حکومت طلاقِ ثلاثہ قانون سے آدھی توجہ بھی موب لنچنگ روکنے پر کرتی تو ملک کو بڑا فائدہ ہوتا

بی جے پی نے جتنی محنت اور توجہ طلاق ثلاثہ بل پاس کرانے پر دی، اس کی آدھی محنت اور توجہ موب لنچنگ اور ملک سے فرقہ وارانہ نفرت کو کم کرنے میں کرتے تو ملک اور بذات خود ان کو زیاہ فائدہ ہوتا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

سید خرم رضا

طلاق ثلاثہ بل بالآخر ایوان سے منظور ہو گیا ہے اور اب صدر جمہوریہ ہند کے دستخط کے بعد ایک ساتھ تین طلاق دینے والا شوہر جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا جائے گا۔ مودی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں قانون سازی کے لئے اگر سب سے زیادہ کسی قانون پر محنت کی ہے تو وہ طلاق ثلاثہ کا قانون ہے۔ اگر کسی چیز کے لئے شدت کی لگن ہو اور اس کے لئے زبردست محنت شامل ہو تو پھر دیر سے ہی صحیح مگر کامیابی ضرور ملتی ہے۔ اس بل کے دونوں ایوان سے منظور ہو جانے سے مودی کی قیادت والی اور آر ایس ایس کی سرپرستی میں چلنے والی بی جے پی حکومت کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی کو خالی بی جے پی کی کامیابی کہنا شائد غلط ہوگا بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اس میں بی جے پی سے زیادہ اقلیتوں اور حزب اختلاف کو کامیابی ملی ہے۔

دراصل بی جے پی کو یہ ضرور لگ رہا ہوگا کہ اس نے طلاق ثلاثہ کو مجرمانہ فعل قرار دے کر بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے، اس کے بعد مسلمان منقسم ہو جائیں گے اور ایک طبقہ خاص طور سے مسلم خواتین کا ایک حصہ بی جے پی کا حامی ہو جائے گا۔ ان کی حکمت عملی کے حساب سے اس طبقہ کے بی جے پی کی حمایت میں آنے سے بی جے پی کا اپنا کٹر حامی بھی ناراض نہیں ہوگا۔ دوسرا بی جے پی کو یہ لگتا ہے کہ اس کے بعد اکثریتی طبقہ کا ایک بڑا حصہ اس کو اپنی کامیابی اور اقلیتوں کی شکست کی شکل میں دیکھے گا۔ جہاں تک مسلمانوں کے ایک طبقہ کا اس مدے کی وجہ سے بی جے پی کی حمایت کرنے کا سوال ہے تو وہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ مسلمانوں کے خلاف ہو رہے موب لنچنگ کے واقعات نے بی جے پی کے لئے پہلے سے موجود نفرت میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ ان کی طرف سے کوئی بھی اٹھایا گیا قدم اقلیتوں کو ان کی جانب راغب نہیں کر سکتا۔ رہی دوسری بات کہ اکثریتی طبقہ اس کو اقلیتوں کی شکست اور اپنی جیت کے طور پر لے گا یہ کافی حد تک صحیح ہے لیکن یہ بھی کچھ دنوں تک ہی رہے گا۔ کیونکہ جیسے ہی یہ مدا میڈیا سے غائب ہوگا کامیابی اور شکست کا احساس ختم ہو جائے گا اور بہت ممکن ہے کہ کچھ دنوں بعد یہ سوال کھڑا ہونے لگے کہ کیا یہ مدا اتنا ہی اہم تھا۔

اس بل کو لے کر بی جے پی کی کامیابی پر تو مہر نہیں لگائی جاسکتی، لیکن مسلمانوں اور حزب اختلاف کے لئے ضرور کامیابی کہی جا سکتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ بل اس لئے کامیابی کی علامت ہے کیونکہ وہ طلاق ثلاثہ سے پریشان تھے اور اصلاح کی کوششیں جاری تھیں لیکن آپسی اختلافات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔ مودی کی قیادت والی حکومت کے ذریعہ یہ کام انجام دیئے جانے سے تمام آپسی اختلافات ہونے کے باوجود بغیر لب کشائی کے اس کو قبول کر لیا گیا۔ اس معاملہ کو چونکہ بی جے پی نے انجام دیا ہے اس لئے اس تعلق سے بی جے پی سے جو نفرت ہے اس کو برقرار رکھنے اور کسی حد تک بڑھانے میں اس طلاق ثلاثہ بل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ مسلمانوں کی کامیابی اس لئے بھی ہے کیونکہ ان کی مرضی کی اصلاح ہوگئی اور ایسا کرنے میں فرقہ پرست قوتوں سے نفرت میں بھی کمی نہیں آئی۔

تین طلاق بل کی منظوری کو حزب اختلاف کی کامیابی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہ اگر ایسی کوشش اصلاح کے لئے کرتی تو اس کا حال وہی ہوتا جو شاہ بانو کیس میں ہوا تھا۔ اب اس کی نظر میں اصلاح بھی ہو گئی اور اس کا ووٹر ان سے ناراض بھی نہیں ہوا کیونکہ اصلاح کے تعلق سے ساری ناراضگی بی جے پی کے کھاتے میں گئی۔ بی جے پی سے اس ناراضگی کے بڑھنے کی وجہ اس فعل کو مجرمانہ قرار دینا ہے۔

کس کی کامیابی اور کس کی کم کامیابی کی بات دیگر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس اصلاح کی ضرورت تھی لیکن بی جے پی نے اس اصلاح میں جو فریقین سے بات کیے بغیر نفرت کے عنصر کو شامل رکھتے ہوئے اس کو سیاست کا شکار بنایا اس سے اسے کم کامیابی ملی اور دوسروں کو بغیر محنت کیے زیادہ کامیابی مل گئی۔ بی جے پی نے جتنی محنت اور توجہ طلاق ثلاثہ بل پاس کرانے پر دی، اس کی آدھی محنت اور توجہ موب لنچنگ اور ملک سے فرقہ وارانہ نفرت کو کم کرنے میں کرتے تو ملک اور بذات خود ان کو زیاہ فائدہ ہوتا۔

Published: 31 Jul 2019, 3:10 PM