شیعہ بحیثیت مجموعی بی جے پی کے ساتھ نہیں

مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کر کے ان کو سیاسی طور پر منتشر کرنا اور ہندوؤں کو ہندوتوا کے نام پر متحد کر کے تھوک بھاؤ میں ان کے ووٹ حاصل کرنا بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی سیاسی میدان میں چوکا چھکا مارنے میں لا ثانی ہیں۔ کب کدھر سے چھکا مار دیں اور مخالفین دم بخود رہ جائیں کہا نہیں جا سکتا۔ انتخابی جلسوں کو خطاب کرتے ہوئے وہ چاہیں تو تکشیلا پاکستان سے بہار لے آئیں یا سکندر سے آسام فتح کرا دیں، اگر چاہیں تو ملکی معیشت سے 85 فیصدی رقم چشم زدن میں غیر قانونی قرار دے کر پورے ملک کو بینکوں کے سامنے لائین میں کھڑا کر دیں۔ جب جس جلسہ میں شریک ہوتے ہیں وہاں بچپن میں ویسا بننے کی اپنی نامکمل خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی انہی نا مکمل خواہشوں کے سلسلہ میں فیس بک پر ایک شخص نے بڑا دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا ’’خدا کا شکر ہے مودی جی اب تک خواجہ سراؤں کے جلسہ میں نہیں گئے۔‘‘

اپنے انہی چوکوں چھکوں کے سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے مودی جی گزشتہ دنوں اندورمیں بوہروں کی سیفی مسجد میں گئے۔ ان کا یوں مسجد میں جانا کوئی بڑی بات نہ ہوتی اگر وہ اپنے دیگر پیش روو ٔں کی طرح سبھی مذاہب کے جلسوں اور عبادت گاہوں میں جاتےرہتے۔ یہ ہندوستان کے سیکولر زم اور یہاں کی ر وایتی ’سرو دھرم سمبھاؤ‘ کی مثال ہوتی لیکن خود کو ہندو ہردے سمراٹ بنانے کے چکّر میں وہ ایسے شعبدوں سے دور ہی رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے ہی ایک جلسہ میں انہوں نے ٹوپی پہننے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ یہی مودی جی جب سیفی مسجد گئے تو نہ تو اسے ایک سربراہ مملکت کی رواداری کے طور پر دیکھا گیا اور نہ ہی اسے بوہروں سے کسی محبت کے طور پر بلکہ اسے خالص سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد سبرامنیم سوامی کے اس فارمولہ پر عمل کرنا ہے کہ سیاسی طور پر مسلمانوں کو منتشر کرنا اور ہندوؤں کو متحد کرنا ہی بی جے پی کی کامیابی کا تیر بہ ہدف نسخہ ہے ۔ بی جے پی اس فارمولہ پر اول دن سے عمل کر رہی ہے۔ اس کے لئے وہ شیعوں اور صوفیوں پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ گزشتہ دنوں شیعہ صوفی کانفرنس اسی سلسلہ کی کڑی تھی جس میں دونوں نے مسلمانوں کےایک خاص مسلک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ہی سارے مسائل کی جڑ بتایا تھا ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مدھیہ پردیش اسمبلی کے الیکشن ہونے والے ہیں جہاں بی جے پی کی حالت پتلی ہے۔ مودی جی نے وہاں کے بوہرہ ووٹروں پر ڈورے ڈالنے کے لئے یہ سیاسی قدم اٹھایا ہے جومدھیہ پردیش میں بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور معاشی طور سے کافی مضبوط ہیں ۔ ورنہ جو بوہرے اپنا ہر کام اور گفتگو گجراتی میں کرتے ہوں ان کے اجلاس میں مودی جی نے ہندی میں تقریر کیوں کی؟شیعوں اور صوفی یا بریلوی مسلمانوں کے اگر کچھ فیصد ووٹ بھی بی جے پی کو مل جائیں تو اول تو اس کی امیج سدھرے گی، دوم یہ ووٹ اس کی ڈوبتی ناؤ بھی پار لگا سکتے ہیں۔

یوں تو ہزاروں مسلمان بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہیں جن میں سنی شیعہ دونوں مسلکوں کے لوگ ہیں۔ مختار عباس نقوی مرکزی وزیر ہیں تو سید شاہنواز حسین قومی ترجمان۔ اتر پردیش میں محسن رضا بھی وزیر مملکت ہیں۔ اس سے قبل مرحوم اعزاز رضوی اتر پردیش کابینہ میں تھے۔ ان کے انتقال کے بعد انکی بیٹی پروفیسر شیمہ رضوی بھی کابینہ میں رہیں۔ ان کی بہت کم عمر میں موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اتر پردیش میں بی جے پی بر سر اقتدار بھی نہیں آ پائی تھی۔ ریاست کی موجودہ بی جے پی سرکار میں اعزاز صاحب مرحوم کی بیوہ اور شیمہ رضوی مرحومہ کی والدہ پروفیسر آصفہ زمانی صاحبہ اتر پردیش اردو اکیڈمی کی چیر پرسن ہیں جس کا رتبہ وزیر مملکت کا ہوتا ہے۔ مرحوم سکندر بخت اور محمد عارف صاحبان جن سنگھ کے بعد بنی بی جے پی کے بانی ممبروں میں سے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی تمام تر اور اعلان شدہ مسلم دشمنی کے باوجود مسلمان بی جے پی میں شامل ہوتے رہے ہیں اور عہدے بھی پاتے رہے ہیں لیکن کسی مسلم لیڈر نے کبھی اپنی حرکتوں اور بیانوں سے عام مسلمانوں کی وہ دل آزاری نہیں کی جوریاستی وزیر مملکت محسن رضا ، شیعہ وقف بورڈ کے موجودہ چیرمین وسیم رضوی اور کبھی ملایم سنگھ یادو کی آنکھ کا تارا رہے بقل نواب نے کی ہے۔ اور روز کسی نہ کسی طرح سے کرتے ہی رہتے ہیں۔ لکھنؤ کے شیعہ اکثریتی محلوں میں بی جے پی کی حمایت والے پوسٹر بھی دکھائی دے جاتے ہیں، لیکن مجموعی طور سے دیکھا جائے تو 10 فیصد شیعہ بھی بی جے پی کے حامی نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی لکھنؤ میں شیعہ حضرات کا ایک طبقہ بی جے پی کو ووٹ دیتا رہا ہے لیکن عام طور سے یہ ووٹ بی جے پی کے سینئر لیڈر لال جی ٹنڈن کے ذاتی تعلقات کی بنا پر اسے جاتے تھے، پارٹی وابستگی کی بنا پر نہیں۔

وسیم رضوی، بقل نواب اور کچھ پوسٹر باز شیعہ لیڈروں کی وجہ سے جو یہ غلط فہمی پھیل رہی تھی کہ شیعہ بی جے پی کے حامی ہیں اور جسے پھیلانے میں لکھنؤ کے شیعہ مخالف سنیوں کا بھی نمایاں کردار رہا ہے، اسے دور کرنے کے لیے کانگریس کے بزرگ لیڈر اور جگت چچا بن چکے امیر حیدر ایڈوکیٹ نے ایک پہل کی اور گزشتہ دنوں لکھنؤ کے مہاتما گاندھی آڈیٹوریم میں ’ملک کے موجودہ حالات اور شیعوں کے نقطہ نظر‘ کے عنوان سے ایک نمایندہ جلسہ منعقد ہوا جس میں سماج کے ہر طبقہ سے وابستہ شیعہ حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں دوسری پارٹیوں میں سرگرم شیعہ لیڈران بھی شامل تھے۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں امیر حیدر ایڈووکیٹ کے علاوہ صحافی بابر نقوی علی، کانگریس کی صدر روبینہ مرتضی، جنرل سیکرٹری اصغر مہدی، سماجی کارکن عباس نگار اور عوام موومنٹ میں جنرل سکریٹری رفعت فاطمہ وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا۔ کا نفرنس میں شیعوں کے تعلیمی و معاشی مسائل پر بھی غور ہوا لیکن لب و لباب بہر حال سیاسی معاملات ہی رہے اور زیادہ تر مقررین نے شیعہ پولیٹکل کانفرنس کو زندہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

در اصل مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کر کے ان کو سیاسی طور پر منتشر کرنا اور ہندوؤں کو ہندوتوا کے نام پر متحد کر کے تھوک بھاؤ میں ان کے ووٹ حاصل کرنا بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اٹل جی کے زمانہ میں مسلمانوں کو بی جے پی کی طرف راغب کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی تھی - جنتا پارٹی میں پھوٹ پڑنے کے بعد سابقہ جن سنگھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام سے زندہ کیا گیا تھا اور اسے نیا رنگ روپ دینے اور سابقہ جن سنگھ کی سخت گیر فرقہ پرستانہ پالیسیوں سے اسے الگ دکھانے کے لئے اس کا ڈھانچہ ہی نہیں بنیادی پالیسی بھی بدلنے کی کوشش کی گئی۔ معاشی پالیسی میں اسے زیادہ عوام حامی دکھانے کے لئے گاندھیائی سوشلزم اور سماجی اعتبار سے اسے زیادہ قابل قبول بنانے کے لئے حقیقی سیکولرزم کی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی لئے پارٹی کے جھنڈے میں زعفرانی رنگ کے ساتھ ایک ہری پٹی بھی رکھ دی گئی ۔ لیکن یہ سب زیادہ دن چل نہیں پایا۔ اٹل جی نے تو اس پر عمل کرنے کی کوشش کی لیکن زیادہ سیاسی کامیابی نہیں حاصل کر سکے کیونکہ پارٹی میں سبھی اٹل بہاری واجپئی نہیں تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف پارٹی اپنے اصل رنگ پر واپس آ گئی بلکہ اٹل جی کو صدر کے عہدہ سے بھی ہٹنا پڑا۔ اڈوانی جی کے صدر بنتے ہی پارٹی سخت گیر ہندو تو کی طرف واپس آ گئی۔ ایودھیا تحریک نے پارٹی کو فرش سے عرش پر پہنچا دیا۔ لیکن اس کا حقیقی ووٹ بینک کبھی اتنا نہیں بڑھ پایا کہ اپنے دم پر بر سر اقتدار آ سکے۔ یہ کارنامہ نریندر مودی نے کر دکھایا اور 2014 میں بی جے پی اپنے دم پر لوک سبھا میں مکمل اکثریت کے ساتھ بر سر اقتدار آئی۔ لیکن اسے احساس تھا کہ ووٹ اس آندھی کے نام ہیں جو اس کی جھولی میں کانگریس کی کمزوری کی وجہ سے گر ے ہیں ۔ کیونکہ مسلم ووٹ اسے بہت کم ملے تھے۔ 20 فیصدی مسلم ووٹوں کو نظر انداز کرنا یعنی ان کا مجموعی طور سے کسی ایک بی جے پی مخالف پارٹی کو ملنا بی جے پی کے مستقبل کے منصوبوں کو خاک میں ملا سکتا ہے۔ اسی لئے مسلم ووٹروں کو منتشر کرنے کے لئے اس نے شیعہ-سنی-بریلوی-دیوبندی اختلافات کو ہوا دینے کی پالیسی اپنائی۔ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے لئے رسوائے زمانہ سبرامنیم سوامی نے کھلے عام مسلم ووٹروں کو منتشر کرنے اور ہندو ووٹروں کو متحد کرنے کی پالیسی کی وکالت کی۔ اس کے لئے شیعہ-سنی میں تفریق کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ مرکز میں سید شاہنوازحسین کو نظر انداز کر کے مختار عباس نقوی کو ترجیح دی گئی اور اتر پردیش میں سیاسی میدان کے غیر معروف کھلاڑی محسن رضا کو وزیر مملکت بنایا گیا۔ سیاسی رنگ بدلنے میں گرگٹوں کو بھی شرمندہ کرنے والے شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین نے اتر پردیش میں بی جے پی کے بر سر اقتدار آتے ہی نہ صرف بی جے پی سے اظہار وفاداری کی بلکہ دل آزار بیان دینے میں پروین توگڑیا اور ونے کٹیار جیسوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اسی طرح کبھی ملایم سنگھ کے لئے گردن کٹوا دینے کا دعویٰ کرنے والے بقل نواب نے بھی بی جے پی کا دامن تھام لیا۔ واضح رہےکہ شیعہ اوقاف کی زمینوں میں کروڑوں کی خرد برد کرنے کے الزام میں وسیم رضوی اور ریوڑ فرنٹ کی تعمیر اور زمین کا معاوضہ لینے کے معاملہ میں بقل نواب کی گردن پھنسی ہے جس سے بچنے کے لئے انہوں نے بھی بی جے پی کا دامن تھاما ہے۔ لکھنؤ کے شیعوں کی اکثریت اب بھی بی جے پی کی ویسے ہی مخالف ہے جیسے سنی مخالف ہیں۔

یہ بھی دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ بی جے پی کی مخالفت صرف مسلمان ہی نہیں کرتے بلکہ ہندوؤں کی اکثریت بھی بی جے پی کی فرقہ وارانہ پالیسی کی مخالف ہے اور ہر مشکل گھڑی میں مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ ہندستان کے سیکولر جمہوری ملک کے طور پر برقرار رکھنے کی اصل ضمانت تو یہی ہندو لوگ ہیں۔ ان حالات میں بی جے پی کی جانب سے جو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شیعوں کی حمایت اسے حاصل ہے، اسے توڑنے میں لکھنؤ کی اس کانفرنس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول