آر بی آئی میں بھی مرکزی حکومت کی مداخلت، گورنر اُرجت پٹیل ناراض

سی بی آئی میں ہنگامہ برپا کرنے کے بعد مرکزی حکومت نے ایک دیگر ادارہ میں رسہ کشی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ در اصل آر بی آئی نے مرکزی حکومت کی کٹھ پتلی بننے سے انکار کر دیا ہے جس سے مرکز حیران ہے۔

سی بی آئی کے بعد ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) اور مرکزی حکومت کی رسہ کشی بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ کئی پالیسی پر مبنی فیصلوں میں حکومتی مداخلت آر بی آئی کو پسند نہیں آئی جس کے سبب اب حالات حکومت اور آر بی آئی گورنر کے درمیان تلخ کلامی تک پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات ایسے ہیں کہ آر بی آئی گورنر اُرجیت پٹیل اب حکومت میں کسی سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتے ہیں۔

ایک اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ آر بی آئی اور حکومت کے درمیان نااتفاقی کی شروعات دراصل اس وقت ہوئی جب حکومت نے دو ماہ قبل رائٹ وِنگ نظریات سے تعلق رکھنے والے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی کہے جانے والے ایس گرومورتی کو ریزرو بینک آف انڈیا میں جز وقتی ڈائریکٹر بنایا۔ مانا جاتا ہے کہ نومبر 2016 میں ہوئی نوٹ بندی کے فیصلے میں بھی دماغ ایس گرو مورتی کا ہی تھا۔ غور طلب ہے کہ اُرجت پٹیل کو آر بی آئی کا گورنر بنائے جانے کے تین ماہ کے اندر ہی حکومت نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا۔

دراصل ریزرو بینک اور مرکزی حکومت کے درمیان ناراضگی یوں ہی نہیں بڑھی۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال یعنی 2018 میں ہی کم از کم نصف درجن پالیسی پر مبنی ایشوز پر بینک اور حکومت کی نااتفاقی ابھر کر سامنے آ گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ آر بی آئی سے حکومت کی ناراضگی اس لیے ہے کہ وہ مہنگائی در پر نظر رکھتے ہوئے شرح سود میں تخفیف کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ نیرو مودی کی دھوکہ بازی سامنے آنے کے بعد بھی حکومت اور ریزرو بینک کے درمیان کشیدگی کے حالات پیدا ہوئے تھے۔

اس گھوٹالے کا پردہ فاش ہونے پر جب حکومت نے سارا قصور آر بی آئی کے سر ڈالنا شروع کیا تھا تو گورنر اُرجت پٹیل نے صاف پیغام دیا تھا کہ سرکاری بینکوں پر نظر رکھنے کے لیے آر بی آئی کے پاس مزید اختیارات اور طاقت ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ریزرو بینک نے جب این پی اے سے متعلق سرکلر جاری کیا تو حکومت کی بھنویں تن گئی تھیں کیونکہ اس کے مطابق اس سرکلر میں آر بی آئی نے کافی سخت رخ اختیار کیا تھا۔

لیکن آر بی آئی اور مرکزی حکومت کے رشتے دھماکہ خیز حالت میں اس وقت پہنچ گئے جب حکومت نے سودیشی جاگرن منچ کے خط میں کی گئی سفارش پر بینک کے بورڈ سے نچیکیت مور کو ان کی مدت کار ختم ہونے سے دو سال پہلے ہی ہٹا دیا۔ نچیکیت مور کئی محاذ پر حکومت کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ حکومت نے انھیں بورڈ سے ہٹانے سے پہلے گورنر اُرجت پٹیل سے صلاح مشورہ بھی نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد اگست ماہ میں حکومت نے سودیشی جاگرن منچ سے جڑے ایس گرومورتی کو ریزرو بینک کا جز وقتی ڈائریکٹر تقرر کردیا تھا۔

ریزرو بینک میں تقرری ہونے سے قبل تک گرومورتی آر بی آئی کی پالیسیوں کی تنقید کرتے رہے ہیں۔ اسی سال جولائی میں انھوں نے ایک ٹوئٹ کیا تھا کہ ’’ہندوستان کے سنٹرلائز حل تلاش کرنے کے بجائے آر بی آئی عالمی نظریات کے تحت کام کر رہا ہے۔ ایسا کر کے رگھو رام راجن نے آر بی آئی کی آزادی کو نقصان پہنچایا ہے۔ آر بی آئی اب اس لائن سے ہٹ نہیں سکے گا کیونکہ اسے عالمی معیشت کی سمت سے الگ ہونے کا خوف رہے گا۔ آر بی آئی نے ہندوستان کے لیے سوچنے کی اپنی صلاحیت ختم کر دی ہے۔‘‘ اس طرح کا ٹوئٹ کرنے کے ایک ماہ بعد ہی حکومت نے انھیں آر بی اائی کے بورڈ میں شامل کر دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت کی طرف سے گرومورتی کو یہ پیغام ملا ہے کہ ان کا کام آر بی آئی کے کام پر نظر رکھنا ہے، ایسے میں وہ اپنے اختیارات کا استعمال کر بینک کے پالیسی پر مبنی معاملوں میں دخل دے رہے ہیں۔

ایسی ہی حالت کے بارے میں ریزرو بینک کے ڈپٹی گورنر ورل آچاریہ نے جمعہ کو ایک لیکچر میں آر بی آئی کے کام میں سرکاری مداخلت کا ایشو اٹھایا تھا۔ انھوں نے آر بی آئی کی آزادی کو لے کر فکرمندی ظاہر کی تھی۔ ورل نے کہا تھا کہ آر بی آئی کی آزادی پر چوٹ کسی کے حق میں نہیں ہوگا۔ دھیان رہے کہ ورل آچاریہ کی تقرری گورنر اُرجت پٹیل نے کی تھی۔

ریزرو بینک اور حکومت کے رشتوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ سنٹرل بینک اور مرکزی حکومت کے درمیان کی رسہ کشی کا اثر موجودہ گورنر اُرجت پٹیل کے مستقبل پر بھی پڑے گا۔ اُرجت پٹیل کی تین سال کی مدت کار آئندہ سال ستمبر میں مکمل ہو رہی ہے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ پٹیل کی خدمات میں اضافہ کی بات تو دور، وہ اپنی باقی مدت کار بھی مکمل کر پائیں گے، اس میں بھی اندیشہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ارجت پٹیل کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے اس رخ کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں انھوں نے حکومت سے سیدھے ٹکرانے کا غالباً ذہن تیار کر لیا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول