’خون میں بی جے پی تھی پر اب کانگریس کو ووٹ دونگا‘: گجراتی نوجوان

باتون آٹو والا بولا ، ’’ میں نے زندگی میں کبھی کانگریس کو ووٹ نہیں دیا، ہمیشہ بی جے پی کو ووٹ دیتا رہا ہوں لیکن اس بار کانگریس کو ووٹ دوں گا۔‘‘

میں احمد آباد آیا ہوا تھا۔ میں نے آٹو والے سے پوچھا کہ اس بار کون جیت رہا ہے۔ تپاک سے جواب ملا، کانگریس۔ اتنا ہی نہیں تھوڑا باتون آٹو والا بولا ، ’’ میں نے زندگی میں کبھی کانگریس کو ووٹ نہیں دیا، ہمیشہ بی جے پی کو ووٹ دیتا رہا ہوں لیکن اس بار کانگریس کو ووٹ دوں گا۔‘‘

مجھے تھوڑا تعجب ہوا اور میں نے آٹو والے کی سیدھی باتوں پر یقین نہیں کیا کیوں کہ کچھ دن پہلے ہی گجرات دورے پر جب میں آیا تھا تو اس کا الٹا ہی سننے کو ملا تھا۔ میں نے سوچا ، ہو سکتا ہے آٹو والا مسلمان ہو یا پھر میرے بات کرنے کے لہجہ سے اندازہ لگا کر یوں ہی اس نے ایسا بول دیا ہو۔ سروے کرنے کا میرا تجربہ کہتا ہے کہ جواب کو ہمیشہ احتیاط سے تولنا چاہئے۔

اسی طرح میں کئی علاقوں میں گھوما، طرح طرح کے لوگوں کے ساتھ وقت بتایا۔ جلد ہی میرے ذہن میں ایک سوال گونجنے لگا کہ کیا گجرات میں بی جے پی کے خلاف زبردست غصے کی لہر چل رہی ہے؟ یا پھر میں کچھ زیادہ ہی پر امید ہو رہا ہوں؟ کیا میں وہی دیکھ اور سن رہا ہوں جو میں خود بھی چاہتا ہوں؟ کیا میں وہی لکھ رہا ہوں جو لکھنا چاہتا ہوں یا پھر گجرات بدل رہا ہے؟ ان سوالات کے جواب ابھی تک میرے پاس نہیں ہیں لیکن دو واقعات ایسے ہیں جن کا ذکر کرنا ضروری ہے۔

میں دراصل اپنے کچھ دوستوں کی مدد کرنے کے لئے گجرات آیا تھا ، جنہوں نے ’لوک شاہی بچاؤ آندولن‘ کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنایا ہے۔ میری ذمہ داری تھی کہ میں پلیٹ فارم کے لئے مواد جمع کروں اور اسٹریٹ میٹنگوں سے خطاب کروں۔

ایک شام میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ چلو کافی پیتے ہیں۔ چونکہ میں دو دنوں سے دفتر کے اندر بیٹھ کر ہی کام کر رہا تھا تو یہ بہانہ بھی تھا کہ کچھ تازہ ہوا کا مزہ لیا جائے۔ چونکہ کافی دیر ہو چکی تھی اس لئے زیادہ تر کافی شاف بند ہو چکی تھیں۔ لیکن سڑک کنارے لگنے والے ڈھابے پر رونک تھی اور وہ رنگ برنگی روشنی سے جگمگا رہے تھے۔ ہم نے ایک ایسے ہی ڈھابے پر رکنے کا فیصلہ کیا کہ چلو چائے ہی پی لی جائے۔

