مودی حکومت نے ملک کی عزت خاک میں ملا دی...عبید اللہ ناصر

پنڈت نہرو سے لے کر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ملک کی جوعزت بنائی تھی وہ خاک میں مل گئی، عالمی برادری ہندوستان کے حالات پر تشویش میں مبتلا ہے- ملک شری لنکا اور شام بننے کے دہانہ پر کھڑا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

عبیداللہ ناصر

ہندوستان جب 1947 میں آزاد ہوا اس وقت ملک معاشی اور فوجی طور سے بیحد کمزور تھا، حالت یہ تھی ایک سوئی بھی ہمارے یہاں نہیں بنتی تھی پورا ملک بھکمری کے چپیٹ میں تھا، امریکا، آسٹریلیا، یوروپ کے دیگر ملکوں سے گیہوں آتا تھا تو گھروں میں ایک وقت چولہا جلتا تھا، ان حالات کے باوجود مہاتما گاندھی نے جنگ آزادی کے دوران ملک کو جو آدرش اور اصول دیئے تھے اور پنڈت نہرو نے جس دور اندیشی، ترقی پسندی رواداری امن اور پر امن بقائے باہم کے جن اصولوں پر نئے نئے آزاد ہوئے ملک کی تعمیر نو کا سلسلہ شروع کیا تھا وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کراہتی ہوئی دنیا کے لئے روشنی کی ایک کرن تھی، ٹھنڈے ٹھنڈے مرہم کا پھایہ تھی۔

برطانیہ، فرانس، اٹلی وغیرہ کی نو آبادیات اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ملکوں کے لئے مہاتما گاندھی کی قیادت میں لڑی گئی ہندوستان کی جنگ آزادی ایک مشعل راہ تھی جس سے فیضان حاصل کرکے ان ملکوں نے غلامی کی زنجیریں توڑیں۔ جواہر لعل نہرو نے پنچ شیل کا فلسفہ دنیا کے سامنے پیش کر کے سرد جنگ کو جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیا، اس زمانہ میں پنڈت نہرو کا نام ہی عالمی امن اور استحکام کی ضمانت تھا، یوروپ انھیں مسنجر آف پیس کے لقب سے یاد کرتا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے زیادہ ہندوستان جیسے غریب کمزور پسماندہ ملک کے وزیر اعظم کی باتیں عالمی برادری غور سے سنتی تھی اس پر عمل کرتی تھی۔ کوریا سویز کانگو جیسے نہ جانے کتنے عالمی مسائل جو تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ بن سکتے تھے اقوام متحدہ نے پنڈت نہرو کی خدمات حاصل کر کے انھیں جنگ سے بچایا۔

خود اپنے ملک میں تقسیم کا جو کاری زخم لگا تھا اور آبادی کے تبادلہ کے بعد آگ اور خون کی جو ہولی کھیلی جا رہی تھی اسے روکنے میں پنڈت نہرو کی پالیسیاں ہی نہیں ان کی جسمانی محنت سے بھی آج کی نسل بھلے ہی نہ واقف ہو لیکن آج سے دس سال پہلے تک دہلی میں وہ لوگ زندہ تھے اور اب بھی ہوں گے جنہوں نے خود پنڈت نہرو کو پولیس والوں سے لاٹھی چھین کر فسادیوں سے بھڑتے ہوئے دیکھا تھا۔ میں نے یہ واقعہ پاکستان کے ممتاز صحافی وسعت اللہ خان کے ایک مضمون میں پڑھا تھا۔ مذھب کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے بعد ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے، غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو جن میں اکثریت دلتوں اور مسلمانوں کی ہوتی، ووٹ کا حق نہ دینے یا ملک کو دس برسوں تک جمہوریت کے بجاۓ فوجی حکومت کے زیر انتظام رکھنے جیسے نہ جانے کتنے دباؤ پنڈت نہرو اور ان کی ٹیم پر تھے۔ لیکن پنڈت نہرو، مولانا آزاد، سردر پٹیل، ڈاکٹر امبیڈکر سمیت ہمارے روشن ضمیر بزرگوں نے جمہوریت سیکولرازم، مساوات، بالغ حق راۓ دہی، سائنسی مزاج جیسے ترقی پسند راستہ کو چنا اور اسی پر ہندوستان کی تعمیر نو کے لئے ایک آئین تیار کیا۔

