ملک کے محافظین سے حکومت کا امتیازی سلوک

انتخابات میں بی جے پی کے لیڈر فوج کی کارکردگی کو ’مودی کی کارکردگی‘ ثابت کرکے جذباتی عوام کا ووٹ حاصل کرنے کے جگاڑ میں رہتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

خواتین کومساوی حقوق دلانے اور انہیں خود مختار اورخود کفیل بنانے کے اپنے دعووں پر وزیراعظم نریندرمودی کتنے سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ مرکزی حکومت کے حالیہ بیان سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس میں بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ بری فوج میں کمانڈر اسامیوں کے لئے افسرعورتیں موزوں نہیں ہوں گی کیونکہ فوج میں موجود مرد عورتوں کی قیادت کو تسلیم کرنے کے لیے ابھی تک تیار نہیں ہوسکے ہیں۔ حکومت کی دلیل ہے کہ عورتوں کی گھریلو ذمہ داریاں بہت ہوتی ہیں اور سب سے بڑا خطرہ اس وقت آئے گا جب خواتین افسر جنگی قیدی بنالی جائیں گی۔ بعض خواتین افسروں نے مطالبہ کیا تھا کہ کمیشن ملنے کے بعد ان کو فوج کی کمانڈ کرنے کی ذمہ داریاں سپرد کی جائیں گی۔ اسی کی نفی کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے اپنی معروضات پیش کی تھیں۔

حکومت دلیل دے رہی ہے کہ فوج میں ہر سطح پر مرد بھرے ہوئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے اور ان علاقوں کی اپنی الگ پسند اور ناپسند ہوتی ہے۔ انہوں نے سماج کے ایسے معیار بنا رکھے ہیں جن میں فوج کے مرد عورتوں کو کمانڈر کے طور پر قبول کرنے کے لئے ابھی تک تیار نہیں ہوسکے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت کی طرف سے دلیل دی گئی ہے کہ تعیناتی کے معاملہ میں مردوں اور عورتوں کو ایک ہی پلڑے میں نہیں رکھا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی جسمانی ساخت مختلف قسم کی ہے۔ اس کے علاوہ حالات کا مقابلہ کرنے کا بھی معاملہ ہے ایسی صورت میں لڑائی کی کمان عورتوں کو نہیں دی جاسکتی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اگر عورتوں کو ان عہدوں پر تعینات کیا گیا تو مسلح افواج کی ہیئت بدل جائے گی اور عورتوں کو پیش آنے والے خصوصی حالات مثلاً استقرار حمل، زچگی اور بچوں کی پرورش بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی معروضات کی کاٹ کرتے ہوئے بی جے پی ایم پی مینا کشی لیکھی اور ایشوریہ بھٹی نے خواتین افسر کے وکیل کی حیثیت سے کہا کہ کئی عورتوں نے ناسازگار حالات میں غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون افسر منسٹی اگروال نے فلائٹ کمانڈر کی حیثیت سے جب ونگ کمانڈر ابھینندن نے پاکستان کے ایف16 طیارہ کو مار گرایا تھا تو انہوں نے بڑی خوبی سے ان کی رہنمائی کی تھی جس کے صلہ میں ان کو یدھ سیوا میڈل سے نوازا گیا تھا۔ اس سے بھی پہلے متالی مدھو میتا کو سینا میڈل دیا گیا تھا کیونکہ جب کابل کے ہندوستانی سفارت خانہ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا تو انہوں نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔

مرکزی حکومت کا بہرحال یہ کہنا تھا کہ مسلح فوج قربانی کا تقاضا کرتی ہے اور اس ضمن میں فوجی عملہ کے پورے خاندان کو اثرات کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ان میں قابل ذکر علیحدگی کا مسئلہ ہوتا ہے، برابر تبادلے ہوتے ہیں جس سے بچوں کی تعلیم پر برا اثر پڑتا ہے اور شوہر کی موجودگی بھی ایک مسئلہ ہوتی ہے۔ عورتوں کو حاملہ ہونے کی وجہ سے اور بعد میں بھی دیگر متعلقہ ضرورتوں کی وجہ سے فوج کی ڈیوٹی سے دور رہنا پڑتا ہے۔ اگر شوہر اور بیوی دونوں فوج میں ہیں تو مسائل اور بھی پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

فوج کے بیشتر کارناموں کا کریڈٹ لے کراپنی پیٹھ خود تھپتھپانے والی مودی حکومت ویسے توسرحدوں پرتعینات ملک کے محافظین اور صنف نازک کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کرتی رہتی ہے اور انتخابات میں بی جے پی کے لیڈر فوج کی کارکردگی کو ’مودی کی کارکردگی‘ ثابت کرکے جذباتی عوام کا ووٹ حاصل کرنے کی جگاڑ میں رہتے ہیں لیکن انتخابات کے بعد (حکومت ہو یا بی جے پی) ’جس کے نام پر ووٹ مانگ رہے تھے‘ انہیں جوانوں سے اگلے انتخابات تک منہ موڑ لیتے ہیں۔ حکومت کی عدم توجہی کا نتیجہ ہے کہ فوج میں خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

ان حالات میں ضروری ہے کہ بیان بازی سے اوپر اٹھ کر ملک کے محافظوں کے مسائل کا تدارک کیا جائے اور انہیں وہ سہولیات فراہم کی جائیں جن سے فوجیوں کو ذہنی کشیدگی سے نجات مل سکے۔

چند روز کی ہی بات ہے جب وزیراعظم نریندر مودی دہلی کے کڑ کڑ ڈوما علاقے میں ملک فوج کی حالت سدھارنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے تھے، اسی وقت سیاچن، لداخ اور ڈوکلام میں موجود ہندوستانی فوجیوں کو خوراک کی کمی، برف پر چمکتی تیز دھوپ سے بچنے کے لئے لگائے جانے والے مخصوص چشمے اور جوتے تک نہ مل پانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ 18 سے 32 ہزار فٹ بلندی والے سیاچن اور دوسرے برفیلے فارورڈ پوسٹ میں جوانوں کے پاس ان چیزوں کی کمی کی بات سی اے جی کی تازہ رپورٹ میں کہی گئی ہے جسے کچھ دن پہلے ہی راجیہ سبھا میں پیش کی گئی تھی۔

سی اے جی کی رپورٹ میں جو کہا گیا ہے وہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کسی بھی غیر متوقع صورت حال کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جوانوں کے پاس اس طرح کی چیزوں کی کمی پہلے بھی رہی ہے اور فوج کے پاس ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کی کمی کا معاملہ واضح طور پر 1999 کی کارگل جنگ کے وقت سامنے آیا تھا۔ کارگل کے16 سال بعد جنرل وی پی ملک نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ حالانکہ حالات تب سے بہتر ہیں لیکن فوج آج بھی اسلحہ اور دیگر سازو سامان کی کمی سے پریشان ہے۔

    Published: 6 Feb 2020, 6:30 PM