ایک نئے سفر کے لیے کمر باندھ لیجیے... ظفر آغا

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے لئے عرصہ حیات تنگ ہوچکا ہے۔ اس سے زیادہ پریشانیوں کا دور ہماری نسل نے آزاد ہندوستان میں کبھی نہیں دیکھا۔

ہندوستانی مسلمان، تصویر آئی اے این ایس
ہندوستانی مسلمان، تصویر آئی اے این ایس
user

ظفر آغا

آخر ہندوستانی مسلم اقلیت کرے تو کیا کرے، اور جائے تو جائے کہاں! کبھی بے جا شک پر لنچنگ، کبھی اذان پر اعتراض، کبھی جمعہ کی نماز نہ پڑھنے دی جائے، کبھی عین مسجد کے سامنے ہنومان چالیسا کا پاٹھ، کبھی حجاب پر اعتراض تو کبھی ان کی عورتوں کے خلاف عصمت دری کی دھمکی۔ فساد تو برسہا برس سے اس کی قسمت تھی ہی، کرفیو کی تو اس کو عادت ہے۔ جب ایسے حالات ہوتے تھے تو وہ بے چارہ گھر کے دروازے بند کر اپنے گھروں میں خود کو محفوظ کر لیتا تھا۔ لیجیے اب اس کا اپنا گھر بھی اس کی جائے پناہ نہ رہی۔ ابھی آپ نے دیکھا مدھیہ پردیش کے کھرگون میں کیا ہوا۔ سرکاری افسروں نے کھڑے ہو کر مکانوں کو گروا دیا۔ آج اس کالم کے لکھنے سے قبل صبح کا جب اخبار اٹھایا تو یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ ’دنگائیوں‘ کے خلاف گجرات میں بھی بلڈوزر کا استعمال شروع۔ یعنی اب مسلمان خود جان و مال سے جائے تو جائے ہی، لیکن اس کی موت کے بعد اس کے بیوی بچوں کے لیے اس کا مکان بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہ وہی حالات ہیں جو سنہ 1857 کی غدر کے بعد کتابوں میں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن اس وقت تو انگریز اس کو بغاوت کی سزا دے رہا تھا، لیکن اب اس نے کون سا گناہ کیا ہے!

کھرگون میں آپ جانتے ہیں کیا ہوا۔ وہاں رام نومی کا جلوس پولیس کی اجازت کے بغیر گھنی مسلم بستی میں در آیا۔ آخر پولیس نے ایک مقام پر جلوس کو روکا تو وہاں رک گیا۔ لیکن وہاں جلوس والوں نے کھڑے ہو کر مسلمانوں کو مغلظات گالیوں کے نعرے لگانے شروع کیے۔ بس پھر بلوا شروع ہوا۔ اور آپ جانتے ہی ہیں کہ پھر اس کے مکانوں پر بلڈوزر دوڑا دیئے گئے۔ صرف اتنا ہی نہیں، سڑکوں کے کناروں پر جو اس کی دکانیں تھیں وہ بھی ضبط کر لی گئیں۔ ہمارے ایک صحافی دوست کا کہنا ہے کہ دراصل اب مسلمانوں کے خلاف ’معاشی جہاد‘ شروع ہو گیا ہے۔ یعنی مسلمان کو نوکری تو میسر ہے نہیں، وہ سڑکوں کے کنارے پٹری پر چھوٹی موٹی دکان لگا کر اپنی زندگی چلانے کا انتظام کرتا ہے۔ دن رات، گرمی ٹھنڈ اور برسات جھیل کر پیسہ کماتا ہے۔ اب اس کی ریڑھی پٹری کی دکانوں پر بھی آفت ہے۔ ایسی خبریں محض کھرگون سے ہی نہیں بلکہ اور کئی شہروں سے مل رہی ہیں۔ یعنی جان کا خطرہ تو تھا ہی، اب اس کی دکان اور مکان بھی محفوظ نہیں۔ اسی لیے تو پوچھا آخر اس ملک کا مسلمان جائے تو جائے کہاں اور کرے تو کرے کیا!


اس سوال کا جواب نہ تو میرے پاس ہے اور نہ ہی شاید کسی اور کے پاس ہے۔ کیونکہ ملک میں ہندوتوا سیاست کی جو لہر چل رہی ہے اس کے آگے تقریباً ہر سیاسی پارٹی نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ ایک بیچارے راہل گاندھی کھڑے ہو کر آر ایس ایس کی مخالفت کرتے ہیں تو آر ایس ایس کا میڈیا ان کا جو حشر کرتا ہے اس سے آپ واقف ہیں۔ یعنی کم از کم ہندی بیلٹ میں مسلم اقلیت کو کہیں سے کوئی سیاسی سپورٹ بھی نہیں ملنے والا ہے۔ ان حالات میں وہ بھلا کیا کر سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سنہ 1930 کی دہائی اور اس سے بھی قبل جرمنی اور دیگر یوروپی ممالک میں جو نسل کشی یہودی کا مقدر بن گئی تھی وہی حال اس وقت مسلم اقلیت کا ہندوستان میں ہے۔ غالباً ہندوستانی مسلمان کو ان حالات میں وہی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جو یہودیوں نے یوروپ میں اختیار کی۔ اس وقت یہودیوں نے دو کام کیے تھے۔ ایک تو یوروپ کے مختلف ممالک سے نکل کر انھوں نے امریکہ ہجرت کا راستہ اختیار کیا۔ اسلام نے تو ایسے حالات میں ہجرت کی تلقین کی ہے۔ خود رسول کریمؐ پر جب اپنے وطن مکہ میں عرصہ حیات تنگ ہو گیا تو انھوں نے مدینہ ہجرت کی۔ اس طرح نہ صرف انھوں نے اپنی جان بچائی بلکہ اشاعت اسلام کا راستہ بھی نکال لیا۔ اس لیے ہندوستانی مسلمان کے پڑھے لکھے طبقے کو ہجرت اختیار کرنی چاہیے۔ کناڈا اور آسٹریلیا اس وقت دو ایسے ملک ہیں جہاں بڑی تعداد میں ہندوستانیوں کو پناہ مل سکتی ہے۔ اس سلسلے میں سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے اور ان ممالک کی ہندوستانی سفارت خانوں کی ویب سائٹ کا مطالعہ کر یہ سمجھنا چاہیے کہ ہجرت کی غرض سے کیا کاغذات اور کن دستاویزوں کی ضرورت ہے۔ ان کا انتظام کر فارم بھرنے چاہئیں۔ اس سلسلے میں کثیر مسلم آبادی والے محلے کے پڑھے لکھے لڑکے لڑکیوں کو ایک گروپ بنا کر ویب سائٹ کا مطالعہ کر لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ الغرض ہندوستان کی ناگفتہ بہ بے بسی کے حالات میں ہجرت کا راستہ اختیار کرنے میں ہی عقل مندی ہے۔

دوسرا اہم ترین راستہ جو بقا کے لیے ہو سکتا ہے، وہ ہے تعلیم کا راستہ۔ یہ راستہ بھی یہودیوں نے یوروپ کے مظالم سے بچنے کے لیے اپنایا تھا۔ تعلیم وہ شئے ہے کہ جس کی قدر دنیا میں ہر وقت ہر جگہ ہے۔ سب واقف ہیں کہ ہندوستانی مسلمان تعلیمی میدان میں دلت سے بھی پیچھے ہو چکا ہے۔ اس لیے بھوکے مریے یا جو بھی کیجیے، اپنے بیٹے-بیٹی دونوں کو ہر حال میں تعلیم دلوائیے۔ یہ وہ وقت ہے جب کہ اسکولوں اور کالجوں میں داخلے چل رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی ہر مسلم محلے میں ایک گروپ بنا کر اسکولوں میں داخلے کا فارم اور اس فارم کو بھرنے میں لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ جو بچے اور بیٹیاں دسویں اور بارہویں پاس کر چکے ہیں ان کو کسی اسکل یا کمپیوٹر کی تعلیم کے کورس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ دیکھیے اب بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں بے معنی ہو چکی ہیں۔ یہ کمپیوٹر کا دور ہے۔ آج کمپیوٹر اسکل کی ہی مانگ ہے۔ لہٰذا اس کی طرف رجوع کریں۔ اس دور میں ہر کام ’ای‘ ذریعہ سے ہو رہا ہے۔ اس لیے کمپیوٹر لٹریٹ وہ بھی کسی ڈگری کے ساتھ بنیے۔ اس سے روزی بھی ملے گی اور ہجرت کا کام بھی آسان ہوگا۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ اب اس ملک میں عرصہ حیات تنگ ہو چکا ہے۔ اس سے زیادہ پریشانیوں کا دور ہماری نسل نے آزاد ہندوستان میں کبھی نہیں دیکھا۔ لیکن ان حالات میں ہمت مت ہاریے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں ہے۔ خود رسول کریم کے مکی دور سے تعلیم اور حوصلہ حاصل کیجیے۔ جن باتوں کو اختیار کرنے کی نصیحت دی ہے، ان پر سنجیدگی سے غور اور عمل کیجیے۔ اللہ بہت مدد کرنے والا ہے۔ وہ آپ کی تھوڑی سی کوشش کا بڑا اجر دے گا۔ اٹھیے اور ایک نئے سفر کے آغاز کے لیے کمر کس لیجیے۔ بقول کیفی اعظمی ’کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Apr 2022, 10:11 AM