اس ڈھابے پر کئی لوگ جو گروپ میں کچھ دو چار پائیوں یا کھاٹ پر بیٹھے تھے۔ ایک شور سا تھا وہاں گویا شام ڈھلنے کے بعد پرندے اپنے گھروندوں کو واپس لوٹ چکے ہوں اور چہک رہے ہوں۔ میرے دوست بھرت اور دیو ان لوگوں میں سے کسی نہ کسی کو جانتے تھے۔ میں اپنے دوستوں کی مقبولیت سے متاثر ہوا۔ ہاتھ ملانے اور ہائے ہیلو کے بعد ہم بھی ایک ایسے ہی گروپ میں بیٹھ گئے۔ مجھے پتہ چلا کہ جس گروپ میں ہم بیٹھے تھے اس میں زیادہ تررسوخ دار پاٹیدار تھے۔

رفتہ رفتہ بات چیت کا رخ سیاست کی طرف آ گیا۔ وہ سارے کے سارے بی جی پی مخالف نظر آ ئے۔ وہ کافی غصہ میں تھے اور پاٹیدار تحریک سے جذباتی طور سے جڑے ہوئے تھے۔ وہ سب چاہتے تھے کہ اس بار کانگریس جیتے جس سے موجودہ گجرات حکومت کو سبق سکھایا جا سکے۔ جیسا کہ ایسی میٹنگوں میں ہوتا ہے، بات چیت کے دوران نا زیبا الفاظ کا استعمال بھی ہو رہا تھا۔ میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ مجھے گجراتی نہیں آتی لیکن جب جب وہ جذباتی ہوتے خود بخود ان کی زبان سے گجراتی الفاظ ہی نکلتے۔ اورجب جذبات تھوڑا ٹھہرتے تو بات چیت پھر ہندی میں شروع ہوجاتی۔ چائے کی چسکیان لیتے ہوئے میں اس ہندی گجراتی گفتگو سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

بات کرتے کرتے جب بھی معاملہ زیادہ جذباتی ہو جاتا تو سبھی ایک ساتھ گجراتی میں زور زور سے بولنے لگتے۔ مجھے جوبھی تھوڑی بہت سمجھ آ رہی تھی اس کا لب و لباب یہ تھا کہ کانگریس کے کردار پر ان کی پینی نظر ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ کانگریس نے تشہیر کاری میں ابھی پورا زور نہیں لگایا ہے۔

یکایک گرماگرم بحث چھوڑ کر تقریباً 35 سالہ ایک پاٹیدار نوجوان سیدھے مجھ سے بات کرنے لگا۔ گجراتی لہجے میں ہندی بولتے ہوئے اس نے کہا ’’سر، میں نے اور میرے خاندان نے ہمیشہ بی جے پی کو ووٹ دیا۔ میں کسی اور کو ووٹ دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ پہلی بار میں پارٹی کے خلاف ووٹ کروں گا۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ عادتاً میری انگلی پھول کے بٹن پر ہی جائے گی۔ لیکن میں خود پر جبرکرکے کانگریس کا بٹن دباؤن گا۔‘‘

2002 میں جب بی جے پی اور آر ایس ایس نے گجرات میں کھلے عام قتل عام کیا اور لوگوں کو گھروں میں زندہ جلایا اس وقت یہ نوجوان بمشکل 20 سال کا رہا ہوگا۔ کیا یہ بدل گیا ہے یا صرف بی جے پی، آر ایس ایس سے غصہ بھر ہے؟ میں اس سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں جٹا پایا۔

ایک اور واقعہ کا ذکر کرتا ہوں جو پٹرول پمپ پر پیش آیا۔ ایک دن دیو مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا کر لنچ کے لئے لے گیا۔ ریستوراں کے راستے میں وہ پٹرول لینے کے لئے ایک پٹرول پمپ پر رکا۔ لمبی لائن نہیں تھی، محض پانچ چھ موٹر سائیکلیں ہی ہم سے آگے تھیں۔ دیو نے میرے ساتھ پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں پر بات چیت شروع کر دی۔ ایسا اس نے جان بوجھ کر کیا۔ بات چیت ہندی میں ہو رہی تھی۔ اس نے قیمتوں پر مذاق کیا اور لائن میں لگے دوسرے لوگ مسکرانے لگے۔ جب ہمارا نمبر آیا تو پٹرول پمپ والے سے پوچھا کہ آج کیا ریٹ ہے۔ پٹرول پمپ والا بھڑک گیا اور بی جے پی اور حکومت کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ زور زور سے بولتے ہوئے اس نے مودی، امبانی، اڈانی سب کا نام لے لیا۔ اس نے کھلے عام گالیوں کا استعمال کیا۔ اس سے میں نہ صرف چونک گیا بلکہ تھوڑا ڈر بھی گیا۔ کچھ سال پہلے تک ایسی باتیں کسی نے کہی ہوتیں تو فساد بھڑک گیا ہوتا۔ اور کچھ نہ صحیح تو کم از کم پمپ کو تو آگ لگا ہی دی گئی ہوتی۔ مجھے آج تک یاد ہے جب میرے بیٹے نے شبنم سے پوچھا تھا کہ’’ابو کہاں ہیں؟‘‘ اتنا سنتے ہی جس دکان پر ہم بیٹھے تھے اس کے مالک نے لوگوں کو بتانا شروع کر دیا کہ ایک مسلم خاندان علاقے میں گھوم رہا ہے۔ ہم گھبرا کر اپنی کار کی طرف دوڑے اوروہاں سے نکل لئے تھے۔

گجرات اب آگے بڑھ چکا ہے۔ میں جب گجرات آتا ہوں تو مجھے مار چ 2002 یاد ضرورآ جاتا ہے۔ پرانی یادیں تازہ ہونے پر تکلیف ہوتی ہے۔ فسادات کے بعد پورا شہر سانحہ سے دو چار رہا ہے۔ ہندو اکثریتی علاقوں سے مسلمانوں کو کھدیڑ دیا گیا تھا۔ لوگ راتوں میں سو نہیں پاتے تھے۔ چوکیدار ی انہیں جگائے رکھتی تھی۔ آر ایس ایس کی طرف سے اڑائی جانے والی افواہوں کا بازار گرم تھا۔

میرا ہمیشہ سے ماننا رہا ہے کہ فاسسٹ طاقتوں کا آخری مقصد اقلیتی طبقہ میں ڈر کا ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اقلیتوں پر حملے تو صرف شروعاتی قدم ہوتے ہیں۔ گجرات میں جو کچھ ہوا تھا اس سے یہ بات ثابت ہوئی تھی۔ آر ایس ایس نے لوگوں کو مارنے اور زندہ جلانے کے لئے جن نوجوانوں کا استعمال کیا تھا وہ دوسری طرف سے ہونے والے جوابی حملوں سے خوفزدہ رہتے تھے۔ آر ایس ایس نے خوف کی بھٹی کو دہکائے رکھا تھا۔ وہ لگاتار اس بات کو عام کرتے رہے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آ گئی تو سب پکڑے جائیں گے اور انہیں جیلوں میں ڈال کر پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔

اس خوف کو کم ہونے میں 15 سال کا وقت لگا ہے۔ فرقہ پرستی اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو باٹنے والی لکیر دھندھلی پڑنے لگی ہے۔ اس کی دو وجوہات نظر آتی ہیں۔ پہلی، قیمتوں میں اضافہ، تعلیم اور صحت خدمات کی نجکاری۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے غریبی کے حالات میں پہنچے لوگوں کی تکلیف۔ اور دوسری وجہ ہے کہ ای وی ایم سے بھروسہ اٹھنے کے باوجود انہیں لگتا ہے کہ وہ بی جے پی کی گجرات حکومت کو سبق سکھا سکتے ہیں۔ غریبی اور مخالفت آج بھی ایک دوسرے سے جڑنے والے مدے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ چناؤ کا کیا نتیجہ ہوگا لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے خلاف ایک لہر گجرات میں ضرور نظر آ رہی ہے۔

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔   

سب سے زیادہ مقبول