ہمارے آئین میں حقوق انسانی کی ان تمام باتوں کو اقوام متحدہ کے حقوق این چارٹر سے بھی بہت پہلے شامل کر لیا گیا تھا۔ یہ تمام باتیں نہ صرف ہندوستانیوں کا سر فخر سے اونچا کرتی تھیں بلکہ عالمی برادری میں انھیں ایک اہم مقام بھی دلاتی تھیں، دنیا ہماری روشن خیالی، ترقی پسند جمہوریت، سیکولرازم، حقوق انسانی وغیرہ کے آدرشوں کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ ہندوستان امریکی اور سوویت بلاک سے الگ ایک نئے بلاک جسے تیسری دنیا یا ناوابستہ ممالک کھا جاتا تھا اور جو اقوام متحدہ کے بعد دنیا کے سب سے زیادہ ملکوں کی رکنیت والاگروپ تھا اس کا قائد بن چکا تھا۔

پنڈت نہرو کے بعد اندرا گاندھی سے لے کر اٹل جی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ تک ہمارے سبھی وزرائے اعظم نے ملک کی اس شاندار روایت کو برقرار رکھا اور عالمی برادری میں ہندوستان کی عزت اور شان میں اضافہ کرتے رہے، اسی دور میں اندرا گاندھی کے زمانہ میں شروع ہوئے سبز انقلاب نے نہ صرف ہندوستان سے بھوک کا صفایہ کر دیا بلکہ ہمارے کسان اتنا غلہ پیدا کرنے لگے کہ دوسرے ملکوں کو ایکسپورٹ بھی کرنے لگے تھے، بھکمری کے شکار افریقی ملکوں کو جہازوں میں بھر بھر کر گیہوں بھی بھیجتے تو ہمارے گوداموں میں اتنا غلہ ہوتا تھا کہ پانچ برسوں تک ہمیں کسی فکر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی لیکن آج ہندوستان دنیا کی بھکمری انڈکس میں سر فہرست سے کچھ ہی قدم دور ہے۔

2020 میں ہم نے اپنے اوپر سے ترقی پذیر ملک ہونے کا تمغہ ہٹا کر ترقی یافتہ ملک کا تاج پہننے کا فیصلہ کیا تھا ہم اس جانب تیزی سے گامزن تھے دنیا کی 6-7 بے حد تیز رفتار ترقی والی معیشتوں میں ہمارا شمار ہوتا تھا، ہم نے عالمی کساد بازاری کے جھٹکے کو آسانی سے جھیل لیا کیونکہ ہماری معیشت کی بنیادیں مضبوط تھیں، جبکہ امریکہ تک کی معیشت کی چولیں ہل گئی تھیں اور امریکی فیڈرل کو مداخلت کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا پڑا تھا۔ آج ہماری معیشت کی حالت یہ ہے کہ ملک معاشی طور سے بالکل کھوکھلا ہو چکا ہے، مودی حکومت نے پہلے ریزرو بینک سے ایک 76 ہزار کروڑ روپیہ زبردستی لے کرعالمی معاشی بازار میں اس کی ساکھ پر سوال کھڑا کرا دیا، پھر دوبارہ اس کی گردن پکڑ کر اس سے 45 ہزار کروڑ روپیہ لیا اور اب پھر دس ہزار کروڑ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ عالمی معاشی فنڈ نے الزام لگایا ہے کہ دنیا کے کئی ملکوں کی معیشت کو تباہ کرنے میں ہندوستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ ہماری ڈوبتی معیشت کا اثر ان پر پڑ رہا ہے۔ ملک میں بے روزگاری، کسانوں کی خود کشی، چھوٹے کاروباریوں کی تباہی، بنکوں کے دیوالیہ ہونے تک کی نوبت آ چکی ہے، لیکن حکومت کی ترجیحات میں ملک کی معاشی حالت سدھارنا عوام کو سہولیات فراہم کرنا ان کا معیار زندگی بہتر کرنا وغیرہ کچھ نہیں ہے۔ حکومت پوری طاقت سنگھ پریوار کا ایجنڈہ نافذ کرنے میں لگائے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان میں ایک زبردست سماجی بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ شاہین باغ جیسے احتجاجی مراکز پورے ملک میں پھیل گئے ہیں حکومت پوری طاقت ظلم اور بربریت کے ذریعہ انھیں کچل رہی ہے، بدنصیبی سے عدلیہ نے بھی اسے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک آزاد ملک اور آئینی حکومت کے شہری نہیں بلکہ کسی عرب تانا شاہ کی حکومت میں رہ رہیں ہیں۔

مودی حکومت اس کے وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلی کا رویہ جمہوری حکمرانوں والا نہیں بلکہ تاناشاہوں جیسا ہے کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ اس سے ان کا ووٹ بینک مضبوط ہو رہا ہے، حالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے، ان کی اس غیر جمہوری اور غیر آئینی حرکتوں سے سنگھ پریوار سے وابستہ عناصر بھلے ہی خوش ہو رہے ہوں، عام ہندوستانی دیکھ رہا ہے کہ احمقانہ اور فرقہ وارانہ قوانین بنا کر مودی حکومت ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہے، وہ اسے شری لنکا یا شام جیسا ملک بنانے پر تلی ہوئی ہے، جسے روکنے کی ذمہ داری عدلیہ پر عائد ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ عدلیہ اسی خطرناک کھیل کا حصّہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

آزادی کے بعد ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ عالمی برادری ہندوستان کے داخلی حالات پر تشویش ظاہر کر رہی ہے دنیا کے بڑے مشہور اور معتبر اخبارات ہندوستان میں حقوق انسان کی پامالی، اقلیتوں کے ساتھ سوتیلے سلوک اور مظالم کو لے کر پہلے پیج پر بڑی بڑی خبریں چھاپ رہے ہیں، اقوام متحدہ نے حقوق انسانی کی پامالی اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور مذہبی عدم رواداری پر رپورٹ جاری کی ہے، معاشی، سماجی اور سیاسی حالت کو لے کر ہندوستان نے روز اول سے اب تک جو نیک نامی نہرو سے لے کر اٹل جی اور منموہن سنگھ تک نے کمائی تھی وہ مٹی میں مل گئی۔ یہاں تک کہ اب تو جمہوریت کے معاملہ میں بھی ھندوستان ایک دم سے کئی پائدان نیچے آ گیا ہے، آرٹیکل 370 کا خاتمہ، جموں و کشمیر کے حصّہ کرنے سے لے کر شہریت ترمیمی قانون تک مودی حکومت نے تابڑ توڑ ایسے قدم اٹھائے ہیں جس سے عالمی برادری میں ملک کی ناک کٹ گئی ہے، لیکن مودی،امت شاہ، یوگی اور ان کے حامیوں پر شاید ہی اس بدنامی کا اثر ہو کیونکہ وہ اسی میں اپنا سیاسی فائدہ دیکھ رہے ہیں۔ مجموعی طور سے ملک معاشی، سماجی، سیاسی بربادی کے کگار پر کھڑا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جو پیش گوئی کی تھی کہ مودی کا وزیر اعظم بننا ملک کے لئے تباہ کن ہوگا وہ سچ ثابت ہو کے رہے گا۔