ذرا شرم کرو سَرکار!... نواب اختر

آج اگرحکومت کے خلاف ملک کے عوام سراپا احتجاج ہیں تو حکومت کو ان کے مسائل کا تصفیہ اور ان کا اعتماد بحال کر کرنا چاہیے، انہیں گالی دینے، غدار ثابت کرنے اور دہشت گردوں کا حامی کہنے سے باز آنا چاہیے

شاہین باغ خاتون مظاہرے کا منظر / تصویر بشکریہ ہمانی سنگھ
شاہین باغ خاتون مظاہرے کا منظر / تصویر بشکریہ ہمانی سنگھ
user

نواب علی اختر

دنیا کے تقریباً سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کے نظریات اور خیالات واضح ہیں اور یہ سبھی پارٹیاں ہر الیکشن میں علی الاعلان اپنے نظریات پیش کر کے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ہی سماج میں امن وہم آہنگی کو تقویت پہنچانے کے لئے ووٹ کا مطالبہ کرتی ہیں مگر ان سب کے درمیان بی جے پی ایک ایسی واحد پارٹی ہے جو بظاہراپنے نظریات کو لے کرخود ہی تذبذب کا شکار ہے یا دانستہ طور پر اپنے باطل نظریات کوعوام کے سامنے ظاہر کرنے سے ڈرتی ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان سیکولر اور جمہوری ملک ہے جسے قوم پرستی کی آگ میں جھونکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ اس ملک کے خمیر میں مہاتما گاندھی، اشفاق اللہ خان، بھگت سنگھ جیسے سپوتوں کا خون ہے جنہوں نے ہنستے ہوئے پھانسی کے پھندے کو گلے لگا لیا مگر تقسیم کی سازش کرنے والوں کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا۔

ذرا شرم کرو سَرکار!... نواب اختر

اب اگرکوئی تقسیم کی سیاست کرتا ہے تو اسے ہرگز ’راشٹر بھگت‘ نہیں کہا جائے گا بلکہ اصل غدار وہی ہے جسے اس ملک کا تنوع ناگوار گزر رہا ہے اور کسی بھی طرح وہ اپنے خفیہ ایجنڈے کوعملی جامہ پہنانے کے لئے بے چین ہے۔ اقتدارکے لئے سالوں تک دردر کی ٹھوکریں کھانے والی بی جے پی کو جب اقتدار نصیب ہوا تب اس کے خفیہ ایجنڈے دھیرے دھیرے سامنے آنے شروع ہوئے۔ اس کڑی میں سب سے پہلے تین طلاق پر حملہ بولا گیا، پھر بابری مسجد کی تاریخ مٹانے کی کوشش کی گئی، کشمیر سے وہ حق چھین لیا جہاں مسلمان وزیراعلیٰ ہوسکتا تھا اور اب سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے بہانے اقلیتوں سے نفرت کا کھلا اظہار کیا جارہا ہے۔ بی جے پی حکومت کو بے روزگاری، مہنگائی، جی ڈی پی کی کوئی فکرنہیں ہے اسے تو بس ’راشٹربھگتی‘ کا دلدل پسند ہے اور اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو کچل دیا جائے گا۔

شرم آنی چاہیے ایسی سرکاروں اور ان کے رہنماوں کو جو اپنے باطل نظریات کو مسلط کرنے کے لئے پرامن مظاہرین کی آواز کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی جمہوری ملک کی بنیاد حزب اختلاف ہوتی ہے لیکن ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں کو اپوزیشن گوارا نہیں ہے۔ اگرایسا ہے تو مخالفین کو پسند نہ کرنے والے حکمران ہٹلر کے نقش قدم پرچل رہے ہیں لیکن یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ ہٹلرکی تقلید انہیں قصہ پارینہ بنا دے گی کیونکہ ہٹلر کا حشر آج سب کے سامنے ہے۔ اس لئے آج اگرحکومت کے قابل اعتراض اقدامات کے خلاف ملک کے عوام سراپا احتجاج ہیں تومعترضین کے مسائل کا تصفیہ کرنے اور اقتدار کے حوالے سے ان کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اور انہیں گالی دینے، غدار ثابت کرنے اور دہشت گردوں کا حامی کہنے سے باز آنا چاہیے۔ حالانکہ یہ سب کرپانا بی جے پی کے لئے مشکل ہے کیونکہ اس کا مقصد ہی اقلیتوں کی منفی تصویر پیش کرکے اکثریت کوخوش رکھنا ہے تاکہ سیکولر ووٹ تقسیم ہوجائے اورفرقہ پرستوں کی ٹولی متحد ہوکر اپنے نام نہاد آقاوں کو مسند اقتدار پر پہنچا دے۔

یہ تمام باتیں چند روز میں ہی پیدا ہوئی ہیں جس کی وجہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب تک یہی مشہور ہے کہ جب ملک یا کسی ریاست میں الیکشن ہوتا ہے تو وطن عزیز کا سیکولر تانہ بانہ تار تار کرنا عام بات ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے حالات پرغورکیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے دہلی اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے بی جے پی کسی بھی حد تک گرنے کے لئے تیار ہے۔ اس کے لئے شہریت ترمیمی قانون، این پی آر اور این آر سی کے خلاف جاری احتجاج کا استحصال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک کے کونے کونے میں عوام اس قانون کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس سے بھگوا برگیڈ کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں۔

دہلی کا شاہین باغ اس احتجاج کے لئے ہندوستان بھر میں ایک علامت بن چکا ہے اور اس احتجاج سے ترغیب لیتے ہوئے ملک کے تقریباً ہر شہر کے لوگ اسی طرح کا احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ اس احتجاج میں مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کے لوگ بھی اس کاحصہ بن چکے ہیں اور سبھی مل کر حکومت پر دباو ڈال رہے ہیں کہ اس متنازعہ قانون کو واپس لیا جائے۔

پچھلے کچھ عرصہ میں بی جے پی کو کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں شکست فاش ہوئی ہے جس نے حکمراں فریق کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا ہے اور اب دہلی میں بھی بی جے پی کو کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرپانے کی پیش گوئی نے بھگوا خیمے میں کہرام برپا کردیا ہے۔ان حالات میں بی جے پی کو عوامی مقبولیت کا گراف بہت زیادہ گرجانے اور ملک کے عوام حکومت کے خلاف زیادہ شدت سے اٹھ کھڑے ہونے کا ڈر ستانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کسی بھی قیمت پر پرامن احتجاج کو ختم کرنا چاہتی ہے اور دہلی اسمبلی انتخابات میں کسی بھی قیمت پر کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ صاف ہے کہ جس وقت سے امت شاہ، یوگی آدتیہ ناتھ اور دوسرے مرکزی وریاستی وزراء نے دہلی میں انتخابی مہم میں حصہ لینا شروع کیا ہے، تب سے انہوں نے فرقہ پرستی کا زہر گھولنا شروع کردیا ہے اور وہ رائے عامہ کو بی جے پی کے حق میں موڑنے کی کوششیں شروع کرچکے ہیں اور اس کے لئے سماجی ہم آہنگی سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ذریعہ دہلی میں فرقہ وارنہ نوعیت کی مہم کو ہوا دینے سے اشتعال انگیزی کا شروع ہوا سلسلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مرکزی وزراء کی جانب سے مساجد کو شہید کردینے، شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کردینے اور سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں کو گولی مار دینے جیسے بیانات شروع کردیئے گئے ہیں۔

مظاہرین کی طرف سے عصمت دری اور قتل کے اندیشوں کو تقویت دیتے ہوئے عوام کو ورغلانے اور اشتعال دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مرکزی وزیرمملکت انوراگ ٹھاکر کے ذریعہ’گولی مارو سالوں کو‘ بیان کے دو روز بعد ہی جامعہ نگرمیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معصوم طلباء کے پرامن احتجاج میں ایک پستول بردار انتہا پسند نے گولی چلا کر دہشت گردی کا مظاہرہ کیا تھا اور ایک طالب علم زخمی زخمی ہوگیا۔ پولس نے اس معاملہ میں کوئی کارروائی ایسی نہیں کی جس سے دوسروں کو سبق مل سکے، شاید یہی وجہ رہی کہ ہفتہ کوایک دیگر انتہا پسند نے شاہین باغ میں فائرنگ کرکے خاتون مظاہرین کونقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ یہ اندیشے ابتداء ہی سے ظاہر کیے جار ہے تھے کہ احتجاج میں تشدد کو برپا کیا جاسکتا ہے۔

دہلی پولس کو ایسے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ دو دن قبل ہی ایک شخص پکڑا گیا اس پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انتخابات کو حقیقی مسائل سے بھٹکاتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کے اندیشے بھی ظاہر کیے جا رہے تھے اور یہ اندیشے بے بنیاد بھی نہیں تھے۔ جس طرح سے شاہین باغ احتجاج کو ختم کروانے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور جس طرح سے ہر تقریر میں شاہین باغ کے تذکرے ہو رہے تھے اس کے مطابق پولس کو زیادہ چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ یہ اندیشے یقین میں بدل سکتے ہیں کہ یہ واقعہ دہلی انتخابات میں ہوا کا رخ بدلنے کی کوشش ہی ہوسکتا ہے اور اس پہلو سے بھی پولس کو انتہائی غیر جانبداری کے ساتھ تحقیقات کرتے ہوئے حقیقت کو منظر عام پر لانا چاہیے۔

Published: 2 Feb 2020, 7:11 PM