ایس گولوالکر کو سخت لفظوں میں لکھا:

’’ہندوؤں کو جمع کرنا، ان کی مدد کرنا ایک الگ معاملہ ہے، لیکن ان کی مصیبتوں کا بدلہ معصوم اور لاچار عورتوں، بچوں اور آدمیوں سے لینا دوسری بات ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کی مخالفت اس شدت سے کی گئی کہ نہ شخصیت کا خیال، نہ تہذیب اور اخلاق کا دھیان رکھا، عوام میں ایک طرح کی بے چینی پیدا کر دی تھی۔ ان کی سبھی تقریریں فرقہ وارانہ موضوع پر مبنی تھیں۔ ہندوؤں میں جوش پیدا کرنے کے نام پر ان کے درمیان زہر پھیلایا گیا۔ اس زہر کا نتیجہ آخر میں گاندھی جی کی بیش قیمت جان کی قربانی کی شکل میں بھگتنا پڑا۔ حکومت اور عوام کی ہمدردی آر ایس ایس کے ساتھ ہونا تو دور، بلکہ وہ ان کے خلاف ہو گئے۔ ان کے قتل پر آر ایس ایس والوں نے جو خوشی ظاہر کی تھی اور مٹھائی تقسیم کی اس سے یہ مخالفت مزید بڑھ گئی اور حکومت کو اس حالت میں آر ایس ایس کے خلاف کارروائی کرنا لازمی تھا۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ گاندھی جی کے قتل کی سازش تیار کرنے میں اہم کردار نبھانے والے ساورکر بری کر دیے گئے۔ مہاتما گاندھی قتل کیس میں دگمبر باگڑے کے بیان (کہ قتل کی سازش تیار کرنے میں ساورکر کا کردار اہم تھا) کے باوجود وہ اس لیے آزاد کر دیے گئے کیونکہ اس کے لیے کوئی پختہ ثبوت نہیں تھا۔ قانون کہتا ہے کہ سازش کو عدالت میں ثابت کرنا ہو تو اس کی تصدیق آزاد گواہوں کے ذریعہ کی جانی چاہیے۔ یقینا یہ ایک ناممکن کام ہوتا ہے کہ بہت ہی رازدارانہ طریقے سے تیار کی جا رہی سازش کا کوئی آزاد گواہ دستیاب ہو جائے۔ بہر حال قانون یہی تھا اور گاندھی کے قتل کیس میں ساورکر سزا پانے سے بچ گئے۔ بالکل اسی بنیاد پر اللہ بخش جنھوں نے مسلم لیگ کے پاکستان مطالبہ کے خلاف ملک کے مسلمانوں کی ایک بڑی تحریک 1940 میں کھڑی کی تھی، قتل کی سازش تیار کرنے والے سزا پانے سے بچ گئے۔ ان کا قتل 1943 میں کیا گیا تھا۔ حالانکہ یہ بات آج تک سمجھ سے عاری ہے کہ ذیلی عدالت جس نے ساورکر کو آزاد کیا تھا اس کے فیصلے کے خلاف سرکار نے ہائی کورٹ میں اپیل کیوں نہیں کی۔ ساورکر کے مہاتما گاندھی قتل معاملے میں شامل ہونے کے بارے میں جسٹس کپور کمیشن نے 1969 میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں صاف لکھا کہ وہ اس میں شامل تھے، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ساورکر کا 26 فروری 1966 کو انتقال ہو چکا تھا۔

یہ الگ بات ہے کہ ان سب کے باوجود ساورکر کی تصویریں مہاراشٹر اسمبلی اور ہندوستانی پارلیمنٹ کی دیواروں پر سجائی گئیں اور ملک کے حکمران لائن لگا کر ان تصویروں پر گلپوشی بھی کرتے ہیں۔ انہی گلیاروں میں ساورکر کی تصاویر کے ساتھ لٹکی شہید مہاتما گاندھی کی تصویروں پر کیا گزرتی ہوگی یہ کسی نے جاننے کی کوشش کی ہے؟

اس خوفناک سچائی کو فراموش کرنا مشکل ہے کہ ملک میں ہندوتوا سیاست کے عروج کے ساتھ گاندھی جی کے قتل پر خوشی منانا اور قاتلوں کی تعریف، انھیں بھگوان کا درجہ دینے کی بھی ایک منصوبہ بند مہم چلائی جا رہی ہے۔ گاندھی جی کے یومِ شہادت (30 جنوری) پر گوڈسے کی یاد میں جلسے کیے جاتے ہیں، جہاں ان کے مجسمے لگے ہیں وہاں پوجا کی جاتی ہے۔ گاندھی جی کے قتل کو ’وَدھ‘ (جس کا مطلب راکچھسوں کا قتل ہے) بتایا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ہندوتوا تنظیموں یا لوگوں کے ذریعہ ہی نہیں کی جا رہی ہے، مودی کے وزیر اعظم بننے کے کچھ ہی مہینوں میں آر ایس ایس/بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر ساکھی (جو ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں) نے گوڈسے کو حب الوطن قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ حالانکہ عالمی پیمانے پر ہوئی تنقید کے بعد انھیں اپنا یہ مطالبہ واپس لینا پڑا۔ لیکن اس طرح کی حیرت انگیز تجویز ہندوتوا حکمرانوں کی گوڈسے کے تئیں محبت کو ہی ظاہر کرتی ہے۔

اس سلسلے میں گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی تعریف کا سب سے شرمناک واقعہ جون 2013 میں گوا میں دیکھنے کو ملا۔ یہاں پر بی جے پی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ تھی جس میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو 2014 پارلیمانی انتخاب کے لیے وزیر اعظم عہدہ کا امیدوار منتخب کیا گیا۔ اسی دوران وہاں ہندوتوا تنظیم ’ہندو جن جاگرتی سمیتی‘ (جس پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا سنگین الزام ہے) کا ملک کو ’ہندو راشٹر‘ بنانے کے لیے آل انڈیا سمیلن بھی ہو رہا تھا۔ اس سمیلن کا افتتاح مودی کے مبارکبادی پیغام سے 7 جون 2013 کو ہوا۔ مودی نے اپنے پیغام میں اس تنظیم کو ’قومیت، حب الوطنی اور قوم کے تئیں خودسپردگی‘ کے لئے مبارکباد پیش کی۔ اسی اسٹیج سے 10 جون کو ہندوتوا تنظیموں، خصوصاً آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے مصنف کے وی سیتارمیا کی تقریر ہوئی۔ انھوں نے شروع میں ہی اعلان کیا کہ ’’گاندھی بھیانک غلط کار اور بہت زیادہ پاپی تھا۔‘‘ انھوں نے اپنی تقریر کا خاتمہ ان شرمناک الفاظ سے کیا کہ ’’جیسا کہ بھگوان شری کرشن نے کہا ہے (برے لوگوں کے خاتمہ کے لیے اچھے لوگوں کی حفاظت کے لئے اور مذہب کے قیام کے لیے) میں ہر دور میں پیدا ہوتا ہوں، 30 جنوری کی شام شری رام، ناتھو رام گوڈسے کی شکل میں آئے اور گاندھی کی زندگی کوختم کر دی۔‘‘

یاد رہے کہ آر ایس ایس کے نظریات کا حامی یہ وہی شخص ہے جس نے انگریزی میں ’گاندھی مذہب مخالف اور ملک مخالف تھا‘ عنوان سے کتاب بھی لکھی ہے جو گوڈسے کو تحفہ میں پیش کیا گیا ہے۔ شہید مہاتما گاندھی جنھوں نے ایک آزاد جمہوری ملک کا خواب دیکھا تھا اور اس عزم کے لیے انھیں جان بھی گنوانی پڑی تھی، ہندوتوا تنظیموں کے سیاسی عروج کے دور میں ایک راکچھس کی طرح پیش کیے جا رہے ہیں۔ ناتھو رام گوڈسے اور اس کے ساتھی اور دیگر مجرمین نے گاندھی جی کا قتل 30 جنوری 1948 کو کیا تھا لیکن 70 سال کے بعد بھی ان کے ’وَدھ‘ کا جشن جاری ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ’ہندتوا ٹولی‘ گاندھی جی سے کتنا خوف کھاتی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول