واہ بی جے پی! لال قلعہ کا انتظام ڈالمیا گروپ دیکھے اور ’ہیڈگیوار مندر‘ کو حکومت

لوگ سوال کر رہے ہیں کہ ناگپور کے ریشم باغ علاقے میں موجود 78 سال قدیم ’ہیڈگیوار اسمرتی مندر‘میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے کہ اسے بی جے پی حکومت نے سیاحتی مقام کا درجہ دیا؟

زیادہ دن نہیں ہوئے جب مودی حکومت نے سیاحوں کے درمیان مقبول، تاریخی اہمیت کی حامل مغل عمارت لال قلعہ کو ’انتظام‘ کے نام پر ڈالمیا انڈیا گروپ کے سپرد کر دیا تھا۔ اب مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت نے ہیڈگیوار اسمرتی مندر کو سیاحتی مقام کا درجہ دے دیا ہے۔

یعنی مودی حکومت جہاں ایک طرف ہندوستان کی تحریک آزادی میں اہم مقام رکھنےوالے لال قلعہ جیسی عالمی شہرت یافتہ عمارت کو نجی ہاتھوں میں سونپ کر اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ گئی ، وہیں دوسری طرف تحریک آزادی میں انگریزوں کے لیے بھرتی مہم چلانے والی آر ایس ایس سے جڑی عمارتوں کے رکھ رکھاؤ کا ذمہ لے رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت نے لال قلعہ کو ڈالمیا انڈیا گروپ کو سونپنے والے سمجھوتے پر 13 اپریل کو دستخط کر دیئے ہیں ۔ اس کے تین دن بعد ہی ناگپور میں موجود ہیڈگیوار اسمرتی مندر کو بی جے پی حکومت نے سیاحتی مقام میں درجہ ’الف‘ دیا۔ ہیڈگیوار اسمرتی مندر کو سیاحتی مقام کا درجہ دینے کا مطلب ہے کہ اب اس عمارت کی دیکھ ریکھ، انتظام، از سر نو تعمیر سب کچھ حکومت کے خزانے سے کیا جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ ناگپور کے ریشم باغ علاقے میں موجود 78 سال قدیم اس عمارت میں ایسا کیا خاص ہے کہ اسے بی جے پی حکومت نے سیاحتی مقام کا درجہ دیا؟ جواب ہے کہ یہ عمارت بی جے پی کی آبائی تنظیم آر ایس ایس کے بانی ڈاکٹر کیشو رام بلی رام ہیڈگیوار کی یادوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس عمارت کے احاطہ میں تین طرف سے کھلے ہوئے ایک مندر کے نیچے ہیڈگیوار کی قد آدم مورتی لگائی گئی ہے۔

بی جے پی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت بھی شروع ہو گئی ہے۔ ناگپور کے رہنے والے سماجی کارکن موہنیش جبل پورے نے اس معاملے میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سمیت مہاراشٹر کے چیف سکریٹری اور ناگپور کے پولس کمشنر کو خط لکھ کر ہیڈگیوار اسمرتی مندر سے سیاحتی مقام کا درجہ چھینے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک آزادی کے دوران آر ایس ایس کے منفی کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے جبل پورے نے کہا ہے کہ سماج میں نفرت کا بیج بونے والے آر ایس ایس سے منسلک کسی بھی عمارت کو آخر سیاحتی مقام کا درجہ کیوں دیا گیا؟

موہنیش جبل پورے کا دعویٰ ہے کہ ہیڈگیوار اسمرتی مندر میں سیاحتی مقام کا درجہ اس لیے دیا گیا کیونکہ بی جے پی کی حکومت آنے والی نسلوں کو غلط تاریخ پڑھانا چاہتی ہے۔ ’قومی آواز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’جب سارا ملک آزادی کی لڑائی لڑ رہا تھا تب ہیڈگیوار نے سماج میں ذاتیات کا بیج بویا۔ آر ایس ایس کا نظریہ ہر مذہب کی بے عزتی کرنے کا رہا ہے پھر چاہے وہ سکھ مذہب ہو، اسلام ہو یا پھر عیسائیت۔‘‘

کچھ تحقیق کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ ہیڈگیوار اسمرتی مندر کو سیاحتی مقام کا درجہ دینے کی تجویز مہاراشٹر سیاحتی ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ٹی ڈی سی) کی جانب سے پیش کیا گیا تھا جسے ضلع پلاننگ کمیشن نے فوری اثر سے نافذ کر دیا۔ ناگپور کے ہی رہنے والے ایڈووکیٹ ستیش اوئیکے کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ اسمرتی مندر کو سیاحتی مقام کا درجہ ملنے کے بعد سرکاری خزانے سے اس کی ترقی کرنے کا راستہ صاف ہو گیا۔ اب نہ صرف بی جے پی کے قبضے والا ناگپور میونسپل کارپوریشن (این ایم سی) بلکہ ریاست کی بی جے پی حکومت اور مرکز سے بھی اس کی ’ترقی‘ کے لیے پیسہ بھیجا جائے گا۔ ’قومی آواز‘ سے بات چیت میں اوئیکے نے کہا کہ ’’عوام کے ٹیکس کے پیسے سے اس کا انتظام کیا جائے گا، ملازمین کو تنخواہ دی جائے گی جب کہ یہاں بی جے پی-آر ایس ایس کے لیڈروں کے علاوہ کوئی نہیں آتا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ہیڈگیوار اسمرتی مندر کو سیاحتی مقام کا درجہ دینے سے قبل ایم ٹی ڈی سی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس مندر کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں عام لوگ آتے ہیں۔ خاص طور سے وجے دَشمی کے دوران لاکھوں کی تعداد میں لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں۔ حالانکہ ائیکے اور جبل پورے کا دعویٰ ہے کہ سیاحتی مقام کا درجہ دینے کے لیے یہ دلیل کافی نہیں ہے۔

ناگپور کی مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ این ایم سی نے اسمرتی بھون اور آر ایس ایس سے ہی جڑے بالا صاحب دیورس کی یادوں کو سمیٹے ہوئے بالا صاحب دیورس پتھ تریوینی اسمارک کی ’ترقی‘ کے لیے تین کروڑ کا بجٹ طے کیا ہے۔ اس رقم میں سے 1.7 کروڑ صرف اور صرف ہیڈگیوار اسمرتی مندر کی ’ترقی‘ کے لیے خرچ کیا جائے گا۔

ہیڈگیوار اسمرتی مندر کو سیاحتی مقام کا درجہ دیے جانے کا مطالبہ سب سے پہلے ناگپور بی جے پی نائب صدر بھوشن داڈوے نے 2015 میں کیا تھا۔ اس کے بعد ہی ایم ٹی ڈی سی نے ایک تجویز تیار کی اور اسے ضلع ترقیاتی کمیٹی کے پاس منظوری کے لیے بھیجا تھا۔

جبل پورے کے مطابق ناگپور کے کلکٹر سچن کروے نے مزید دلچسپی لیتے ہوئے اس سلسلے میں جلد سے جلد فیصلہ کیا۔ جبل پورے کے مطابق کُروے کے بی جے پی اور آر ایس ایس سے گہرے تعلقات ہیں۔ آر ایس ایس کی سفارش پر ہی کُروے کو ان کے آبائی ضلع ناگپور میں منتقل کیا تھا جب کہ آبائی ضلع میں کسی آئی اے ایس کی تعیناتی کم ہی کی جاتی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول